حکومت کے 100دن، خلق خدا کیا کہتی ہے؟

OLYMPUS DIGITAL CAMERAمسلم لیگ (ن) کی تیسری حکومت نے اپنے ابتدائی 100دن پورے کر لیے۔ سیاسیات کی کتاب میں کسی جمہوری حکومت کے ابتدائی 100دنوں کو اس کا ہنی مون پیریڈ قرار دیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے میاں صاحب کی حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا۔ بعض ستم ظریفوں کے خیال میں ہنی مون تو پہلی شادی کا ہوتا ہے۔ تیسری شادی کا ہنی مون کیسا؟کہ اب تو کچھ بھی نیا نہیں ہوتا۔
احمد بلال محبوب کا پلڈاٹ(پاکستان انسٹٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی ) اپنی کارکردگی اور اپنے اعتبار و اعتماد کے لحاظ سے عالمی سطح پر ایک مسلمہ ادارہ ہے۔یہ اتوارجمہوریت کا عالمی دن تھااور پلڈاٹ نے اس موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ابتدائی 100دنوں میں ڈیموکریسی اور گورننس کی کارکردگی کے عنوان سے پاکستانی رائے عامہ کے جائزے پرمشتمل اپنی رپورٹ ریلیز کی۔مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کو نوید ہو کہ اس کی وفاقی حکومت کی کار کردگی پر ملک کے چاروں صوبوں سے 62فیصد خواتین و حضرات نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے گڈ ریٹنگ دی جبکہ 32فیصد نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔سب سے زیادہ پذیرائی مسلح افواج اور صوبائی حکومتوں سے وفاقی حکومت کی ہم آہنگی کی پالیسی کو ملی جبکہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر امریکہ ، چین اور بھارت کے ساتھ نواز شریف حکومت کے معاملات کی 57فیصد عوام نے تعریف کی۔ البتہ توانائی کے بحران اور دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت کی 100روزہ کارکردگی پر لوگوں نے محتاط رائے کا اظہار کیا۔ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کے حوالے سے اگر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے سب سے زیادہ (59فیصد) ووٹ حاصل کیے تو اس میں اچنبھے کی کیا بات؟ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کے حوالے سے یہ رائے صرف متعلقہ صوبوں سے نہیں بلکہ ملک بھر سے حاصل کی گئی تھی۔وہ جو کہتے ہیں ،جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے،ہمارے پسندیدہ کالم نگار جناب ایاز امیر محدب عدسہ بھی استعمال کریں تو انہیں 11مئی کے انتخابات کے بعدقائم ہونے والے نواز شریف حکومت میں شاید ہی کوئی خوبی نظر آئے۔ لیکن اسے دلچسپ اتفاق کہیے کہ پلڈاٹ کی یہ رپورٹ ریلیز ہونے سے 2دن قبل دی نیوز اور ایک روز پہلے جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم ”نئی حکومت کی غلط ترجیحات“ میں وہ بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہے کہ حکومت اب مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اسے بہت زیادہ پریشانیوں کا بھی سامنا نہیں ۔ اس کے وزراء کی بدعنوانیوں کی کہانیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس ضمن میں اس کی کار کردگی گزشتہ حکومت سے بہت بہتر ہے۔ وزیر اعظم بھی سنجیدہ اور پر عزم دیکھائی دیتے ہیں“۔لیکن اس کے بعد انہوں نے یہ لکھنا بھی ضروری سمجھا کہ اصل مسئلہ صرف ذ ہنی رسائی کا ہے کہ اس کی نگاہوں میں پورا پاکستان نہیں ۔ ایاز امیر کے خیال میں گزشتہ 5سال میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ساری توجہ لاہور پر تھی تو اب وفاق میں بھی برسراقتدار آنے کے بعد اس کی توجہ کا بیشتر مرکز لاہور کے ساتھ صرف اسلام آباد ہے۔لیکن پلڈاٹ کا جائزہ ایک مختلف کہانی سامنے لاتا ہے جس میں ملک کے چاروں صوبوں میں رائے عامہ کا جائزہ لیا گیا اور اس کے مطابق نواز شریف حکومت کو62فیصد لوگوں کی پذیرائی حاصل ہوئی۔
اس میں شک نہیں کہ ان 100دنوں میں پٹرولیم مصنوعات ، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے نے مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور خصوصاََ تنخواہ یافتہ طبقے کو بری طرح متاثر کیا۔ ضرورت کی ہر شے کو پر لگ گئے اور عام آدمی کے لیے گھریلو بجٹ بنانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ سر ڈھانپتا ہے تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور پاؤں ڈھانپتا ہے تو سر برہنہ ہو جاتا ہے۔انتخابی مہم کے دوران ”اے طائر لاہوتی “ سے دلوں کو گرمانے والی قیادت بر سر اقتدار آکر آئی ایم ایف سے قرضے لیتے ہوئے نظر آتی ہے۔ لیکن پلڈاٹ کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ عوام کو حکومت کی مجبوریوں اور معذوریوں کا احساس ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی سمت درست ہے اور انہیں اس کی نیت اور صلاحیت پر بھی اعتماد ہے۔سچی بات یہ ہے کہ خود ہم نے مایوسی کے منفی جذبے سے نجات پا کر گزشتہ 100دنوں کی کار کردگی پر نظر ڈالی تو ہمیں بھی کام کی کئی چیزیں نظر آئیں۔عام انتخابات کے بعد پہلا مرحلہ وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کا تھا۔ مسلم لیگ (ن) وفاق میں باآسانی اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی ، پنجاب اسمبلی میں بھی اس کی دو تہائی سے زیادہ اکثریت آگئی تھی ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل تھی اور وہ کسی دوسری حکومت کی بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی۔خیبر پختونخواہ میں معاملہ مختلف تھا جہاں سب سے بڑی جماعت ،پاکستان تحریک انصاف کے پاس ایک تہائی نشستیں تھیں۔مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمن کی بات مان کرتحریک انصاف کی حکومت کا راستہ روک سکتی تھی لیکن نواز شریف نے تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع دیا کہ سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت سے پہلا حق اسی کا بنتا تھا ۔بلوچستان میں سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی ہونے کے باوجود نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے لیے پچھلی نشستوں کا انتخاب کیا اور تیسرے نمبر پر آنے والی نیشنل پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا ۔ دوسرے نمبر پر آنے والی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کو گورنری سونپ دی گئی۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں حکومتی اکھاڑ پچھاڑسے گریز کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا حصہ بننے سے روک دیا گیا اور یوں ایک حساس علاقے کو سیاسی عدم استحکام سے بچا لیا۔
نواز شریف نے توانائی کے بحران کو بنیادی اہمیت دی کہ اس سے نجات کے بغیر قومی معیشت کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ 500ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں 1700 میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ برسوں سے التواء میں پڑے ہوئے نندی پور پروجیکٹ پر تیزی سے کام کا آغاز ہوا ۔ نیلم جہلم منصوبے پر بھی کام کی رفتار تیز تر کی گئی ۔گڈانی کے مقام پر 6600میگا واٹ کے انرجی پارک کا افتتاح ان 100دنوں میں ایک اہم کارروائی ہے جو 2سال میں مکمل ہوگی۔ کراچی میں امن و امان کے لیے وہاں کے تمام سٹیک ہولڈرز کی تائید کے ساتھ ٹارگیٹڈ آپریشن کا آغاز اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے مشاورت کے ساتھ حکمت عملی کی تیاری ، ڈرون حملوں پر جاندار موقف اور اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کا آپشن ، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مربوط اور موثر بنانے کا منصوبہ اور پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس کے قیام کا فیصلہ ان 100دنوں کے اہم اقدامات ہیں ۔ وزیراعظم کا دورہ چین اور اس میں خنجر اب سے گوادر تک اکنامک کاریڈور ، اورلاہور سے کراچی تک موٹر وے کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے متعدد منصوبوں پر اتفاق،اور جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں ،وزیر اعظم نواز شریف ترکی کے دورے پر ہیں جس میں 8اہم منصوبوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کے لیے کیش سپورٹ پروگرام کے لیے نئے مالی سال میں 75ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ گزشتہ سال یہ رقم 44ارب روپے تھی۔ وزیر اعظم یوتھ ٹریننگ پروگرام کے تحت ڈگری کورس مکمل کرنے والے 25برس سے کم عمر نوجوانوں کو ایک سالہ ٹریننگ کورس کی سہولت فراہم کی جائے گی اس دوران انہیں 10ہزار ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔سمال بزنس لون سکیم کے تحت نوجوانوں کو 1لاکھ سے 20 تک آٹھ فیصد شرح سود پر قرضے دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ پہلے برس 50ہزار نوجوانوں کو یہ سہولت مہیا ہوگی۔فاٹا ، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے مستحق طلبا کو ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ٹیوشن فیس حکومت ادا کرے گی۔سخت نا مساعد حالات میں زمام کار سنبھالنے والی حکومت کی 100دن کی اس کار کردگی پر اظہار اطمینان کر نے والے 62فیصد عوام ایسے بے شعوربھی نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *