ترکی: بادشاہ گرکردش پارٹی اردوگان کو حیران کرنے کو تیار

 ardaganکردش پارٹی نے ان غیر کرد ووٹروں کو بھی اپنی جانب کھینچنا شروع کر دیا ہے جو اردوگان کودوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا چاہے ہیں۔اتوار کے روز اردوگان کے پارلیمان کی دہلیز عبور کرنے میں ناکام رہنے پر ترک کرد امن عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بطور وزیر اعظم اردوگان نے روایت کو توڑتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھاکہ کردوں سے سلوک کے معاملے میں ریاست نے ’’غلطیاں کی‘‘ تھیں لہٰذا انہوں نے قیام امن کے ایک منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا تھا۔
لیکن اردوگان اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے اور ان کی تمام تر توجہ اختیارات کے اپنی ذات میں ارتکاذ پر مرکوز رہی۔
کرد، دراصل اتوار کے عام انتخابات میں بادشاہ گر کی پوزیشن اختیار کر گئے ہیں۔حالیہ انتخابات جاری عشرے کی ترکی کی انتخابی تاریخ کے کانٹے دارترین انتخابات سمجھے جا رہے ہیں۔عظیم تر حقوق کیلئے کرد امنگوں کی ترجمانی اور اردوگان کے اس نئے آئین کے خواب کہ جس کے تحت انہیں بطور صدر زیادہ اختیارات مل جائیں گے، کی تعبیرصرف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کر سکتی ہے جو پہلی بار پالیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔اگر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جیت جاتی ہے تو کُرد ملک کے مرکزی سیاسی دھارے میں آجائیں گے۔ اقتدار کی یہ منتقلی ممکنہ طور پر واحدجماعت کی 12سالہ حکمرانی کا اختتام ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *