احتجاج

محمد طاہرM tahir

قومی حیات کو اُتھل پتھل کردینے والا میزانیہ ہماری توجہ کا مستحق کیوں نہیں ٹہرتا۔ حکومتوں کو اس قدر رعایت اور گنجائش عوام کی جانب سے کیوں دی گئی ہے کہ وہ اس سب سے بڑی معاشی دستاویز میں جس طرح چاہے من مانی کرے۔اب یہ دہائیوں پر پھیلا ہوا رویہ ہے کہ اس میں سب کچھ گوارا کر لیا جاتا ہے اور سیاست دان آپس میں ہی بگلا بھگت کر لیتے ہیں۔ کوئی روکتا ٹوکتا نہیں۔ مدتوں سے اس پر کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ قومی میزانئے کو اس طرح بغیر کسی دباؤ کے قبول کرنے کااجتماعی رویہ ہماری معاشی حیات کو مکمل طور پر سرکاری دسترس میں دے چکا ہے ۔ اس کے خلاف ایک زبردست سیاسی طوفان برپا کرنے کی ضرورت ہے۔مگر تحریک انصاف کو یہ عوامی مسائل نہیں سوجھتے۔
ممنون حسین کبھی گورنر سندھ رہے ہیں اپنی مکمل وفاداری اور اطاعت گزاری کے باعث وہ شریف برادران کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ اور اب صدرِمملکت کے منصب سے سرفراز ہیں۔ بھارت کے برعکس جہاں صدور کو اُن کے اعلیٰ تعلیمی معیار کے باعث ایوانِ صدر میں ایک باعزت مقام دیا جاتا ہے اور خود اس منصب کی وقعت کو بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہاں ایسے معیار سرے سے زیرِ غور ہی نہیں لائے جاتے۔پاکستان میں صدر کے انتخاب کے لئے واحد معیار وفاداری ہے (یہ علیحدہ بات ہے کہ اکثر صدور اس معیار پر بھی پورے نہیں اُترے) چنانچہ صدرِمملکت کی پارلیمنٹ میں سالانہ تقریر سمیت اُن کی باقی تمام سرگرمیاں بھی مکمل طور پر ایوانِ وزیراعظم سے طے اور تہہ کی جاتی ہیں۔صدرمملکت ممنون حسین کو دیکھ کر محترم عارف نظامی کوچوہدری فضل الہی یاد آتے ہیں۔ مگر وہ فکر نہ فرمائیں، یہاں اس کا معمولی امکان بھی نہیں کہ بے اختیار صدر خود ہی ایوانِ صدر کی دیواروں پر ’’صدر فضل الہی کو رہا کرو‘‘ ایسے مطالبے چپکے سے چپکا آیا کریں گے۔ کیونکہ اب ایسے چابی بھرے کھلونوں کا میزانئے میں پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔اب ذرا دیکھئے! صرف ایوانِ صدر کی دیکھ بھال کے لئے سال بھر کے جو اخراجات رکھے گئے ہیں وہ روزانہ پر تقسیم کئے جائیں تو یہ 22 لاکھ روپے روزانہ بنتے ہیں۔ اسی طرح اُن کے غیر ملکی دوروں پر جو رقم مختص کی گئی ہے وہ ساڑھے سات لاکھ روپے روزانہ بنتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساڑھے انتیس لاکھ روپے روزانہ کا یہ صدر ہمیں کیوں چاہئے؟کیا یہ ایک صدر کی بہت زیادہ قیمت نہیں ہے؟ پھر اتنا ہی نہیں، سال بھر میں مختلف مدات میں ایوانِ صدر سے مزید رقوم کے مطالبے بھی آجایا کرتے ہیں؟ اگر اس ساری رقم کا مجموعہ کیا جائے تو زبان میں جو کرواہٹ پیدا ہوتی ہے وہ برنس روڈ سے بھاشانی کی دُکان سے ساری مٹھائی کھا کر بھی ختم نہ ہو سکے گی۔ وزیرِ اعظم کے لئے مکمل وفادار صدر کی دستیابی کی یہ بہت بڑی قیمت ہے جو عوام اپنی جیبوں سے ادا کرتے ہیں۔
یہی ماجرا کچھ ایوانِ وزیرِ اعظم کا بھی ہے۔ایوانِ وزیراعظم کے روزانہ کے اخراجات 23؍لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے لئے مختص کی گئی رقم 47؍لاکھ روپے روزانہ بنتی ہے۔اس طرح غریبوں کی ہمدرد عوامی حکومت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو خود غریب عوام 70؍لاکھ روپے روزانہ دے کر پال رہے ہیں تاکہ وہ اُن کی غربت دور کرنے کے لئے کچھ غور وفکر فرمائیں۔وزیر اعظم کی کابینہ ڈویژن کے سواکروڑ سے زائد روزانہ کے اخراجات اس پر مستزاد ہیں۔ اگر اس پر کوئی مرگلہ کی پہاڑیوں سے چیخے کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے ، تو یہ بالکل جائز ردِ عمل ہوگا۔ایک ایسے ملک میں جہاں متنوع معاشی بحران سر اُٹھائے کھڑے ہوں، جہاں آمدنی اور اخراجات میں کوئی منطقی توازن نہ ہوں، اور اس خلا کو دور کرنے کے لئے دستیاب راستے قابل اعتماد اور قابلِ انحصار نہ ہو ، وہاں صرف وزیراعظم و صدر اور اُن کے دو بڑے گھڑوں کو پالنے پوسنے کے لئے روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپے کا خرچہ اس ملک کے غریبوں کے ساتھ ننگا مزاق ہے۔ اگر اس میں کابینہ ڈویژن کے سوا کروڑ سے زائد کے روزانہ کے اخراجات کو شامل کر دیا جائے تو یہ ہوشربا اعدادوشمار بن جاتے ہیں۔ اب ذرا ٹہر کر وزیراعظم میاں نواز شریف کو انتخابات سے پہلے کے وعدے یاد کرانے چاہئے۔ وہ اخراجات میں کٹوتی کے حوالے سے قوم کو کیا کیا یقین دہانیاں کرارہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ ایوان وزیراعظم تک منتقل ہونے سے انکار کر رہے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ وہ چپکے سے ایوان وزیراعظم چلے گئے۔ ابتدا میں اُنہوں نے اخراجات میں کمی کے بہانے غیر ملکی دوروں پر صحافیوں کو لے جانے سے گریزکیا۔ پھر کیا ہوا؟ کسی بھی بات پر کہیں عمل درآمد نہیں ہوا۔
ایک طرف حکمران اپنے اللوں تللوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اپنے عیش وعشرت کی ثقافت کو ایک لمحے کے لئے بھی ترک کرنے کوتیار نہیں ، اور دوسری طرف غربت کا منحوس گرداب مزید پاکستانیوں کو اپنی زد میں لیتا جارہا ہے۔ عام لوگ اپنے روزانہ کے میزانئے سے ایک وقت کا کھانا ترک کررہے ہیں ۔ اکثر گھروں میں اب تمام بچوں کو تعلیم دینا دشوار بنتا جار ہا ہے۔ چنانچہ بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے کے لئے اب اپنے ہی بچوں میں بچوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔خود کشیوں کا بڑھتا رجحان ایک بپھرے ہوئے معاشرے میں نیا طوفان بھی بن سکتا ہے۔ سماج کو توازن دینے والا سب سے اہم متوسط طبقہ بہت تیزی سے تحلیل ہوتا جارہا ہے۔ مگر حکمران اپنی پرانی نفسیات کو چھوڑنے پر تیار ہی نہیں ۔ ذرا 1998 کے آخری مہینوں کو یاد کیجئے!ملک میں میاں نواز شریف کی ہی حکومت تھی۔ اور معیشت بدترین بحرانوں کے نرغے میں آچکی تھی۔ جون میں آنے والے میزانئے نے قوم کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ جوہری قوم بننے کی قیمت کے نام پر میاں نواز شریف عوام سے ہر طرح کی قربانیوں کا تقاضا کررہے تھے ۔ اور اُنہیں سادگی اختیار کرنے کی بار بار تاکید کر رہے تھے۔ تب وہ قوم کے سامنے خطاب کے لئے نمودار ہوئے۔اس پر امریکی جریدے ٹائمز نے لکھا کہ
’’وزیر اعظم پاکستان ملک کو درپیش اقتصادی بحران کے بدترین ایام میں ٹی وی
پر خطاب کے لئے ایسی گھڑی پہن کر نمودار ہوئے جو سونے کی بنی ہوئی تھی۔ اور جس
پر ہیرے جڑے تھے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے ہیرے کی دستی گھڑی پہن کر قوم سے
پیٹ پر پتھر باندھنے کی اپیل کی۔ اُن کے اِن تضادات کے باعث عوام پر اس کا کوئی
اثر نہیں ہوتا۔ عوام اس بدعنوان حکومت کی مدد کے لئے آمادہ نہیں جو اُن سے تو قربانیاں
طلب کر رہی ہیں مگر خود ان قربانیوں میں معمولی حصہ بھی ڈالنے کو تیار نہیں۔‘‘
آج بھی کچھ نہیں بدلا۔سب کچھ جوں کا توں ہے۔ کیا حکمرانوں کے اس رویئے کے بعد عوام سے مزید محصولات کی جو توقع رکھی جاتی ہے وہ کسی بھی طرح کو ئی اخلاقی جواز رکھتی ہے۔ حکمرانوں کو اپنے طرزِ عمل سے ایک مثال بننا ہوتا ہے۔ مگر حکمران کسی بھی دور میں ایسی مثال بننے کے قابل نہیں ہو سکے اور اب ملکی معیشت کا ’’مثالی‘‘ نقشہ حالیہ میزانئے کے بعد کچھ یوں بن چکا ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ملک پر قرضے کا حجم فی کس شہری 40ہزار تک تھا۔ آصف علی زرداری کے گزشتہ پانچ برسوں کے مثالی بدعنوان دور میں یہ یکلخت 40 سے 80ہزار تک پہنچ گیا ۔ اور اب میاں نوازشریف کے ان دوبرسوں میں یہ قرضہ فی کس 80ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح میاں نوازشریف کی حکومت نے صرف دو برسوں میں ملک کے ہر شہری کی گردن پر مزید بیس ہزار کا قرضہ ڈال دیا ہے۔ اگلے تین برسوں میں یہ صورتِ حال بد سے بدتر ہونے کے ہی خطرات ہیں۔ الغرض قومی حیات کو اُتھل پتھل کر دینے والے میزانئے کو خاموشی سے برداشت کرنے کی روایت کو ترک کرنا پڑے گا۔ یہ معاشی دستاویز اتنے طوفان اپنے اندر رکھتی ہے کہ حکومت کی چولیں ہل سکتی ہیں مگر سیاسی جماعتوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اُنگلی والی سرکار کے اشارے کی منتظر رہتی ہیں اور صحت مند سیاسی گرمیوں سے سیاسی چیلنج پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *