بھابی کو سلام، بچوں کو پیار!

رات کے ڈھائی بجے میں گہری نیند سے اچانک بیدار ہو گیا اور پھر بے اختیار میرے قہقہے بلند ہوگئے۔

مٹھو آٹھویں تک میرا کلاس فیلو رہا۔ پھر اپنے والد صاحب کے میڈیکل اسٹور پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ شروع شروع میں اُسے دوائیوں کے نام پڑھنے میں مشکل پیش آتی تھی لیکن دھیرے دھیرے ایکسپرٹ ہو گیا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد سارا میڈیکل اسٹور اُس کے ہاتھ آگیا۔ موصوف نے پہلا کام تو یہ کیا کہ منرل واٹر کی بوتلوں کا پلانٹ گھر میں لگا لیا، یعنی صحن میں ایک ٹونٹی لگوائی اور دو بچے اِس کام پر لگا دیے کہ وہ خالی بوتلوں میں پانی بھی بھرتے تھے اور کاویے سے ڈھکن پر ٹانکے بھی لگا دیتے تھے۔ یوں سادہ پانی مشہور برانڈ کے منرل واٹر کی بوتل میں فروخت ہونے لگا۔ دوسرا کام اُس نے یہ کیا کہ میڈیکل ریپ سے رابطے کیے اور دوائیوں کے ناقابل فروخت سیمپل ڈبی سے نکال کر اصل قیمت پر فروخت کرنے لگا۔ ظاہری بات ہے کاروبار میں اتنی محنت اور جانفشانی دکھائی جائے تو وارے نیارے کچھ ہی دنوں میں نظر آجاتے ہیں۔ مٹھو نے گاڑی بھی خرید لی، گھر بھی بنا لیا اور پراپرٹی کے کام میں بھی قدم رکھ دیا۔ قبلہ چار پلاٹ خریدتے تھے اور آٹھ بندوں کو فروخت کرتے تھے۔ قانونی معاملات سے بچنے کے لئے انہوں نے ایک بہترین وکیل بھی رکھ لیا۔ دولت کی فراوانی ہوئی تو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کا جنون اٹھا۔ سب کچھ موجود تھا لہٰذا شہر سے باہر سو ایکڑ زمین خریدی اور وہاں ایک بہت بڑی سوسائٹی کھڑی کردی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس سوسائٹی کا مالک مٹھو نامی ایک مڈل فیل شخص ہے، سب یہی جانتے تھے کہ یہ حاجی صاحب کی سوسائٹی ہے۔ مٹھو ہوائوں میں اڑ رہا تھا کہ ایک دن سب کچھ بدل گیا۔ اُس کے وکیل کا ضمیر ایک دن جاگ گیا اور اُس نے سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے مٹھو نے راتوں رات باہر کا ٹکٹ کٹوایا اور انگلینڈ نکل گیا۔ کچھ سال پہلے اُس نے فیس بک پر مجھے میسج بھیجا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ مجھے بھولا نہیں تھا۔ ہماری گپ شپ شروع ہوگئی۔ اُس کے بعد اُس کا معمول بن گیا کہ وہ ہر دوسرے تیسرے دن مجھے واٹس ایپ پر کال کرتا۔ حیرت انگیز طور پر دُنیا جہان کی دونمبری میں ملوث مٹھو انگلینڈ جاتے ہی وطن کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔ اُس کے بقول اُس نے پاکستانی چینل سبسکرائب کیے ہوئے ہیں اور انگریزوں سے میل جول نہ ہونے کے برابر رکھا ہوا ہے۔ مٹھو نے بتایا کہ وطن کی محبت اُس کے انگ انگ سے پھوٹتی ہے اور جب وہ پاکستان میں کوئی بھی بدنظمی یا حالات کی خرابی دیکھتا ہے تو اُس کا دِل بہت کڑھتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے پوچھ ہی لیا کہ تم تو اپنے تئیں وطن کا بیڑا غرق کرکے نکلے ہو پھر وطن سے محبت کے یہ دعوے کیسے؟ وہ ہمیشہ کی طرح غصے میں آگیا ’’وطن سے محبت کو تم کیا سمجھو گے…میں آج بھی پاکستان کیلئے زرمبادلہ بھیجتا ہوں‘‘، میں چونک اٹھا ’’کون سا زرمبادلہ؟‘‘۔ مٹھو نے دانت پیسے ’’وہ جو ہم لوگ پاکستان میں پیسے بھیجتے ہیں پاکستان اُسی سے چلتا ہے‘‘۔ میں نے کنپٹی کھجائی ’’مٹھو یہ پیسے تم اپنے بیوی بچوں کو بھیجتے ہو یا پاکستان کو؟‘‘۔ مٹھو گرجا ’’ظاہری بات ہے بیوی بچوں کو بھیجتا ہوں لیکن اُس کا جو ٹیکس کٹتا ہے وہ پاکستان کے حصے میں ہی آتا ہے‘‘۔ میں نے ہنکارا بھرا ’’گویا اگر تمہارے بیوی بچے دبئی میں رہتے تو تم نے یہ پیسے دبئی بھیجنے تھے؟‘‘۔ مٹھو بھڑک اٹھا اور فون بند کردیا۔ مٹھو کو چونکہ انگلینڈ کی نیشنلیٹی مل چکی تھی لہٰذا اس نے کچھ عرصہ بعد اپنے بیوی بچوں کو بھی انگلینڈ بلا لیا۔ اب مٹھو، اسکے تین بچے اور بیوی انگلینڈ میں ہی رہتے ہیں۔ مٹھو انگلینڈ میں ایک گروسری اسٹور کا مالک ہے۔ انتہائی آرام دہ زندگی گزارتا ہے۔ شام کو دوستوں کیساتھ بار میں سیاسی گفتگو سے لطف اندوز ہوتا ہے اور رات کو پاکستانی ٹی وی چینل دیکھتا ہے۔ اگرچہ اب مٹھو کی طرف سے پاکستان کو ’زرمبادلہ‘ نہیں آتا لیکن بہرحال وہ اب بھی پاکستان کے لئے بہت بے چین رہتا ہے۔ پرسوں رات اڑھائی بجے فون کی بیل ہوئی۔ گہری نیند میں تھا اس لئے پتا نہیں چلا لیکن مسلسل بیل ہوتی رہی تو مجبوراً اٹھنا ہی پڑا۔ دوسری طرف مٹھو تھا۔ میں نے ہیلو کہا تو اس کی لگ بھگ رونے والی آواز آئی ’’یہ کیا ہورہا ہے…خدا کے لئے میرے ملک کو بچا لو‘‘۔ میں ہڑبڑا گیا۔ جلدی سے بیڈر وم سے نکل کر لائونج میں آیا۔ پتا نہیں کیا ہو گیا تھا۔ جلدی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟۔ مٹھو بھرائے ہوئے لہجے میں بولا ’’نقلی دودھ، نقلی دوائیاں، نقلی ڈاکٹر…یار یہ سب کیا ہے، یقین کرو میں کل سے بہت بے چین ہوں‘ تم لوگ کیسے وہاں جی رہے ہو‘۔ میرے بے اختیار قہقہے بلند ہو گئے ’’مٹھو جانی! بائی دا وے تمہارا اِس ملک میں کیا اسٹیک پر لگا ہوا ہے؟ تم اور تمہارے بیوی بچے باہر رہتے ہو۔ تمہارا اس ملک سے سوائے اِسکے کیا تعلق ہے تم یہاں پیدا ہوئے، یہاں پلے بڑھے۔ تمہارا ناسٹیلجیا ہی تمہارا تعلق ہے۔ محترم! باہر شفٹ ہونے کے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود میں یہیں رہتا ہوں، بیوی بچے بھی یہیں ہیں۔ براہ کرم ہر وقت یہ ثابت کرنے میں نہ لگے رہا کرو کہ وطن کا پیار صرف تمہارے دل میں ہے۔ ہم تمام تر مجبوریوں کے باوجود پاکستان میں رہتے ہیں، تمہارے دل میں بھی ایسا پیار ہے تو واپس آجائو‘‘۔ مٹھو میری بات سن کر غصے میں آگیا ’’طعنے نہ دو، ہم شوق سے باہر نہیں آئے، ہماری بھی مجبوریاں ہیں‘‘۔ میں نے جماہی لی ’’بالکل ہوں گی لیکن جب مجھے فون کرتے ہو تو وہاں کے حالات بتایا کرو، وہاں کے رونے رویا کرو۔ نیشنلیٹی وہاں کی لے لی ہے اور جان یہاں والوں کی عذاب میں ڈال رکھی ہے۔ جیسے تم مجھ سے بہتر انگلینڈ کے حالات جانتے ہو اسی طرح یہاں کیا ہورہا ہے یہ میں تم سے بہتر جانتا ہوں۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود میں یہاں بہت خوش ہوں، تم بھی خوش رہا کرو۔ بھابی کو سلام، بچوں کو پیار۔ خداحافظ!

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *