35 پنکچروں کی تھیوری پنکچر ہو گئی

نجم سیٹھیNajam Sethi

ایسا لگتا تھا کہ35پنکچروں کی تھیوری اتنی دھماکہ خیز ثابت ہوگی کہ سب کچھ اُڑا کر رکھ دے گی، لیکن اس کی بجائے یہ خود ہی دھول بن کر ہوا میں اُڑ گئی۔ درحقیقت ایسی کوئی خفیہ ٹیپ ریکارڈنگ نہیں تھی جس میں نگران وزیر ِ اعلیٰ پنجاب، نجم سیٹھی(راقم الحروف) نے نواز شریف کو مطلع کیا ہو کہ 35پنکچر لگادیئے گئے ہیں۔ اس سے یہ مراد لی جاتی تھی کہ2013کے عام انتخابات میں ، میں نے پینتیس نشستوں پر دھاندلی کرتے ہوئے نواز شریف کی جماعت کو جیتنے کا موقع فراہم کیا۔تاہم انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے روبروپی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہونے والے مشہور وکیل حفیظ پیرزادہ نے پینتیس پنکچروں کے حوالے سے اشارتاً بھی کچھ نہ کہا حالانکہ اس کارروائی کے دوران، جبکہ کمیشن مجھ سے سوالات کررہا تھا، عمران خان اُن کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے۔ جو ’’شہادت‘‘ اُن کی طرف سے پیش کی گئی وہ میرے ٹی وی پروگرام کا سات جولائی 2013 کا ایک ویڈیو کلپ تھاجس میں ، میں نے کہا تھا کہ بطور نگران وزیر ِ اعلیٰ میں پنجاب میں کم و بیش غیر فعال ہوچکا ہوں(اس سے پہلے گیارہ مئی کو عام انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا اور صورت ِحال قوم کے سامنے تھی) کیونکہ اب پنجاب کی بیوروکریسی میری بجائے پنجاب کے نئے وزیر ِ اعلیٰ کی طرف دیکھ رہی ہوگی۔یقینایہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی اور ایک عام ٹھیلے والا بھی جانتا تھا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے مسٹر پیرزادہ سے کہا کہ وہ مزید کوئی اوربات کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ چیف صاحب کوبھی ا س کلپ میں کوئی غیر معمولی بات دکھائی نہیں دی۔ اس سے پہلے عمران خان نے وزیر ِ اعظم نواز شریف پر تنقید کی توپوں کے دہانے وا کیے ہوئے تھے کہ اُنھو ں نے (نوا زشریف) مجھے پینتیس پنکچر لگانے کے صلے میں پی سی بی کا چیئرمین لگاکر ’’مالا مال‘‘ کر دیا تھا۔ جب وقت آیا تو پینتیس تو کیا ایک آدھ پنکچر(یا ٹیوب میں ہوا بھرنے) کی بات بھی زبان سے نہ نکلی۔ اس کے علاوہ ان کی یہ بات بھی جھوٹ ہے کہ چیئرمین بنا کر مجھے ’’نوازا‘‘ گیا، کیونکہ میں نے دو سال تک بطور چیئرمین کرکٹ بورڈ فرائض سرانجام دیتے ہوئے بطور تنخواہ ایک پائی تک وصول نہیں کی۔ میں نے وہ تمام مراعات قبول کرنے سے انکار کردیا جن سے سابق چیئرمین استفادہ کرتے تھے ، جیسا کہ اہل ِخانہ کے ہمراہ فرسٹ کلاس انٹر نیشنل فضائی سفر، مہنگی گاڑیاں، بیرونی ممالک میں ہونے والےکرکٹ مقابلے دیکھنے کے لئے رشتے داروں اور دوستوںکے لئے لاکھوں روپے مالیت کے ٹکٹ ، لامحدود تفریحی الائونس، تفریحی مقامات پر قیام کی سہولیات اور پی سی بی میں پرکشش آسامیوں پر اہل ِخانہ ، دوستوں اور سفارشیوں کی تعیناتی وغیرہ۔
دراصل پینتیس پنکچروں کی تھیوری مبینہ طور پر ایک خبطی شخص، اعجاز حسین، نے نہایت چالبازی سے وضع کی تھی۔ اعجاز حسین پی ٹی آئی میں کسی اعلیٰ عہدے کا متمنی تھا، اس لئے اُس نے سوچا کہ یہ ’’انقلابی خبر‘‘ اُسے عمران خان کی نظروں میں بلند کرسکتی تھی۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی اپنی روایتی سادہ لوحی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تھیوری پر آنکھیں بندکرکے اعتماد کرلیا کیونکہ یہ اُن کے ’’موقف ‘‘ کی تائید کرنے کے علاوہ اُن کی سیاسی چال( جو وہ چلنے جارہے تھے) کے قریب ترین تھی، کیونکہ جب تک وہ پنجاب، جہاں نواز شریف کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی تھی، کے انتخابی نتائج کو چیلنج نہ کریں، وہ انتخابات چرانے کے لئے بنائی گئی سازشی تھیوری کا نواز شریف پر الزام عائد نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ وہ راقم الحروف کی انتظامیہ ، جب کہ میں پنجاب کا نگران وزیر ِا علیٰ تھا، کو اس سازش میں عملی طور پر شریک کریں۔ اس کے بعد عوام جانتے ہیںکہ اُنھو ں نے دھرنوں سمیت ہر پلیٹ فارم سے مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ کرنا اپنا سیاسی نصب العین ٹھہرالیا۔
پندرہ ماہ پہلے میں نے اُن پر عدالت میں کیس کیا کہ وہ یا تو ان الزامات کو ثابت کریں یا میری ہتک ِعزت کرنے پر ہرجانہ ادا کریں ۔ انصاف کے دعویدار نہ تو عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی میری شکایت کے جواب میں عدالت میں کوئی تحریری بیان جمع کرایا۔ اُن کے سیاسی پیروکاروں، جیسے شیریں مزاری اور نعیم الحق اور صحافیوں، جیسا کہ ڈاکٹر شاہد مسعودنے بھی اس موضوع کو اس قدر رگیدا کہ سن سن کر عوام کا ناک میں دم ہوگیا۔ اس کہانی میں ایک دلچسپ موڑ اُس وقت آیا جب سپریم کورٹ میں یہ معاملہ پیش ہونے کے چند دن بعد نعیم الحق نے بہت سختی سے کہا کہ پینتیس پنکچروں کی کہانی دراصل ایک مشہور سیاست دان اور ’’دی مسلم‘‘ اخبار کے سابق مالک، آغا مرتضی پویا نے بیان کی تھی۔ نعیم الحق کی اس دروغ گوئی کے چند گھنٹوں کے اندر اندر مسٹر پویا نے عوامی طور پر سخت الفاظ میں تردید کی۔
حقیقت یہ ہے کہ مجھے پی پی پی اور اس کے اتحادیوں نے نگران وزیرِاعلیٰ نامزد کیا تھا۔ پی ایم ایل (ن) نے نگران وزیر ِاعلیٰ کے عہدے کے لئے دوامیدواروں کے نام پیش کیے تھے ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پنجاب کے نگران وزیر ِ اعلیٰ پر آخری وقت تک اتفاق کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی تھی تاوقتیکہ تین دن کی ڈیڈ لائن گزرنے میں بمشکل نصف گھنٹہ رہ گیا تو پی ایم ایل (ن) نے میرے نام پر چاروناچار اتفاق کیا کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جاتا اور پھر وہ اپنی مرضی سے نگران وزیر ِاعلیٰ کا اعلان کرتا۔ اس بات کی یاددہانی کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ میں پی ایم ایل (ن) کا پسندیدہ نامزد نہیں تھا۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان نے مارچ میںسرِعام میری نامزدگی پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ میں نے الیکشن کمیشن کے نامزدکردہ قمرالزماں چوہدری کو اپنا چیف سیکرٹری بنانے سے اس لئے انکار کردیا تھا کیونکہ عمران خان نے اُن کی تعیناتی پر سرعام اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مجھے کہا تھاکہ میں مسٹر چوہدری کو قبول نہ کروں۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ میں نے اُن پندرہ سینئر سرکاری افسران کا پنجاب سے اسلام آباد تبادلہ کردیا جو شریف برادران کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ میں نے پنجاب میں پٹواری سے لے کر چیف سیکرٹری اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی پی تک، سب کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کردیا تاکہ کوئی مجھ پر جانبداری کا الزام عائد نہ کرسکے۔ میں نے اُن دو سینئر سیکرٹریوں کو اُن کے عہدوں پر برقراررکھا تھا جن کے قریبی رشتے دار پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ اُس وقت وزیر ِداخلہ وہ صاحب تھے جو پی ٹی آئی کی ٹاسک فورس میں شامل تھے۔ میں نے ایڈوکیٹ جنرل پر زور دیا تھا کہ وہ اپنےعہدے سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ اُن کی تعیناتی شہباز شریف نے کی تھی۔ درحقیقت اُس دور میں اگر میں نے کسی کے ساتھ رعایت برتی تو وہ صرف عمران خان ہی تھے جب اُنھوں نے مجھے کہا کہ اُنہیں جنوبی پنجاب کے چھوٹے قصبوں میں ریلی کے دوران جلسے کرنے کی اجازت دی جائے ۔ میں نے SOP کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُنہیں اس بات کی اجازت دے دی۔
اب عمران خان نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس(ر( خلیل رمدے، جنگ جیوگروپ پر الزام لگانے کی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ اب شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ وہ مجھ سے بھی عوامی سطح پر معذرت کریں اور میری شہرت کو داغدار کرنے کی پالیسی ترک کردیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *