ضرورت ہے ایک پاکستانی ایڈورڈ اسنوڈن کی

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

’’میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر چیز ریکارڈ ہو تی ہو!‘‘ ایڈورڈا سنوڈن۔ یہ تاریخی جملہ اکتیس برس کے امریکی نوجوان نے آج سے ٹھیک دو سال قبل اس وقت بولا جب اس نے امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی(NSA) کی جاسوسی کے طریقہ کار کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کی جمہوری حکومتیں نہ صرف ہر امریکی شہری کی فون کالز ٹیپ کرتی ہیں بلکہ ان تمام شہریوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھتی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا ہوتا۔جون 2013میں ہانگ کانگ کے ایک ہوٹل میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں جب NSA کے اس سابق اہلکار نے یہ انکشاف کیا تو اس کا خیال تھا کہ ممکن ہے امریکی عوام اس کی بات پر کان نہ دھریں اور یوں اس کا یہ ایڈونچر اس کی زندگی خطرے میں ڈال دے مگرا سنوڈن کے اس انکشاف نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا‘آزادی اظہار اور شخصی آزادیوں کے چیمپئن ملک نے رد عمل کے طور پرا سنوڈن کے خلاف پہلی جنگ عظیم میں مروجہ جاسوسی قوانین کے تحت مقدمات قائم کئے جس کے تحت اسے تیس برس قید ہو سکتی ہے،یہی نہیں بلکہ کئی امریکی سیاست دانوں نے تو اسنوڈن کو غداری کی سند بھی جاری کردی۔(چلئے ایک بات کی تو تسلی ہوئی کہ ملک دشمنی کے سرٹیفیکٹ صرف اپنے ہاں ہی نہیں امریکہ میں بھی بانٹے جاتے ہیں)۔وہ ایڈورڈ اسنوڈن جو ہوائی سے فلائٹ پکڑ کر ہانگ کانگ آیا تھا اور جس نے اپنے دو صحافی دوستوں کو NSAکی وہ دستاویزات فراہم کی تھیں جن میں اس ادارے کے جاسوسی ہتھکنڈوں کا پول کھولا گیاتھا‘وہ ایڈورڈا سنوڈ ن جس کا پاسپورٹ امریکہ نے منسوخ کر دیا تھاجس کی وجہ سے اسے روس کے ایک ہوائی اڈے پر انتالیس دنوں تک محصور رہنا پڑااوروہ ایڈورڈا سنوڈن جسے بعد ازاں روس نے سیاسی پناہ اور رہائشی اجازت نامہ دیا کیونکہ بطور امریکی شہری اس کااپنے ملک میں داخلہ خطرے سے خالی نہیں تھا‘آج اس ایڈورڈ اسنوڈن کی بدولت امریکہ میں NSAکا فون ٹیپ کرنے کا پروگرام نہ صرف عدالتوں نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے بلکہ کانگریس بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں‘یہی نہیں بلکہ وہائٹ ہائوس کا ایک تحقیقاتی کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ NSAکا یہ پروگرام دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ پکڑنے یا روکنے میں کام نہیں آیا‘اور تو اور امریکی صدر جس نے اس پروگرام کا نہ صرف پر جوش دفاع کیا تھا بلکہ اسے منظر عام پر لانےکی پاداش میںا سنوڈن پر سخت تنقید بھی کی تھی‘اب خود ہی اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے اسے ختم کردیا ہے۔بقول ایڈورڈا سنوڈن’’یہ سب بیدار عوام کی طاقت کی بدولت ہوا‘‘
پرائیویسی کا تصور اپنے ہاں نیا ہے‘ اگر آپ کسی عام آدمی سے اس بارے میں بات کریں تو ممکن ہے وہ آپ کو پاگل سمجھے اور کہے کہ میاں اس ملک میں جہاں دو وقت کی روٹی کمانا عذاب ہے تمہیں پرائیویسی کے چونچلے سوجھ رہے ہیں، اس ملک میں جہاں گورننس کا یہ حال ہو کہ پانچ بچے گھر میں آگ لگنے سے اس لئے زندہ جل جاتے ہیں کیونکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے پاس آگ بجھانے کے آلات نہیں ہوتے تم اس بات کا رونا رو رہے ہوکہ پرائیویسی کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں اور اس ملک میں جہاں تین تین سال کی بچیاں ریپ ہوتی ہوں تمہیں اس بات کا غم کھائے جا رہا ہے کہ جب تم انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھو تو تمہاری پرائیویسی کا خیال رکھا جائے،یہ ہے ہمارے ہاں پرائیویسی کا تصور!لیکن دنیا ایسے نہیں سوچتی‘ ایڈورڈ اسنوڈن نے بھی ایسے نہیں سوچا تھا کیونکہ اگر وہ بھی ہماری طرح ہی سوچتا تو آج دنیا کی واحد سپر پاور یوں بے نقاب نہ ہوتی ۔اسنوڈن کا کہنا ہے کہ’’آج پیدا ہونے والے بچوںکے دماغ میں پرائیویسی کا کوئی تصور نہیں،انہیں کچھ اندازہ نہیں کہ ذاتی لمحات میں پنپنے والے خیالات جنہیں کوئی ریکارڈ کرکے ان کا تجزیہ نہ کر سکے کیا معنی رکھتے ہیں،اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے پرائیویسی اہم ہے،کیونکہ پرائیویسی ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم اس بات کا تعین کریں کہ ہم کون ہیں اور ہم کیا بننا چاہتے ہیں،‘
ہم میں سے بہت سے لوگ جنہیں پرائیویسی کی کچھ سدھ بدھ ہے،یہ سوچتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا غلط کام نہیں کرتے جس سے انہیں شرمندگی یا پشیمانی ہو لہٰذا انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں،کسی نے اگر ان کی جاسوسی کرنی ہے تو شوق سے کرے ۔ایسے لوگوں کو ایڈورڈا سنوڈن کے ساتھی‘ گلین گرین والڈ نے گوگل کے سی ای او کی مثال دی اور کہا کہ سی ای او صاحب سے جب پوچھا گیا کہ گوگل دنیا میں کروڑوں لوگوں کی پرائیویسی کے بخئے ادھیڑتا پھرتا ہے اس کا کیا جواز ہے ؟جواب میں سی ای او نے کہا کہ اگرآپ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ پسند نہیں کرتے کہ لوگ اسے جانیں تو اصولاً آپ کو وہ کام ہی نہیں کرنا چاہئے ۔بظاہر یہ جواب بہت مدلل لگتا ہے مگر اتنا ہی کھوکھلا ہے کیونکہ بے شمار کام ایسے ہیں جو آپ روزانہ کرتے ہیں اور جوغیر اخلاقی اور غیر قانونی بھی نہیں ہوتے‘ اس کے باوجود آپ ان کا ڈھنڈورا پیٹنا پسند نہیں کرتے۔ گوگل کے سی ای او کا اپنا یہ حال ہے کہ اس نے اپنے تمام ملازمین کو سی نیٹ میگزین سے بات کرنے سے سختی سے منع کر رکھا ہے کیونکہ اس میگزین نے سی ای او صاحب کی ذاتی اور نجی زندگی کے بارے میں ایک مضمون شائع کر دیا تھااور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون میں شائع کردہ تمام مواد گوگل سرچ سے ہی حاصل کیا گیا تھا!دوسری مثال جو گلین گرین والڈ نے دی وہ مزید دلچسپ تھی،اس نے ان تمام لوگوں کو یہ آپشن دیا جو لوگ indiscriminate mass surveillanceکو اس لئے برا نہیں سمجھتے کیونکہ وہ خود برے نہیں ہیں کہ وہ اسے اپنے تمام ای میل اکائونٹس کا پاس ورڈ،تمام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے پاس ورڈز اور دیگر پاس ورڈز جو انہوں نے کسی اور نام سے بنا رکھیں ہیں،گلین کو ای میل کر دیں تاکہ وہ ان پر نظر دوڑائے اور جہاں مناسب سمجھے اس میں سے کوئی بھی انفارمیشن لے کر کہیں بھی شائع کردے ۔گلین کے اس چیلنج کے جواب میں آج تک ایک بھی شخص نے یہ ہمت نہیں کی۔
امریکیوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہم پاکستان آتے ہیں، اپنے ملک کا یہ حال ہے کہ اول تو یہاں پرائیویسی کا کوئی تصور ہی نہیں، اوپر سے ریاستی ادارے آئے روز ایسے قوانین پاس کرتے ہیں جن کے بل بوتے پر رہی سہی پرائیویسی اور آزادی اظہار پر قدغن لگا دی جاتی ہے ۔تازہ ترین مثال سائبر کرائم بل کی ہے،یہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے،وہی وزارت جس میں شدت پسندوں کی ویب سائٹس تو بند کرنے کی ہمت نہیں مگر یو ٹیوب پر پابندی لگا رکھی ہے ۔اس بل میں یوں تو کئی قابل اعتراض شقیں ہیں مگر سب سے قابل اعتراض بات یہ ہے کہ جہاں جرائم کی تفصیل دی گئی ہے وہاں دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف محض خانہ پری کی زبان استعمال کی گئی ہے،یوں لگتا ہے گویا کسی نے با امر مجبوری یہ لکھا ہو کہ نفرت انگیز مواد انٹر نیٹ پر پھیلانا جرم ہوگا‘ کیونکہ اس بل کا اصل مقصد یہ نہیں‘اس بل کا اصل مقصد اظہار رائے پر پابندی لگانا ہے جو بل کی شق 34سے واضح ہے جس میں وہ تمام ڈریکولین اختیارات ریاست کو دے دئیے گئے ہیں جن کے تحت وہ public order, decency or moralityکے نام پر کچھ بھی کر سکتی ہے ۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر ای میل بھیجتے ہیں وہ بھی جرم ہے‘ حتی کہ انٹر نیٹ کیفیز اور ایسے تمام عوامی مقامات جہاں وائی فائی جیسی سہولت میسر ہو،اس کا مالک اس بات کا پابند ہے کہ وہ تین ماہ تک اس تمام انٹرنیٹ ٹریفک کا ریکارڈ رکھے،یعنی مال روڈ پر ٹریفک کنٹرول ہو نہ ہو انٹر نیٹ ٹریفک ضرور کنٹرول کریں گے۔
سائبر کرائم بل پاکستا ن میں پرائیویسی اور آزادی اظہار پر کلہاڑا چلانے جا رہا ہے،ایسے میں ہمیں بھی ایک پاکستانی ایڈورڈ اسنوڈن کی ضرورت ہے …توکوئی ہے؟

ضرورت ہے ایک پاکستانی ایڈورڈ اسنوڈن کی” پر ایک تبصرہ

  • فروری 7, 2016 at 5:38 PM
    Permalink

    یاسر پیرزادہ کو پڑھنے کا یہ میرا پہلا اتفاق ہے مگر بہت عمدہ تحریر ہے خوش رہیں یاسر صاحب اور ایسے ہی عمدہ تحریر کرتے رہیں
    بہت عمدہ موضوع ہے اور کمال الفاط اور تعلق جوڑا ہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *