پرکشش منصوبے اور انسانیت کی فلاح

ایاز امیرAyaz Amir

ہر استیصالی نظام میں کچھ نہ کچھ ایسے سیفٹی والو ضرور ہوتے ہیں جو عوام کو خوش رکھتے ہوئے اُن کی توجہ اصل معاملات سے بٹا نے میں کامیاب رہتے ہیں۔ روم کے شہنشاہ سیزر عوام کو مفت کھانا کھلاتے اورسرکس کی تفریح جس میں شمشیر زنی کے مقابلے ہوتے، فراہم کرتے ہوئے خوش رکھتے تھے ۔ ایسے مقابلوں کے لیے بہترین شمشیر زن حاصل کیے جاتے۔ دودراز کے علاقوں سے شیر اور چیتے لاکر مقابلوں کا ’’حسن‘‘بڑھایا جاتا ۔ مسلمان بادشاہ جشن کے مواقع پر عوام کے ہجوم کی طرف سونے اور چاندی کے سکے اچھالتے۔ ایسی ’’سخاوت‘‘ سے عوام کو خوش رکھتے ، چنانچہ بہتر ین محلات، غلام اور محبوبائیں رکھنے کے باوجود ’’ظلِ الہی‘‘اور ’’عالم پناہ‘‘ کہلاتے۔ اہم بات یہ ہے عوام کے نصیب میں محض سکے ہی تھے۔ مسیحی پوپ بھی عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے۔اُن میں سے کچھ خفیہ طور پر محبوبائیں بھی رکھتے تھے۔ ان کی طر ف سے عوام کے لیے دعائیں، گناہوں سے نجات اور دوسری دنیا میں عذاب سے بریّت کی نویدہوتی تھی۔ کیمونسٹ رہنماؤں نے مساوات کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے لیے زندگی کی تمام آسائشیں ممکن بنا لیں۔ لینن درحقیقت ایک درویش صف انسان تھے۔ ان کی تفریح کا پسندیدہ ترین طریقہ ان کی لائبریری میں پایا جاتا تھا۔ یہ مختلف زبانوں کی ڈکشنریاں تھیں جن کا مطالعہ اُسے سکون دیتا تھا۔ سٹالن کی اکثر عادات اساطیری تھیں ، حتی کہ سیکس بھی، لیکن رات گئے ہونے والی پارٹیوں میں وڈکا کی بھاری مقدار نوشِ جان کی جاتی، جیسے جیسے رات گہری ہوتی، خمار آلودہ نظریں خمیدہ آسمان کی بھول بھلیوں میں کھو جاتیں۔ عظیم عوامی رہنما، ماؤزے تنگ، جن کا طویل دور اُن کے اپنے عوام کے لیے ایک آزمائش سے کم نہ تھا، بھی رقص و موسقی کے رسیا تھے ۔ ان کے افسران خیال رکھتے تھے اُن کے پاس گرل فرینڈز کی سپلائی کم نہ ہونے پائے، تاہم وہ مساوی حقوق رکھنے والی عوامی ریاست کی باتیں کرتے نہ تھکتے۔ عربوں کے شاہی خاندان کے افراد لندن، پیرس ، نیویارک اور دنیا کے بہترین مقامات پر اپنی رہائش رکھتے ہیں لیکن وہ امدادی قیمت پر عوام کواشیائے ضروریہ فراہم کرنا نہیں بھولتے۔ جب بہارِ عرب کی لہر اس خطے کے حکمرانوں کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی تھیں تو شاہ عبداﷲ مرحوم نے اپنے عوام کے لیے پندرہ بلین ڈالر کے فلاحی پیکج کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد لاہور موٹروے کے ہمارے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر ایک سوالیہ نشان موجود (مجھے تاحال اس کا معاشی فوائد کا علم ہونا باقی ہے)لیکن تسلیم کرنا پڑے گاکہ یہ ایک اچھا سیاسی اقدام تھا۔ اس کی تعمیر سے لے کر اب تک حکمران جماعت نے اسے اپنی مہارت ، ترقی اور کامیابی کی عظیم علامت قرار دیا ہے۔ کیا کوئی پورے ہوش و حواس کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کا سماجی معاشی نظام استیصالی نہیں اور اس کی فعالیت کا دائرہ اشرافیہ کی مزید خوشحالی کے گرد نہیں گھومتا؟تاہم جب آپ لاہور اورپھر راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس سروس قائم کرتے ہیں اوران ’’غریب پروراقدام‘‘ کے بل بوتے پر آپ دس پندرہ سال تک حبیب جالب کے انقلابی شعر پڑھتے رہتے ہیں.... اور اسی دوران آپ کا شوگراور پولٹری بزنس اور سعودی عرب اور لند ن میں ہونے والی سرمایہ کاری اور جائیداد کی خرید میں اضافہ ہوتا رہتا ہے تو جناب یہ پاکستانی عوام....’’کسی حبیب کی یہ بھی ہیں آرزو کرتے‘‘۔
درحقیقت ایشیا ، خاص طور پر مشرقی ایشیا کا حکمران طبقہ صرف امیر ہی نہیں، انتہائی امیر ہے۔ بہت سے چینی رہنمابے پناہ دولت میں کھیلتے ہیں۔ اسی طرح ملائشیا ، تھائی لینڈ(شینا وترا سب کو یاد ہوگا؟)اور ترکی کے رہنمااور برماکے جنرل انتہائی امیر ہیں۔ پاکستان کے رہنما بھی اسی ’’بگ لیگ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم انہیں ایک بات کا کریڈ ٹ دینا پڑے گا کہ یہ رہنما عوام کے دلوں کو چھولینے والی زبان بولنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ اگرچہ دولت ہے کہ ان کے اکاؤنٹس میں جمع ہوتی چلی جارہی ہے، بزنس ہے کہ بڑھتا ہی دکھائی دیتا ہے لیکن ان کے پاس اتنی عقل ضرور ہے کہ یہ ایسے منصوب بناتے رہیں جو عوام کو اچھے لگیں۔ ہو سکتا ہے کہ میٹرو منصوبوں سے لاہور اور روالپنڈی کے صارفین کی سفری مشکلات میں قدرے کمی واقع ہولیکن ان پر صرف ہونے والے بھاری وسائل ملک میں تعلیم اورصحت کی سہولیات کی فراہمی کو مزید ابتر کردیں گے۔ تاہم ان بسوں کی چمک اتنی خیرہ کن ہے کہ کوئی ان سے یہ سوال بھی نہیں پوچھے گا۔
اس دوران پاکستان کے دونوں طبقات، دولت مند اور حاجت مند،دریاکے دونوں دھاروں کی طرف ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔ موخر الذکر کی تعداد میں ہوتا ہوا اضافہ اول الذکر کی چاندی کرتا جائے گا۔ سماجی طور پر ان دونوں کا تعلق مختلف دنیاؤں سے ہے۔ یہ طبقات ہمیشہ سے ہی موجودرہے ہیں لیکن ان کے درمیان تفاوت کی لکیر جتنی گہری اور واضح آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔اس امتیاز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آپ کو بلوچستان کے اندرونی حصوں میں سفر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ فرق لاہور میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ پہلے رائل پام یا جمخانہ کے پرکشش سوئمنگ پولز پر جائیں اور پھر لاہور کینال کو طویل سوئمنگ پول کے طور پر استعمال کرنے والوں پر بھی ایک نگاہ ڈالیں۔ اس نہر کا پانی گہرے براؤن رنگ کا ہے، لیکن اس میں کودنے والے لڑکوں کودیکھیں کہ وہ اس آلودہ پانی میں کودنے کا کتنا بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ کیا راوی، یا گارا نما جو چیز بھی باقی ہے، کو بھی کبھی صاف کیا جائے گا؟ہر گز نہیں، کانوں کو ہاتھ لگائیں، یہ مسائل لکیر اس پار دوسرے پاکستان کے ہیں۔ عمدہ سوئمنگ پولز کے پانی کی چمک ہے ہی اتنی خیرہ کن کہ اس پاکستان کے مسائل دکھائی ہی نہیں دیتے۔
موجودہ حکومت اپنی مدت کے دو سال پورے کرچکی ۔ ایک بات کا اس کریڈٹ دینا چاہیے کہ اس نے پی پی پی حکومت کی نسبت لوڈ شیڈنگ کے مسلے پر قدرے قابوپالیا ہے۔ تاہم اس کے علاوہ اس کے دامن میں دو میٹرو بس منصوبوں کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹس اور گوادر کاشغر معاشی شاہراہ پر کام ہورہاہولیکن معاشی زبان میں یہ صرف سطحی تبدیلیاں ہیں، لیکن اسلام کے اس قلعے کی ضروریات کچھ اور ہیں۔ اس تعلیم اور صحت کے میدان میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ یکساں نظامِ تعلیم، یکساں نظامِ امتحان اور نصاب...جس میں غیر جانبدار ی سے تاریخ کی تعلیم لازمی ہو۔تاہم یکساں نظامِ تعلیم سے بھی زیادہ کوالٹی ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ کیاہم بطور ایک ملک ترقی کرسکتے ہیں جہاں عالمی معیار کی تعلیم نہ ہو اور جہاں افرادی قوت ناخواندہ یا نیم خواندہ ہو؟سنگاپور، جنوبی کوریا، چین، کسی بھی ملک کی مثال لے لیں، ترقی کی منزل تعلیم کے راستے پر ہی چل کر حاصل ہوئی ہے اور ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی ملک نے عوام کو تعلیم دینے سے پہلے ایسے خیرہ کن منصوبے نہیں بنائے تھے۔ کیا ہم کسی اور سیارے پر آباد ہیں؟ہم تعلیم کے لیے روس اور کیوبا کو ماڈل کے طو رپر لے سکتے ہیں۔ آپ یہ بات پروفیسرز یا ہر طرف بکثرت دکھائی دینے والے ماہرینِ معاشیات سے کریں تو وہ غصے کھول اٹھیں گے۔ شیخ زید ایونیو اور سگنل فری کاریڈورز جیسے منصوبے سوچنے والوں کی دنیا اور ہے۔ ان کاماڈل تیل کی دولت سے مالا ریاستیں ہیں۔ تاہم یہ بات وہ نہیں سوچتے کہ ہم کوئی صحرائی ریاست نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس تیل کی دولت ہے۔ ہمیں ترقی کرنا چاہیے تھی لیکن ہم بہت پیچھے رہ گئے۔ ہماری پسماندگی کا کیا وجہ ہے؟ہم ابھی بھی مذہب اور نظریاتی کشمکش میں کیوں الجھے ہوئے۔ اسلام کے دو بنیادی اصول بہت اہم ہیں اور ہمیں ان دونوں کو اپنی گرہ سے باندھ لینا چاہیے.... ریاست میں کوئی بھوکا نہ سوئے ، اور علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے کتنے ہی جتن کیوں نہ کرنے پڑیں۔ ان دونوں اصولوں کے بعد شادی اور دین مکمل۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ دنیا میں بھوکوں کوکھانا کھلائیں، گویا ان کی معاشی ضروریات کا اہتمام کریں اور جہالت کے اندھیرے کو مٹائیں۔ ان اقدامات سے دنیا اور آخرت میں نجات کی نوید سنائی گئی ہے۔
دورِ جدید کے تین اہم ترین افراد نے دنیا کو آگاہی عطا کی، وہ کارل مارکس، فرائڈ اور آئن سٹائن ہیں۔ انھوں نے بالترتیب معاشیات، انسانی ذہن اور فزکس اور کائناتی رازوں کو بے نقاب کیا۔ کیا انسانیت کے یہ محسن جنت کے دروازوں میں سے نہیں گزریں گے؟
اس کے بعد سرالیگزنڈر فلیمنگ ، جنھوں نے پنسلین دریافت کی، کے بارے میں کیا خیال ہے؟کیا فرشتوں نے قطار درقطار کھڑے ہوکر اُن کا دوسری دنیا میں استقبال نہیں کیا ہوگا کیونکہ ان کی ایجاد کے نتیجے میں کروڑوں جانیں بچانا ممکن ہوئیں اور انسان کے دکھوں میں کمی آئی؟کیا ہومر، دانتے، شیکسپیئر، حافظ، خیام ، میر، غالب اور نوائے سروش کے حامل خامہ بردار وں کا مقام جنت کے علاوہ بھی کچھ اور ہوگا؟ کیا انسانوں کووجد آفرین موسیقی سے سرشار کرنے والے جنت میں نہیں ہوں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *