موجودہ منقسم اتھارٹی کے فائدے

ایاز امیرAyaz Amir

 اس سرزمین پر ہیرو، مسیحا، گھڑسوار یا اتاترک جیسے رہنماجنم نہیں لیتے ،اور نہ ہی ہماری آب و ہوا ان خوبیوں کے لئے سازگار ہے۔ تاریخ کی نگاہ نے یہاںکسی سپرمین کو آنکھ کھولتے نہیں دیکھا۔ 2000 سالہ تاریخ میں پنجاب ، بلکہ نصف ہندوستان، کی دھرتی سے جنم لینے والی بہترین سیاسی شخصیت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سوا اور کوئی نہ تھی۔ ملک کی بہت سی ناکامیوں اور خامیوں کا ذکرکرتے ہوئے ہمیں ان کے تاریخی پس ِ منظر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دیومالائی سمندری کردار کسی جھیل سے سرنہیں اٹھاتے، چنانچہ ہم یہاں کسی عظیم رہنما کے ابھرنے کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ پنجاب کی دھرتی سے شاعر، صوفی، بزرگ اور رومانوی کرداروں نے جنم لیا، لیکن اعلیٰ پائے کے حکمرانوں کے لئے یہ سرزمین موزوں نہیں۔ چنانچہ مسائل کو سامنے دیکھتے ہوئے شکستہ دلی کو اپنا شعار نہ بنالیں، حقائق سے سمجھوتہ کرنا سیکھیں۔
پاکستان کے سامنے ایام ِ رفتہ کی عظمت کی کوئی مثال نہیں، چنانچہ تاریخ کے اوراق میں اس کے سامنے رنجیت سنگھ ، سکھ دربار اور خالصہ فوج کی یادوں سے پیوستہ ماضی ہے۔ اگر ہم پنجاب سے باہر قدم نکالیں تو پھر پاکستان کوسندھ کے کمزور تالپور حکمرانوں اور بظاہر سخت جانی ، بے خوفی اور لمبی توڑے دار بندوقوں کے باوجودبہت آسانی سے برطانوی راج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے بلوچ سرداروںسے آگے کہیں اور دیکھنا ہوگا۔ اس دوران یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ہم نے سات سمندر پارکرنے کا جوکھم اٹھاکریہ وطن دریافت نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستان کی تخلیق کا باعث بننے والے تقسیم ِہند کے واقعات کسی طے شدہ منصوبے کے مطابق تھے ،بلکہ حقیقت یہ کہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے تین جون کا منصوبہ پیش کیا تو مسلم لیگ اس کے لئے تیار ہی نہ تھی۔ جون سے لے کر اگست 1947تک پیش آنے والے واقعات کا بہائو اتنا تیز تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت ان کے ساتھ بہتی چلی گئی۔اسے توقع نہیں تھی کہ پنجاب کی تقسیم اتنی لہو رنگ ہوگی اور نہ ہی اس کے پاس کشمیر کی پرنس ریاست کے حوالے سے کوئی پالیسی تھی۔
کئی برسوںسے صہیونی فلسطین میں یہودی بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہے تھے، لیکن ہمارے ہاں ایسے خواب دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے خدوخال کا تصور پیش کرنے والی کتنی کتابیں دستیاب ہیں؟میری معلومات کے مطابق ایسی کوئی کتاب نہیں۔ علامہ اقبال مسلمانوں کی نشاۃ ِ ثانیہ اور سرود ِ رفتہ کی واپسی کا ادھورا تصور پیش کررہے تھے کیونکہ اُن کی عظیم شاعری کے ذخیرے میں کسی مستقبل کی ریاست کی واضح جھلک نہیں ملتی۔ مسلم قیادت کی زیریں صفوںسے ایک نوجوان، چوہدری رحمت علی نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا۔ دوسری طرف عالمی انقلابات کی طرف نگاہ ڈالیں تو صرف انقلاب ِر وس کے تصورات پر ایک بھرپور لائبریری مل جائے گی، لیکن ہمارے پاس پاکستان کی تخلیق کے خواب پر ایک کتاب بھی نہیں ۔
چنانچہ جب ہم موجودہ ناکامیوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے ان کا ماتم کرتے ہیں توہمیں ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔ جس دھرتی پر پاکستان کا تجربہ کیا گیا، اُس کی تاب وتواں معلوم،اس کا سیماب سہل پسند اوراس کی فرزانگی کم کوش اور مٹی انقلابی رہنما پیدا کرنے سے عاجز، لیکن حسن ِ بے پروا کی گلکار ی نمایاں۔ اگر اس میں نئی سوچ کی ندیاں رواں ہوتیں اور غنچہ ٔ ناشگفتہ کی قرمزی آب نگاہوں میں سما جاتی تواس کا دامنِ دل بھی وا ہوجاتا ، لیکن وا حسرتا! بہت شاندار مواقع ضائع کردیئے گئے، کتنی بہاریں آئیں لیکن کوئی گُل ِ نخستیں بھی نہ پھوٹا۔ اس کی بجائے جھاڑ جھنکار باغ کی ہریالی کا تاثر دے کر باد بہاری کو بہلاتے رہے۔ اس کے باوجود باغ قائم ہے تو صحبت ِ یار کی امید بھی۔ کوئی وجہ نہیں اگر عنادل ہائے خوش گلو اس کے سکوت کو برہم کرکے زندگی کے نغمے بکھیر دے۔
ہمارے ہاں اتھارٹی کا ارتکاز کہیں نہیں اور یہ بہت اچھا ہے۔ فوج اپنے دائرے میںرہ کر کام کررہی ہے، سیاست دان حال اور گاہے مال، مست ، عدلیہ کہیں راستہ دکھاتی ہے اور جہاں ضروری ہو، راستہ روک بھی لیتی ہے اور اپنی تمام تر طاقت اور کمزوری کے ساتھ میڈیا بھی گھر کی رونق بڑھاتا رہتا ہے۔ مجموعی طور پر اسے حسن ِ انتظام کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔ ایسا انتظام جو ہمیں بھاتا ہے اور جو ہماری ہلکی سی شوریدہ سری کے بھی موافق ہے۔ مت بھولیں، ہم اس راہ پر حادثاتی طو رپر ہی پہنچے ہیں، چنانچہ یہاں ’’رہے ہے دل میں تیر اچھا، جگر کے پار ہو، بہتر‘‘ کے اصول پر ہی معاملات آگے بڑھیں گے۔
ہمیں آمریت نہیں چاہیے کیونکہ ہم اُس کا بارہا تجربہ کرچکے ہیں ، لیکن دوسری طرف بھاری بھرکم جمہوری مینڈیٹ بھی ہمیں زیب نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں جب کسی کو ایسا مینڈیٹ ملتا ہے تو وہ بہت جلد اُن حدودوقیود کو بھول جاتا ہے جنہیں عرف ِعام میںعقل اور معقولیت کہتے ہیں۔ بس خودسری کا غازہ چہرے ، بلکہ پورے جسم پر ملا اور بیل کے سامنے کود گئے۔ ماضی میں عدلیہ نے بھی آمریت کی توثیق کرنے کے لئے رومانوی خودسپردگی کا مظاہرہ کیالیکن مشرف دور میں عدلیہ نے حرف انکار اداکرتے ہوئے اپنا ایک نیاکردار تراشا اور بھاری ذمہ داری خود پر لینا شروع کردی۔ یقینا آج منزل کی جانب سست روی سے بڑھتا ہوا پاکستان عدلیہ کے بغیر نامکمل ہوتا۔ اگرچہ خدا ہی جانتا ہے کہ ابھی مزید کتنی تکمیل باقی ہے؟پاکستان کی تاریخ میں میڈیا بھی ایک کمزور عامل تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے بھی بے پناہ تقویت جمہوریت نے نہیں بلکہ آمریت نے دی۔ موجودہ میڈیا مشرف آمریت کی عطا ہے، تاہم صحافتی آسمان کے بہت سے تابندہ ستارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے تامل سے کام لیتے ہیں۔ یقینازیست ِ بنی آدم میں دیومالائی کہانیاں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ہمارے بہت سے من پسند عقائد بھی ایسی ہی کہانیوں سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میڈیا نے یہ آزادی اپنی بے پایاں جدوجہد اور آگ اور خون کے دریاسے گزر کر حاصل کی ہے۔ ا ﷲ اکبر!معاملہ جو بھی ہو، نجی ٹی وی چینلوں کی تعداد میں زبردست اضافے کے ساتھ میڈیا کے پھیلائو کی جو صورت بنی ، اُس میں توازن کی کمی نمایاں ہوتی گئی۔ تاہم اب یہ اپنے ہی پھیلائو سے شروع ہونے والے عمل ِ انشقاق سے گھبرا کر توازن اور اعتدال کی راہ تلاش کررہا ہے۔
میڈیا کی بات اور ، لیکن ہمارے ہاںاتھارٹی کے انشقاق کے بہت سے فوائد ہیں۔ اگریہ معاملہ سیاسی حکومتوں پر چھوڑدیا جاتا تو شاید مقامی حکومتوں کے انتخابات کبھی بھی نہ ہوپاتے، یہ سپریم کورٹ ہے جس نے پیہم دبائو ڈال کرصوبائی حکومتوں کو ان کے انعقاد پر مجبور کیا۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات، خیبر پختونخوااور اس سے پہلے بلوچستان میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے ہم سپریم کورٹ کے مشکور ہیں(اگر میری یادداشت ساتھ دے رہی ہے تو جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس ضمن میں نہایت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا)۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے جارہے تھے، لیکن جب یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے آیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ غیر جماعتی انتخابات کا تصور آئین کے ساتھ متصادم ہے ، چنانچہ سیاسی جماعتوں نے اپنے نشانات اور پرچموں کے ساتھ انتخابی معرکے میں حصہ لیا۔ اس سے کوئی بھی آسمان نہ گرا ۔ اعلیٰ عدلیہ ایک اور معاملے پر بھی بہت ثابت قدمی اور معاملہ فہمی سے کام کررہی ہے۔ لاہورہائی کورٹ نے گلبرک کو موٹر وے کے ساتھ ملانے والے فلائی اوور کی تعمیر روکنے کا حکم دے کر پنجاب حکومت کے پورے لاہورکو فلائی اوورز کے سائے میں چھپانے اور اس کی سڑکوں کے نیچے تہہ درتہہ انڈرپاس تعمیر کرنے کےآتش ِ شو ق پر سرد پانی گرادیا ہے۔
مت بھولیں کہ فوج بھی تبدیلی کی راہ پر بہت دورتک آگئی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جو مشرف اور پھر کیانی کے دور میںبہت مختلف تھی، لیکن آج فوج اور قوم ہم قدم ہیں۔ پاکستان کوجس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ، وہ نام نہاد جہاد کا وائرس تھا، لیکن ہماری صحت یابی کا عمل شروع ہوچکا ۔ اگر مجموعی طور پر اسلامی دنیا کو دیکھیں تو یہ افراتفری کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ ہمارے باغ کو بھی نقصان پہنچا لیکن یہ کسی بیرونی قوت کی طر ف سے نہیں بلکہ اندورنی دشمنوںکی شعلہ باری سے جل اٹھا تھا، لیکن خدا کاشکر ہے کہ ہم شام، عراق اور افغانستان ثابت نہیں ہوئے۔ کیا یہ ہمارے لئے نئی راہ ِعمل نہیں؟ کیا اس تبدیلی کو بنیاد بنا کر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *