لاہور اور استنبول

sajjad mirآج کل ترکی کا بہت چرچا ہے۔ اس قدر چرچا ہے کہ ہم سعودی عرب کو بھی بھول گئے ہیں۔ اچھی بات ہے، ترکی ہمارا قابل اعتماد دوست اور بھائی ہے۔ چند برس میں اس نے ترقی کے اتنے زینے طے کئے ہیں کہ آج ہم ہر معاملے میں مدد کے لئے ادھر دیکھ رہے ہیں۔ کوڑا کرکٹ اٹھانا ہو یا میٹرو بس چلانا ہو، ہم اپنے اس برادر ملک کا ہاتھ پکڑتے ہیں۔ وہاں کے عوام بھی ہم سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہ چند سطریں میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ یہ عرض کر سکوں یہ رشتے بہت نازک ہوتے ہیں اور جب ان میں کاروباری مصلحتیں بھی شامل ہو جائیں تو کئی بار ان کی نزاکتوں کے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا خدشہ ہوا کرتا ہے۔ ماضی میں اس کی ایک آدھ مثال موجود بھی ہے۔
ہمارا ایسا ہی معاملہ چین کے ساتھ ہے۔ جب نواز شریف پچھلی بار اقتدار میں آئے تھے تو جنوبی کوریا سے تعاون کا سسلسلہ لے کر آئے تھے۔ یہ موٹر وے اسی تعاون کی دین ہے۔ ان کی بس سروس آج بھی چل رہی ہے اور ہمارے ٹرانسپورٹرز کو مسافر نوازی کے آداب سکھا رہی ہے۔ پیلی ٹیکسیوں میں بھی ہم نے کوریا کی کاروں کو اولیت دی تھی، لگتا تھا کہ ہر کام کوریا ہی کر ے گا۔ یہ وہ دن تھے جب سنگا پور ہمارے حکمرانوں کا آئیڈیل تھا۔ ہم ملائیشیا کی ترقی سے بھی متاثر تھے، مگر ہمارا صنعتی اور کاروباری تعاون جنوبی کوریا سے زیادہ مضبوط ہوا۔ اس بار جانے وہ کوریائی کمپنیاں کہاں چلی گئیں۔ اب کی بار ہم سیدھے چین کے پاس پہنچے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اگرچہ زرداری چین کے بار بار دورے کرتے رہے ہیں، تاہم شہباز شریف بھی پنجاب سے وفد لے کر وہاں جاتے رہے۔ ان کی مشکل یہ تھی کہ وفاق کی حکومت ان کے ہاتھ میں نہ تھی۔ اب جب مسلم لیگ کی دونوں جگہ حکومت قائم ہوئی ہے،تو نواز شریف نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ چین ہی کا کیا ہے۔ لگتا ہے، چین نے سارے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہماری نئی موٹرویز، ہمارے پاور ہاﺅسز، ہماری بلٹ ٹرین سب کچھ چین سے ملنے کی نوید مل رہی ہے۔ ظاہر ہے، بدلے ہوئے عالمی حالات میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس میں دوچار بڑے سخت مقام آئے ہیں۔ ان کا سرسری تذکرہ اس لئے کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عرض کر سکوں کہ ترکی میں بھی ایسے مسائل آ سکتے ہیں۔ بلکہ ماضی میں آئے ہیں۔
چین اب صنعت و تجارت کے میدان میں اترا ہے تو اس کاروبار کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ ہمیں انہیں نہیں بھولنا چاہیے۔ وگرنہ ریلوے انجنوں یا سندک منصوبے کے حوالے سے جو گرد اڑی ہے، اس طرح کے اعتراضات ہمارے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ جب ہم کاروبار کرتے ہیں تو کاروبار کی اپنی احتیاطیں، اپنی اخلاقیات اور اپنا طریق کار ہوتا ہے۔ اس میں یہ فرق نہیں پڑتا کہ آپ یہ کاروبار چین کے ساتھ کررہے ہیں یا امریکہ کے ساتھ ۔ ترکی کے ساتھ کررہے ہیں یا سعودی عرب کے ساتھ۔ یہ کام جپھی ڈال کر نہیں ہوا کرتے، اچھی طرح میز کے گرد نقشہ جما کر ہوا کرتے ہیں۔ ترکی کے حوالے سے بھی ہم اب بہت آگے جانا چاہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اب سب کچھ ترکی سے آئے گا یا پھر چین سے۔ ۔ موجودہ حکمرانوں نے اس کی داغ بیل تو پہلے ہی رکھ دی ہے ، اب وہ ترک حکومت اور سرمایہ داروں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ آئیں اور سرمایہ کاری کریں اور ہمارے مسائل حل کریں۔ مجھے اس حوالے سے ماضی کے دو تلخ حوالے یاد آ رہے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے موٹروے ون یعنی پشاور اسلام آباد سیکٹر کا ٹھیکہ ترکی کی ایک فرم کو دے رکھا تھا ، پرویز مشرف نے آتے ہی اسے منسوخ کردیا۔ وہ خود ترکی میں رہ چکے تھے، جانے اس کا پس منظر کیا تھا۔ بہرحال یہ موٹروے بعد میں ہمارے ہی فوجی ادارے نے تعمیر کی۔ پھر پیپلزپارٹی کے زمانے میں ہم نے ریننٹل پاور پلانٹ کے سلسلے میں پاک ترک تعلقات میں خاصے مسائل پیدا کئے۔ یاد ہے نا کہ ایک جہاز سمندر میں کھڑا بجلی دینے کے لئے ترکی سے آیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم سے ہم نے یہ معاہدہ منسوخ کیا۔ کاروبار میں بھائی بھائی میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ کہنا مجھے یہ ہے کہ اس کارپوریٹ دنیا میں ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے جو بھائی سرمایہ دارانہ دنیا میں بہت آگے جا چکے ہیں، ان سے معاملات کرنے میں ہمیں اس پوری فضا کو ذہن میں رکھنا ہو گا جو اس کارپوریٹ دنیا کا حصہ ہے۔ اس میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں مبادا تعلقات کے آبگینے پر بال آئے۔
یہ بھی درست ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ جو ٹیم گئی ہے ان میں کاروباری لوگ بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے اس پر ویسے ہی انگلیاں اٹھ رہی ہیں جیسی چین میں ایک صنعت کار کے جہاز کے جانے پر اٹھی تھیں۔ اس بار شاید کوئی طیارہ حکمران خاندان کو ہمراہ لے کر نہیں گیا۔ کہا گیا تھا کہ کچھ پاکستانی صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ شور اب بھی اٹھ سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ نواز شریف نے اس پر بہت نپا تلا جواب دیا تھا کہ بھئی کوئی بھی آئے اور یہ کام انجام دے۔ ہم تو تلاش میں ہیں، کسی کو ترجیح دینے کا معاملہ نہیں، لوگوں کو قائل کرنے کا مسئلہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور جام اٹھائیں۔
میں نے عرض کیا تھا کہ کارپوریٹ سیکٹر کی اپنی حرکیات اور اخلاقیات ہیں۔ بہت کچھ ہو گا جس پر بہت کچھ کہا جائے گا، مگراس پہیے کو چلنے دیجئے۔ ہمارے پاس فی زمانہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ جسے ہم گھپلے سمجھتے ہیں وہ اس نظام کا حصہ ہیں۔ بس یہ کہ اس کی حدیں کرپشن کی حدوں کو نہ چھوئیں۔ اس کے بھی اس نظام میں معیارات طے ہیں، عرض کیا اسے اس کی اپنی حرکیات اور اخلاقیات میں سمجھا جائے۔ کیا کریں ، ہم اس نظام میں پھنس چکے ہیں۔ نکلنے میں وقت اور طاقت درکار ہے۔
ویسے شروع میں عرض کیا تھا کہ ہم اس بار سعودی عرب کی طرف نگاہ التفات کے لئے اس طرح نہیں دیکھ رہے جس طرح ماضی میں دیکھا کرتے تھے۔ اس کی وجوہ ہوں گی اور بیان بھی کی جاتی ہیں۔ ایک لحاظ سے کارپوریٹ دنیا میں شاید ترکی ہمارے لئے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے اپنے دو بڑے پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرائی تھی۔ پی ٹی سی ایل یعنی ٹیلیفون کی قومی کمپنی اور کے ای ایس سی یعنی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن۔ دونوں تجربے نجکاری کے حوالے سے اتنے سود مند ثابت نہیں ہوئے۔ شاید اس لئے کہ ان ملکوں کے پاس پیسہ تو ہے، مگر کارپوریٹ دنیا کا تجربہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کو نجکاری ہی سے بدظن کردیا۔ ہم جو کچھ بھی کرنے جا رہے ہیں، وہ وفور جذبات میں کرنے کا نہیں۔ نئے امکانات کی دنیا روشن ہے۔ ہمارے لئے بھی اور ہمارے بھائی ترکی کے لئے بھی۔ اسے کامیاب بنانے کی ذمہ داری میری نظر میں ہمارے ٹیکنو کریٹ یا سرمایہ کاروں کی ہے، اور کسی کی نہیں۔ بس مجھے فی الحال اتنا ہی عرض کرنا ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ یہ منصوبے آرائشی نہ ہوں، بلکہ ان کے ہمارے عوام کی زندگیوں پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوں۔ ہمیں ”سر کا راما“ نہیں چاہیے، مضبوط بنیادوں پر تعاون چاہیے۔ یاد ہے نا کہ ایوب خاں کے زمانے میں امریکہ نے پاکستان میں ”سر کا راما“ کا تحفہ بھیجا تھا، کوئی الیکٹرک شعبدہ بازی تھی اور بھارت کی چپکے چپکے ٹھوس امداد کر دی تھی، اس انتخاب میں بھی قصور ہوا تو اپنوں کا ہو گا۔
اجازت چاہنے سے پہلے ایک آخری اور بنیادی بات عرض کر دوں۔ ہم بڑے جوش و خروش سے اعلان کررہے ہیں کہ ہم لاہور کو استنبول بنائیں گے۔ ہم دنیا کے کئی شہروں کو اپنے شہروں کا جڑواں شہر بنانے کا اعلان کرتے آئے ہیں، اس کے مگر ایک معنی ہے۔ حضور خاتمی المرتبت نے اس لشکر کے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی جو استنبول کو فتح کرے گا۔ حضور کی مدینہ منورہ میں میزبانی کا شرف حاصل کرنے والے جلیل القدر صحابی کا مزار اسی شہر کی فصیل کے باہر ہے جو اسی طرح خلق خدا کی توجہ کا مرکز ہے کہ بقول کسے جس طرح داتا کا دربار لاہور میں ہے حضور کا ایک اور فرمان مشہور ہے جس پر اقبال نے کہا تھا کہ میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے۔ کیا خبر یہ دو حدیثیں ہمارے درمیان ایک باطنی رویے کی علامت ہوں۔ اور ہماری محبت کے پیچھے بولتی ہوں۔ اسی دیس میں کونیہ کے مقام پر مولائے روم کا مزار ہے جس کے مرید ہندی لاہور میں آسودہ خاک ہیں ۔ بڑی نسبتیں ہیں ہمیں اس خاک سے
نکہت گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا
تربت ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اے مسلماں ، ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر
سیکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر
یہ شعر اقبال نے اسی استنبول یعنی قسطنطنیہ کے بارے میں کہے تھے ۔ خاک ترکی سے ہمیں اور بھی کئی محبتیں ہیں ۔ ہم نے انگریز کو اپنا حکمران نہ سمجھا، مگر ترک خلافت کو اپنا پیشوا مانا۔ آج مگر ہم جدید ترکی کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنے جا رہے ہیں۔ اے خواجہ یثرب، نظر کرم ، آپ نے دونوں خطوں کے بارے میں بڑی محبت کا اظہار کیا تھا۔ لاہور کو استنبول بنانا ہے تو ان روحانی نسبتوں کو دل میں سمونا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *