عقل مند سلطان اور آئینے کا قصور

wajahat masoodوجاہت مسعود

حق بات یہ ہے کہ مرزا غالب عین حیات ہی میں رسوا ہو گئے تھے۔ اوائل عمر ہی میں جان چکے تھے کہ عرض ہنر میں خاک فائدہ نہیں۔ اس ناکامی کے بعد بھرم قائم رکھنے کو سو پشت سے گھرانے میں چلے آرہے پیشہ سپاہ گری کا حوالہ دیتے تھے۔ اس پر حریفوں نے یاد دلایا کہ مرزا صاحب،، سپاہ گری کا رہوار تو اسی کے شجرے میں گنا جاتا ہے جس کا ہاتھ رسالے کی باگ پہ ہو ۔ اس معزز پیشے میں پیش روئوں یعنی اجداد کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ اس پر حیلہ گھڑا کہ مجھے تو شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا۔ حاسدوں نے حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ مرزا پہ عتاب کی اصل وجہ یہ تھی کہ قبلہ نے اپنے ایک شعر میں برادر اسلامی ملک کے ایک ہردلعزیز رہنما کی عفیفہ اہلیہ کے بارے میں بے پرکی اڑائی تھی کہ خاتون معظم اپنی ان رقیب خواتین کے بارے میں بدمزہ نہیں ہوتی تھیں جو کنعان اور دیگر علاقوں میں اپنے اپنے وقت پر دکھائی دینے والے چاند کے دیدار میں محو ہوجاتی تھیں۔ اس سے خارجہ امور میں پیچیدگی پیدا ہوئی نیز قومی مفاد کو نقصان پہنچا۔ اردو زبان میں یہی خرابی ہے کہ مطلب کی بات سیدھے سیدھے بیان کرنے کا چلن نہیں، جو ذکر چھڑ جائے، سیلابی ریلے کی طرح اونچی نیچی جگہوں میں پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اب دیکھئے شعروں کے انتخاب کی رعایت سے انگریزی محاورے کا حوالہ دینا مقصود تھا کہ انسان اپنے دوستوں کے انتخاب سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی بکھیڑے میں سنسر شپ اور خاص طور پر انٹر نیٹ کے ضابطوں کے ضمن میں ذکر تھا ہمارے عظیم دوست اور دیگر برادر اسلامی ممالک کا ۔ اور اس ذکر کی ضرورت پیش آئی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی محترمہ انوشہ رحمن کے اس بیان سے کہ پاکستان میں فیس بک بند کر دی جائے تو تیس فیصد سماجی جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تری آواز مکے اور مدینے … یو ٹیوب کئی برس پہلے بند کی جا چکی، فیس بک پر آپ کی مبارک نظر ہے، چھری آپ کے ہاتھ میں ہے، بسم اللہ کیجئے ، کالج، یونیورسٹیاں بند کیجئے، چند روز اخبار وں کے بنڈل جلائیے، کیبل آپریٹروں کی مدد سے ٹیلیوژن کی گھنڈی دبائیے، باقی ماندہ سماجی جرائم بھی ختم ہو جائیں گے۔ ممکن ہے ایسا کرنے سے پارلیمنٹ اور سیاست کا جھنجھٹ بھی جاتا رہے، کیا مضائقہ ہے، پنچائیت سلامت، جرگے کی رونق آباد رہے ۔ ایک مجلس شوریٰ تشکیل دے لیں گے۔ یاد رہے کہ پیر و مرشد ضیاالحق سماج کو ریاست پر ترجیح دینے میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔ سماج ایک غیر مدون انتظام ہے اور اسے باضابطہ دستاویزی ریاست کی شکل دینے میں جوابدہ حکمرانی کا نا معقول اندیشہ سر اٹھاتا ہے۔ ہمارے برادر اور عظیم دوستوں کے ہاں ایسی حکمرانی کی کوئی روایت نہیں۔ غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست… حسن اتفاق سے ہمارے بین الاقوامی دوست انفارمیشن ٹیکنالوجی کی آزادی میں بھی ایک گونہ مقام کے حامل ہیں ۔ ہمارے ایک عظیم دوست کو انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی سب سے بڑی عالمی جیل کہلانے کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک برادر اسلامی ملک نے اطلاعات کا شہر ممنوع تعمیر کررکھا ہے۔ ایک قریبی برادر ملک نے خبر اور اطلاع کے راستے میں سنسر شپ کا اسمارٹ جال مرتب کر رکھا ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار کم کر کے جس خبر کو روکنے کی سعی کی جاتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ فلاں عظیم انقلابی رہنما کی ذاتی دولت اب 95ارب ڈالر کے ہندسے کو عبور کر چکی۔ ہماری پسندیدہ زمینوں میں ایسی بہت سی حکایات کو سر اٹھانے سے پہلے ہی پریڈ گرائونڈ میں کھڑا کر کے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے ۔ سنسر شپ کا یہ ایک سہل اور تیر بہدف نسخہ ہے ۔ خیر دوسروں کا ذکر کرتے چلے جانے سے کیا حاصل، اپنے سر لشکر کی خبر لینی چاہئے۔

سوال یہ ہے کہ سماجی جرائم کیا ہوتے ہیں؟ سماج انسانی اجتماع کو کہتے ہیں اور فوجداری قانون کی بنیادی اکائی فرد کی ذمہ داری کا تعین ہے۔ فوجداری قانون میں فرد کو جرم کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ، کسی فعل میں اجتماعی ذمہ داری کا تصور ہی شفاف سماعت کے معیارات سے متصادم ہے ۔ فرد کی بجائے گروہ پر جرم کی ذمہ داری عائد کرنے سے ریاست میں امتیازی سلوک، پیوستہ مفاد ات، نظریاتی اجارہ داری اور طاقت کے متوازی دھاروں کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ قانون کی مستند لغت میں سماجی جرائم کی اصطلاح ہی سرے سے موجود نہیں ۔ تاریخ میں البتہ سماجی جرائم کے ذیل میں کچھ ایسے افعال کا ذکر ملتا ہے جنہیں طبقاتی اور سیاسی اسباب کی بنا پر جرم گردانا جاتا تھا۔ مثلاً ممنوعہ ادب پڑھنا ، ذات پات کی مخالفت کرنا، جاگیردار وں کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کرنا، عورت اور مرد کی مساوات کا پرچار کرنا، غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے تنظیم سازی کرنا، مذہبی استحصال کی مذمت کرنا، کسی سائنسی انکشاف یا ایجاد کا دفاع کرنا۔ عام طور سے مروجہ سماجی ڈھانچے اور اقدار سے روگردانی کو ’سماجی جرائم‘ کی موہوم اور ڈھیلی ڈھالی اصطلاح میں لپیٹ کر قدامت پسندی کو سہارا دیا جاتا ہے۔ محترمہ انوشہ رحمان کی تحسین کرنی چاہیے کہ اپنے از کار رفتہ اور رجعت پسند خیالات کے اظہار میں منافقت سے کام نہیں لیتیں، کھل کر پھاوڑا چلاتی ہیں۔
ہمسایہ ملک کے ایک سیاسی رہنما لالو پرشاد نوے کی دہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ بیس برس بعد بھارت کی اقتصادی ترقی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک تشہیری استعارے کا کردار ادا کر رہی ہے اور ذات پات کے بل پر سیاست چمکانے والے رہنمائوں کی کوئی خبر نہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے ارتقا کے چلن کے بارے میں کیا اچھی بات کہی تھی ، پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں۔ دیکھئے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی محض کمپیوٹر کے ڈبے درآمد کرنے اور خلیجی ممالک میں مقیم بیٹے سے فون پر شادی کی تاریخ طے کرنے کا نام نہیں، یہ علم تک رسائی اور شفاف خبر کی ثقافت کو سیاسی مکالمے اور معاشی سرگرمی سے ہم آہنگ کرنے کا کھیل ہے۔ جن بلائوں کو میر سنتے تھے، ان کو اس روزگار میں دیکھا… علم کی ناکہ بندی کی جائے ، خبر پر پہرے بٹھائے جائیں تو شہری خوفزدہ اور بد دیانت ہو جاتے ہیں، ذہانت میں پھسڈی رہ جاتے ہیں۔ معیشت کی ترقی اور سماج کی توانائی کی ضمانت خبر اور علم کے دروازے کھولنے سے منسلک ہے۔ جمہوریت کی قوت اطلاعات تک آزادانہ رسائی میں ہے ۔ بدعنوانی روکنے کے لئے معاشرے کے تمام شعبوں میں شفافیت رائج کرنا پڑتی ہے۔ سنسر شپ شفافیت نہیں، پردے اور اخفا کا اعلان ہے۔ اندھیرے میں جرائم جنم لیتے ہیں ۔ لاعلمی کے اندھیرے میں بدترین جرائم جنم لیتے ہیں۔ عظیم اور برادر اسلامی ممالک کی دوستی سر آنکھوں پر لیکن ہماری تاریخ کے کچھ اپنے تقاضے بھی ہیں۔ جمہوریت میں ایک خرابی ہے ۔ انسان ایک دفعہ جسم اور سوچ کی آزادی کا ذائقہ چکھ لیتے ہیں تو آمریت ان کے لئے قابل قبول نہیں رہتی۔ آ ٓسمانوں میں اندھیروں کا خوف باقی نہیں رہتا اور زمین پر اختیار کی تقدیس مٹ جاتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک شہری آزادیوں اور جمہوری شفافیت سے گریز کرکے بھی ترقی کا سراب قائم کر سکیں لیکن ہمارے خمیر میں تو جمہوریت گندھی ہے۔ ہمارے بانی رہنمائوں نے دستوری سیاست کی مدد سے آزادی حاصل کی تھی، ہمیں بندوق کی نالی سے جنم لینے والی حکمرانی سے واسطہ نہیں۔ ایک مستحکم اور توانا پاکستان کے لئے جمہوریت اور جمہوری اقدار سے کوئی گریز نہیں۔ آئیے، عربی شاعری کے جدید امام محمود درویش کی ایک نظم کا اقتباس پڑھتے ہیں۔ پوری نظم منو بھائی نے ترجمہ کر رکھی ہے۔ افسوس کہ کالم کے دامن میں مکمل متن کی گنجائش نہیں ۔
اس نے تو بارش اور بجلی کے اس کوندے کی شکایت کی تھی
جس نے درختوں کے سب راز جلا دیئے
اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ
دریائوں میں پانی کی بجائے کچھ اور بہہ رہا ہے
ساحلوں پر لوگ پتھر وغیرہ بن گئے ہیں
جنگل پراسرار ہو گئے ہیں
اور اندھیرا جل رہا ہے
عقل مند سلطان نے گرج کر کہا
قصور آئینے کا ہے
اس نظم کوقید میں ڈال دو
قومی مفاد میں خاموشی …
نغمے اور اخبار سے ہزار گنا بہتر ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *