آبِ حیات

 الطاف حسن قریشیaltaf hassan

انسانی زندگی میں نت نئے مسائل کا پیدا ہوتے رہنا ایک فطری امر ہے جنہیں حل کرنے کے راستے مفکرین، عمرانی ماہرین اور حکما نے بھی بتائے اور مختلف مذاہب اور ادیان نے بھی رہنمائی کی۔ ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ مکالمے اور ڈائیلاگ کے ذریعے تنازعات طے ہو سکتے ہیں اور تعاون، دوستی اور ہم قدمی کے جذبات فروغ پا سکتے ہیں۔ ہمارے لئے تاریخ میں بہت دور جانے کے بجائے ان مدارج پر غور کرنا کافی ہو گا جن سے گزر کر ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ دراصل ہندو قیادت کی تنگ نظری، چانکیائی سیاست اور انگریزوں کی مسلم دشمنی کے باعث فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی گئی۔ 1937ء میں سیکولر جماعت انڈین کانگریس کو گیارہ میں سے سات صوبوں میں حکومتیں بنانے کا موقع ملا، تو اُس کی اسلامی طرزِ زندگی سے شدید نفرت اور دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ مسلمانوں کو ہر سطح پر یہ احساس ہونے لگا کہ اُن کے دین اور اِس کی تہذیب کو مٹانے کے لئے ریشہ دوانیاں ہو رہی ہیں اور اُنہیں اپنی بقا اور اپنی تہذیبی نشوونما کے لئے ایک آزاد وطن کا حصول ناگزیر ہو گیا۔تب آل انڈیا مسلم لیگ نے مسٹر محمد علی جناح کی صدارت میں لاہور کے تاریخی مقام پر آزاد وطن کا مطالبہ کیا اور یوں مسلمان قوم نے اپنی منزل کا تعین کر لیا۔
قراردادِ لاہور کے بعد سات برسوں میں بڑے سخت مراحل آئے۔ وائسرائے لارڈ ویول نے مذاکرات کے ذریعے ایک منصفانہ حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کی جسے پنڈت نہرو اور سردار پٹیل ناکام بناتے رہے۔ قائداعظم نے سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی اور برطانوی حکومت کو قیامِ پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا۔ مذاکرات اور ملاقات کے نتیجے میں برطانوی حکومت، انڈین کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ تقسیم ِہند پر متفق ہوئیں۔ اِس اتفاق اور معاہدے کی بنیاد پر آزادیٔ ہند ایکٹ برطانوی پارلیمنٹ میں منظور ہوا اور شب قدر کے انوار میں پاکستان وجود میں آیا۔ اتنا بڑا اور کٹھن کام سیاسی عمل اور ڈائیلاگ کے ذریعے سرانجام پایا، اِس طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواب دیکھے جانے لگے۔ طے پایا کہ پاکستان اسلام کی جدید لیبارٹری کے طور پر کام کرے گا اور پوری انسانیت کو اسلامی تعلیمات سے فیض یاب کیا جائے گا جو مساوات، حریت، انصاف اور اخوت کے اصولوں پر مبنی ہیں۔
پاکستان ابتدائی چند برسوں میں بڑے چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک معاشی طاقت بن گیا، مگر نوکر شاہی اور فوج کی ملی بھگت سے ملک میں مارشل لا لگتے اور بحران پیدا ہوتے رہے، البتہ جہاں اور جب مکالمے کا اہتمام ہو سکا، وہاں بحران ٹل گیا۔ بدقسمتی سے سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ اِس لئے پیش آیا کہ ایک منصوبے کے تحت حالات ایسے پیدا کر دیئے گئے کہ تین بڑے اسٹیک ہولڈرز بھٹو، مجیب اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ پائے۔ جسٹس حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں اِس تکنیک کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے کہ جنرل یحییٰ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مذاکرات کو ناکام بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔
اِس تاریخ شکن واقعے کے چھ سال بعد ایک اور سانحہ پیش آیا۔ 1977ء کے انتخابات کے خلاف پاکستان قومی اتحاد نے عوامی تحریک چلائی جو حکومت کی غلط پالیسی کے باعث اِس قدر زور پکڑ گئی کہ انتظامی مشینری عملاً مفلوج ہوکے رہ گئی۔ تب مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا جسے سیاسی لغت میں اَمرت دھارا کہا جاتا ہے۔ مذاکرات بڑی حد تک کامیاب رہے، مگر تصفیے سے پہلے مسٹر بھٹو اچانک مختلف ملکوں کے دورے پر چلے گئے اور اُن کی غیر موجودگی میں طرح طرح کے وسوسے ذہنوں میں کلبلانے لگے۔ ڈوبتے حالات کے پیش نظر فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ پھر وہ حادثہ رونما ہوا جس نے ہماری تاریخ کا سینہ شق کردیاہے۔
مئی2013ء کے انتخابات کے بعد میاں نوازشریف وزیراعظم بنے اور جناب شہبازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ۔ اُنہیں مسلسل دباؤ اور ناسازگار حالات کا سامنا رہا۔ اسلام آباد پر طاہر القادری اور عمران خاں چڑھ دوڑے۔ چار ماہ تک اسلام آباد کا محاصرہ رہا اور دھرنوں کی یلغار نے حکومت کے اعصاب پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے، مگر ان غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کے خلاف پوری پارلیمنٹ نے مثالی یکجہتی کا ثبوت دیا۔ یوں تھرڈ ایمپائر کی وسل نہ بج سکی اور غیر جمہوری طریقوں سے حکومت ہٹانے اور اقتدار میں آنے کا منصوبہ رزقِ خاک ہوا۔ حکومت کی قوتِ برداشت اور سیاسی جماعتوں کی پختگی اور دوراندیشی نے پاکستان کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ ایک ایسے وقت جب چین کے صدر پاکستان کا دورہ کرنے اور 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخطوں کی تقریب میں شامل ہونے والے تھے۔
چین کے صدر اپنے ساتھ اِس خطے کی تقدیر بدلنے کا نسخہ لے کر پاکستان آئے۔ طے ہوا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری تعمیر کی جائے گی اور گوادر بندرگاہ کو دنیا کی بہترین بندرگاہ کا مقام دیا جائے گا جہاں دو لاکھ ٹن وزنی بحری جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے۔ اقتصادی ماہرین اِس اعلان کو گیم چینجر سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اقتصادی راہداری کے روٹ پر تنازع اُٹھ کھڑا ہوا۔ وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے بڑی ریاضت اور غیرمعمولی مشقت سے کام کرتے رہے، مگر غبار بڑھتا ہی گیا۔ اِس نازک مرحلے پر جناب وزیراعظم نے مکالمہ جاری رکھا اور دوسری بار آل پارٹیز کانفرنس بلائی، تمام شرکا کے اُٹھائے ہوئے نکات کا جائزہ لیا اور اُن کے تمام تحفظات دور کر دیے گئے۔ مذاکرات کی طاقت کے سامنے خدشات کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے۔جناب نوازشریف نے مذاکرات کا آبِ حیات پلا کر قوم کو یک جان کر دیا ہے اور غیر معمولی دوراندیشی اور معاملہ فہمی کا ثبوت دیا ہے، تاہم قوم کی آزمائش کا مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ بھارتی قیادت نے چین پاکستان راہداری کے خلاف اعلانیہ محاذ کھول دیا ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہمیں چین پاک اقتصادی راہداری قبول نہیں اور وزیراعظم مودی نے اپنے دورۂ چین میں چینی قیادت سے کھل کر بات کی ہے۔ اِس سے قبل وزیردفاع یہ بیان دے چکے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ان بیانات سے بھارت کا گھناؤنا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوگیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم، مشیرخارجہ اور وزیر داخلہ نے یہ سارے بیانات مسترد کر دیئے ہیں اور اِس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہم دشمنوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیں گے اور اقتصادی راہداری ضرور تعمیر کریں گے جو پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی لائے گی اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے گی۔ بھارتی وزیرخارجہ کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک ٹھوس اور دانش مندانہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ کسی بھی ملک یا علاقے کے خلاف نہیں، بلکہ اِس سے پورا خطہ فیض یاب ہوگا۔ بھارت کھلم کھلا پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں دخل اندازی کر رہا ہے، اِس کے خلاف عالمی رائے عامہ کو منظم کرنا اور عالمی اداروں کو اپنا موقف پوری تیاری اور سفارتی مہارت سے پیش کرنا چاہئے۔
ہمارے داخلی حالات جو شکل اختیار کر چکے ہیں، ان میں ہمیں قدم قدم پر مکالمے اور قومی اتفاقِ رائے کا اہتمام کرنا ہو گا۔ اب تک جو فیصلے سیاسی اور عسکری قیادت کے باہمی مشوروں سے کئے گئے ہیں، اُن میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
آپریشن ضربِ عضب اور کراچی آپریشن نے دہشت گردوں کی طاقت پر کاری ضرب لگائی ہے اور اب بلوچستان میں بھی فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں اُن دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے گا جو سانحۂ مستونگ کے ذمے دار ہیں۔ وہی شرپسند عناصر سانحۂ صفورا کی پشت پر ہیں جن کو ’را‘ کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسلام آباد راولپنڈی میٹروبس کے افتتاح سے عوامی فلاح کا ایک مینارۂ نور تعمیر ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کا بہت بڑا حصہ ہے جو امیروں اور غریبوں کا خوف دور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو گا۔ مکالمے کے ذریعے ہم ہر شعبے میں خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی آبِ حیات ہمیں مردم جواں زندگی عطا کر سکتا ہے۔ قوم کو 28مئی مبارک جس دن پاکستان نے ایٹمی تجربات کئے تھے اور اِس سال وزیراعظم نوازشریف نے مصالحت کا ایک سنگِ میل ثبت کر دیا اور اُمیدوں کے قافلے جوق در جوق چل نکلے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *