پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس: غریب کش بجٹ کا الزام مسترد

ishaq-darوفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس صرف امیروں پر عائد کیا گیا غریبوں کو اس میں رعایت دی گئی ہے۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی پر ٹیکس نہ لگانےکی کوشش کی ہے، بجٹ کے اعداد و شمار سے متعلق میڈیا پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی جائے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر کی صحافیوں سے تلخ کلامی بھی ہوئی، صحافیوں نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو وزارت خزانہ کے افسران نے صحافیوں سے معافی مانگ کر دوبارہ پریس کانفرنس میں شریک ہونے پر راضی کیا۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ مزدور کی کم سے کم اجرت 13ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے، نئے مالی سال میں روزگار کے 20لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔
سبسڈی کے خاتمے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لیے گندم پر سبسڈی ختم کرنے کی خبریں غلط ہیں، گندم سبسڈی کے لیے 6 ارب 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ گھی اور خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر بھی کوئی اضافی ڈیوٹی نہیں لگائی گئی۔
سیمنٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی ایکسپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی لگائی ہے، سیمنٹ کی مقامی مارکیٹ میں قیمت پر کوئی ڈیوٹی نہیں لگائی گئی، تعمیرات کے شعبے کی ترقی کے لیے مراعات دی ہیں۔
دودھ کی قیمت میں اضافے پر ہونے والی تنقید پر اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں بجٹ میں دودھ کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، صرف پنیر اور پیکٹ کے دہی پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، موبائل فون کی قیمتوں میں اضافہ نہیں، کمی کی ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وفاقی سیکریٹریز کی تنخواہوں کو دگنا نہیں کیا گیا، پنشن کی کم سے کم حد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *