The Longest Day

بعض فقرے، بعض جملے حتیٰ کہ بعض اشعار بھی Self Explainatory ہوتے ہیں، اپنی وضاحت آپ۔ ان کی تشریح و توضیح، ان پر تبصرہ و تجزیہ ضروری نہیں ہوتا۔ ہمارے خیال میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے ٹی وی انٹرویو کے یہ الفاظ بھی کسی تبصرے کے محتاج نہیں تھے کہ میاں محمد نواز شریف کے گرد چار پانچ بندے نہ ہوتے تو وہ چوتھی بار بھی وزیر اعظم ہوتے... نواز شریف، نثار علی خان ہی کی بات مان لیتے تو مسئلہ ٹھیک ہو سکتا تھا۔ بعض احباب کو شکایت ہے کہ ہم نے گزشتہ کالم میں وزیر داخلہ کے یہ الفاظ ''کوٹ‘‘ کئے اور کسی تبصرے کے بغیر آگے بڑھ گئے۔ بریگیڈیئر صاحب فوج میں حساس ترین مناصب کے علاوہ جنرل مشرف کے دور میں انٹیلی جنس کے سول ادارے آئی بی کے سربراہ بھی رہے۔ اس دوران ''پولیٹیکل انجینئرنگ‘‘ میں بھی ان کا کردار کلیدی رہا۔ میاں نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم نہ بننے (اور پرائم منسٹر ہائوس کی بجائے پہلے اڈیالہ اور اب کوٹ لکھپت جیل میں ہونے )کا سبب وہی تھا جو بریگیڈیئر صاحب نے بیان فرمایا تو پھر پانامہ کیا تھا؟ اقامہ کیا تھا؟ لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور جدے کی العزیزیہ کے ریفرنس (اور ان میں ملنے والی سزائیں) یہ سب کیا تھا؟
یہاں ہمیں جنرل پرویز مشرف کا بی بی سی سے انٹرویو یاد آیا۔12 اکتوبر 1999 کے ٹیک اوور کے حوالے سے ایک سوال پر جنرل صاحب کو کسی وضاحت، کسی معذرت کی بجائے صاف اور سیدھی بات کہنے میں کوئی عار نہ تھی کہ وہ مجھے برطرف نہ کرتا تو آج بھی وزیر اعظم ہوتا‘ جبکہ ایڈیٹروں اور سینئر اخبار نویسوں سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا: اُس نے مجھے دھکا دینے کی کوشش کی تو میں نے اسے دھکا دے دیا۔
تازہ ترین سیاسی معاملات پر لکھنے کو بہت کچھ ہے، وزیر اعظم عمران خان کا دورۂ چین، اسلام آباد میں سیلانی ٹرسٹ کے ساتھ لنگر خانے کا جوائنٹ وینچر جس میں روزانہ 600 بے روزگاروں کے لیے مفت کھانے کا اہتمام ہوگا اور اس موقع پر ان عوام کو ''بے صبرے‘‘ کا طعنہ، 13 ماہ میں جن کی آنکھیں ''نئے پاکستان‘‘ کے لیے پتھرا گئی ہیں (سیلانی ٹرسٹ کے زیر اہتمام ملک بھر میں روزانہ 63,000 افراد کو یہ سہولت حاصل ہے)۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے معاملات، توقعات اور خدشات... کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ایسا نہ ہوجائے۔ لیکن مشرف سے یاد آیا کہ بیس سال قبل اکتوبر کے یہی دن تھے، جب جمہوریت پر چوتھا ''شب خون‘‘ مارا گیا، تو کیوں نہ ایک بار پھر اس کا تذکرہ ہو، بعض باتیں احباب کے لیے شاید نئی ہوں اور بعض کی یاد دہانی ہو جائے۔ 
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
پاکستان کی تاریخ کا یہ چوتھا''ٹیک اوور‘‘ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس کے لیے کسی سنگین سیاسی وآئینی بحران کا جھوٹا سچا جواز نہیں تراشا گیاتھا بلکہ ایک منتخب آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کا سبب صرف ذاتی تھا۔''کارگل‘‘ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات کا باعث بن گیا تھا۔اور معاملہ بے اعتمادی کی انتہا کو پہنچ گیا۔جنرل شاہد عزیز کے بقول ، جنرل مشرف کے سری لنکا جانے سے پہلے اس آخری ملاقات میں فیصلہ یہ تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں وزیر اعظم انہیں فوج کے سربراہ کی کرسی سے ہٹانے کی کارروائی کریں توحکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ کئی دنوں سے ان کے گھر پر اس سلسلے کی ملاقاتیں جاری تھیں، جن میں شاہد عزیز کے علاوہ جنرل محمود، جنرل عزیز خان ، جنرل احسان الحق،بریگیڈیئر راشد قریشی اور چیف کے پرنسل سٹاف افسر موجود ہوتے۔
بریگیڈیئر صدیق سالک نے سقوطِ ڈھاکا پر Witness to surrenderلکھی تھی(اردو میں ''میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘) کرنل اشفاق حسین نے کارگل پرWitness to Blunder لکھی‘ جنرل اسلم بیگ کے بقول جوکارگل کے ناکام اور بے مقصد آپریشن پر ایک مستند دستاویز ہے۔اس کا آخری باب''The Longest day‘‘ ، 12اکتوبر پر ہے۔ کرنل اشفاق تب آئی ایس پی آر میں تھے اور اس شب قوم کے نام جنرل مشرف کا خطاب لکھنے کا ''اعزاز‘‘ بھی انہی کے حصے میں آیا۔ کرنل اشفاق کراچی میں تھے، جنرل مشرف اس شام کراچی میں اترے تھے اور ان کا خطاب بھی وہیں سے تھا۔ اس ''طویل ترین دن‘‘ کی کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) افتخار علی خان اینڈوسکوپی کے باعث گھر پر گہری نیند میں تھے، جب فون پر بیگم صاحبہ سے کہا گیا کہ انہیں جگاکر ایئر پورٹ پہنچنے کے لیے کہیں(جہاں شجاع آبادکے جلسے کے بعدوزیر اعظم کا جہاز آرہاتھا) وزیر اعظم نے انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور بتایا کہ انہیں ایک چھوٹا سا کام کرنا ہے، ایک نوٹیفکیشن جس کے مطابق جنرل مشرف کو ریٹائر کرکے جنرل ضیاء الدین کو نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا ہے۔ 
حیرت سے دوچار جنرل افتخار نے پوچھا، کیا وزیر اعظم نے ابا جی یا شہبازشریف سے مشورہ کیا ہے؟ ''نہیں، انہیں تو بتانا بھی نہیں، آپ سے جو کہا گیا وہی کریں‘‘۔ وزیر اعظم کو اپنے ارادے میں اٹل پاکر جنرل افتخار نے بڑی ملائمت سے کہا ،اس کیلئے ضروری ہے کہ انہیں تحریری احکامات دیئے جائیں۔ پرائم منسٹر ہائوس میں گاڑی سے اترتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے ملٹری سیکرٹری (بریگیڈیئر جاوید) سے کہا کہ وہ جنرل افتخار کو تحریری حکم دے دیں اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے، ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنرل افتخار سے کہا کہ وہاں تشریف رکھیں اور کسی سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی سے نہیں ملیں گے، اور ایک اہم معاملے کو پہلے نمٹانا چاہتے ہیں۔
ادھر ملٹری سیکرٹری نے جنرل ضیاء الدین کو کال کی کہ وزیر اعظم ان سے فوری ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ وزیر اعظم ہائوس پہنچنے پر انہیںبتایا گیا کہ جنرل مشرف کو برطرف کرکے انہیں آرمی چیف مقرر کیا جارہاہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم ان احکامات کی فائل لے کر صدرپاکستان رفیق تارڑ کے توثیقی دستخط کے لیے خود ایوانِ صدر چلے گئے۔ جنرل ضیاء الدین کے لیے بھی یہ ایک ''خبر‘‘ تھی جن کی ریٹائرمنٹ میں 6ماہ باقی تھے اور وہ ریٹائر منٹ کے بعد کسی ''مصروفیت‘‘ کی تلاش میں تھے۔ ایوان صدر سے واپسی پر آرمی چیف کے طور پر جنرل ضیاء الدین کے تقررکی باقاعدہ ''رسم ‘‘ہوئی۔ وہ تین پھولوں والی وردی میں وزیر اعظم ہائوس آئے تھے، اب ایک اور پھول کی ضرورت تھی، بریگیڈیئر جاوید نے اپنے شانوں سے ایک ایک پھول اتارا اور جنرل ضیاء الدین کے شانوں پر سجا دیا۔ نئے آرمی چیف نے پاک فوج کے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل سے فون پر رابطہ کیا، اپنے تقرر کی خبر سنائی اور دوپوسٹنگ آرڈر جاری کرنے کی ہدایت کی، جنرل محمود اور جنرل عزیز کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹاکر ان کی جگہ جنرل سلیم حیدر کو10کور کمانڈر اور جنرل اکرم کو چیف آف جنرل سٹاف مقرر کردیا گیاتھا۔
جنرل محمود اور جنرل عزیز گالف کھیل رہے تھے، جب انہیں یہ ''خبر‘‘ملی ۔ جنرل عزیز نے کور کمانڈر کراچی جنرل عثمانی کو فون کیا کہ اب کیا کیا جائے؟ جنرل عثمانی نے پوچھا، کیا جنرل مشرف کو لمبو جاتے ہوئے کوئی ہدایت دے گئے تھے؟اثبات میں جواب پاکر جنرل عثمانی نے کہا، پھر ان کی ہدایات پر عمل کرو۔ تھوڑی دیر بعد جنرل عثمانی کونئے آرمی چیف کا فون آیا کہ وہ ایئر پورٹ پر جنرل مشرف کوریسیو کریں اور پروٹوکول کے ساتھ آرمی ہائوس لائیں (جہاں آرمی چیف کراچی میں قیام کے دوران ٹھہرتے ہیں)اس کے فوراً بعد پرائم منسٹر ہائوس سے ایک اور فون ، ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید کہہ رہے تھے کہ جنرل مشرف کو پروٹوکول دینے کی ضرورت نہیں، انہیں آرمی ہائوس لاکر ‘‘پابند‘‘ کردیا جائے۔
اس یقین دہانی کے بعد کہ جنرل عثمانی ، مشرف کے ساتھ ہیں، راولپنڈی میں کارروائی کا آغاز ہوا اور تاریخ ایک نیا موڑ مڑ گئی۔ ''وِٹنس ٹوبلنڈر‘‘کے مصنف کے بقول، وہ جو سانحہ کارگل کے ذمہ دار تھے سمجھ گئے تھے کہ وزیر اعظم کے احکامات پر عمل ہوا تو انہیں کورٹ آف انکوائری یا کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا تحفظ تبھی ممکن تھا کہ جنرل مشرف سری لنکا سے واپس آکر بطور آرمی چیف کام کرتے رہیں۔ بھارت میں پارلیمنٹ کی سطح پر سانحہ کارگل کی تحقیقات کی گئی تھیں اور بہت سے افسر گھر بھیج دیئے گئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *