فزکس کا نوبل انعام: ارتقائے کائنات اور نظامِ شمسی سے باہر سیاروں کے نام

اسٹاک ہوم: اس سال فزکس کا نوبل انعام تین سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر ایسی تحقیقات کے اعتراف میں دیا جارہا ہے جن کے نتیجے میں ہم کائنات کے ارتقاء کو، اور کائنات میں اپنے مقام کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوئے۔

اس سال کے نوبل انعام برائے طبیعیات میں جیمس پیبلز کو نصف حصے کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ بقیہ نصف حصہ ڈاکٹر مائیکل میئر اور دیدیئر کیلوز میں مساوی تقسیم کیا جائے گا۔ اس سال نوبل انعام کی رقم 90 لاکھ سوئس کورونا ہے، جو تقریباً 14 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی روپے کے مساوی بنتی ہے۔

ہر طرف پھیلے ہوئے کائناتی پس منظر کی وضاحت

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جیمس پیبلز کا شمار 1970 کی دہائی کے اُن سائنسدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کائنات کو سمجھنے میں اہم پیشرفت کی۔ اگرچہ اس سے پہلے آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن ’’کائناتی خرد موجی پس منظر‘‘ (کوسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ) دریافت کرچکے تھے لیکن پیبلز نے جہاں کائنات کی ابتداء اور ارتقاء کے بارے میں بہت سی باتیں کہیں، وہاں انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ کائناتی خرد موجی پس منظر اصل میں اس وقت کی یادگار ہے جب کائنات کا بیشتر مادّہ قیام پذیر ایٹموں کی شکل میں آیا، جس کے نتیجے میں بہت زیادہ توانائی آزاد ہوئی اور پوری کائنات میں ہر جگہ پھیل گئی۔

کائناتی خرد موجی پس منظر، بگ بینگ کے تقریباً تین لاکھ سال بعد وجود میں آیا تھا لیکن مسلسل کائناتی پھیلاؤ کی وجہ سے ان لہروں کی لمبائی بھی بڑھتی چلی گئی اور آج یہ مائیکروویوز میں تبدیل ہوچکی ہیں… جنہیں ہم ’’کوسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، جو پوری کائنات میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ اسی پس منظر کا مطالعہ کرکے آج ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ابتدائے کائنات کی باریک ترین جزئیات کا پتا لگا سکیں۔

اوّلین ماورائے شمسی سیاروں کی دریافت

سوئٹزر لینڈ کے مائیکل میئر اور دیدیئر کیلوز کو اس سال نوبل انعام برائے طبیعیات کے بقیہ نصف حصے کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں ماہرین نے 1995 میں پہلی بار کسی دوسرے ستارے کے گرد گھومتے ہوئے سیارے دریافت کیے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلا سیارہ ’’51 پیگاسی بی‘‘ دریافت کیا تھا جو ہم سے 50 نوری سال دوری پر ’’51 پیگاسی‘‘ نامی ایک سیارے کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

اس سے پہلے تک ہمیں یقین تو تھا کہ ہمارے نظامِ شمسی کی طرح دوسرے ستاروں کے گرد بھی سیارے گردش کرتے ہوں گے لیکن تب تک ہم ایسا کوئی سیارہ دریافت نہیں کر پائے تھے۔

اپنی اوّلین دریافت کےلیے انہوں نے کسی ستارے کی حرکت میں ہونے والی اُس ڈگمگاہٹ کو بنیاد بنایا جو اُس کے گرد تیزی سے چکر لگاتے ہوئے کسی سیارے کی کششِ ثقل (گریوی ٹیشنل اٹریکشن) کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

اس دریافت کی تفصیلات جیسے ہی منظرِ عام پر آئیں تو ساری دنیا میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ تب سے لے کر آج تک ہم اپنے نظامِ شمسی سے باہر 4,000 سے زیادہ سیارے دریافت کرچکے ہیں جن میں چند ایسے بھی ہیں جہاں زندگی موجود ہونے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ غرض مائیکل میئر اور دیدیئر کیلوز کی یہ دریافت ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ہر 27 مہینوں میں دریافت شدہ ماورائے شمسی سیاروں (ایگزو پلینٹس) کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے۔

فزکس (طبیعیات) کے نوبل انعامات: دلچسپ تاریخی حقائق

  • 1901 سے 2018 تک طبیعیات/ فزکس کے شعبے میں 112 مرتبہ نوبل انعامات دیئے گئے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران 6 سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا: 1916، 1931، 1934، اور 1940 سے لے کر 1942 تک۔
  • ان 118 سال میں کُل 210 افراد کو نوبل انعام برائے طبیعیات دیا جاچکا ہے جن میں سے جون بیرڈین وہ واحد سائنسدان تھے جنہوں نے اسی زمرے میں دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔
  • فزکس کے ان 210 نوبل انعام یافتگان میں صرف میری کیوری، ماریا جیوپرٹ مائر اور ڈونا اسٹرکلینڈ وہ تین خواتین سائنسدان رہیں جنہوں نے یہ انعام حاصل کیا۔
  • اگرچہ جون بیرڈین نے دو مرتبہ فزکس کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کیا لیکن میری کیوری کا منفرد اعزاز یہ ہے کہ انہیں 1903 کا نوبل انعام طبیعیات میں جبکہ 1911 کا نوبل انعام برائے کیمیا (کیمسٹری) دیا گیا۔
  • ان میں سے 47 نوبل انعامات برائے طبیعیات ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے)؛ 32 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ طبیعیات کے 33 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو ایک ساتھ شریک قرار دیا گیا۔
  • نوبل اسمبلی کے دستور کے مطابق کوئی بھی ایک نوبل انعام تین سے زیادہ افراد میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
  • 2018 تک طبیعیات (فزکس) کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر تقریباً 58 سال رہی ہے۔
  • فزکس کے شعبے میں سب سے کم عمر سائنسداں ولیم لارنس براگ تھے جنہوں نے صرف 25 سال کی عمر میں یہ انعام حاصل کیا۔ وہ اپنے والد سر ولیم ہنری براگ کے ساتھ 1915 کے نوبل انعام برائے طبیعیات میں مساوی طور پر شریک قرار دیئے گئے تھے۔
  • اسی زمرے کے سب سے عمر رسیدہ سائنسداں ریمڈ ڈیوس جونیئر تھے جنہیں 2002 میں نوبل انعام برئے طبیعیات دیا گیا؛ تب ان کی عمر 88 سال تھی۔
  • نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلیے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
  • 1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔ 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے۔
  • کیوری خاندان کو ’’نوبل گھرانہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پہلے میری کیوری اور ان کے شوہر پیری  کیوری نے 1903 میں فزکس کا نوبل انعام مشترکہ طور پر (ہنری بیکرل کے ہمراہ) حاصل کیا؛ جبکہ ان کی ایک بیٹی آئرین جولیٹ کیوری بھی اپنے شوہر فریڈرک جولیٹ کے ساتھ 1935 کے نوبل انعام  برائے کیمیا کی حقدار قرار دی گئی تھیں۔ یوں اس ایک خاندان نے مجموعی طور پر 5 نوبل انعامات جیتے کیونکہ میری کیوری کو 1911 میں بھی کیمسٹری کا نوبل پرائز دیا گیا تھا۔
  • باپ اور بیٹے فزکس کے نوبل انعام یافتگان: ان میں ولیم براگ اور لارنس براگ کو 1915 میں ایک ساتھ نوبل انعام دیا گیا؛ نیلز بوہر نے 1922 میں جبکہ ان کے بیٹے آگی نائلز بوہر نے 1975 میں فزکس کا نوبل پرائز جیتا؛ مین سائیگبان نے 1924 میں جبکہ ان کے بیٹے کائی ایم سائیگبان نے 1981 کے نوبل انعام برائے طبیعیات میں حصہ پایا؛ جبکہ مشہورِ زمانہ سر جوزف جون تھامسن (جے جے تھامسن) نے 1906 میں فزکس کا نوبل پرائز جیتا اور 1937 میں ان کے بیٹے جارج پیگٹ تھامسن نے بھی اس شعبے کا نوبل انعام  اپنے نام کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *