آیت اللہ علی خامنائی، ایک تعارف

(قسط اوّل)khamnai
تعارف

خامنائی وہ شخص ہے جس کا شاہ ایران اورامام خمینی کے بعد عوام پربالعموم اور ایرانیوں کی ذاتی زندگیوں پربالخصوص سب سے زیادہ اثرہوا ہے۔ وہ مختلف معلوماتی ذرائع سے لوگوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ہیں جو ان کے خاندان، گھر، تعلقات، پسند ناپسند اور کام کررنے کے طریقے سے واقف ہیں۔یہ غیرمعمولی اخفاء ان کی اپنی اور ان کے ارردگرد موجود لوگوں کی خواہش کا ایک ارادی نتیجہ ہے۔ ان کا پس پردہ رہناان کے حامیوں کیلئے ان کی ذات کا ایک متبرک کرشمہ بن گیا ہے اور انہوں نے اپنی اس سٹریٹجی کے سبب لوگوں کیلئے ایک خوفناک ہستی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔حسب ذیل عبارت میں خامنائی کے قریبی ذرائع سے ان کے حقیقی چہرے کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ تعارف، فی زمانہ ان سے کی جانے والی نفرت یا ان کے حمایتیوں کے جنون سے صرفِ نظرکرتا ہے۔
خامنائی کے معمولات
خامنائی صبح 4بجے نماز کیلئے اٹھتے ہیں۔
صبح6بجے سے لے کر 6: 30تک اپنے چیف آف سٹاف حجازی سے ملاقات کرتے ہیں۔
لیڈرشپ ہاؤس کے نائب آپریشنز منیجر وحید سے صبح6:30 سے لے کر7:00بجے تک ملاقات کرتے ہیں۔
اپنے دوسرے بیٹے مجتبیٰ سے وہ ایک ہفتے میں 3بار صبح7بجے سے 8بجے تک ملاقات کرتے ہیں۔ مجتبیٰ سال کے تقریباً150روز تک گھوم مذہبی مرکز میں پڑھاتے ہیں لیکن دوسرے 150دن میں وہ ہر روز اپنے والد سے ملاقات کرتے ہیں۔
صبح 8بجے سے لے کر:30 10 تک وہ سلامتی، معیشت اور سیاست سے متعلق فائلز کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہیں۔
صبح10:30سے12بجے تک کا وقت انہوں نے وسط دن کی نیند اور آرام کیلئے مختص کر رکھا ہے۔
دوپہر 12سے1بجے تک کا وقت انہوں نے عوام کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے اور دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے مختص کر رکھا ہے۔
دوپہر 1بجے سے لے کر 3بجے تک ہنگامی اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں۔ان اجلاسوں کی نوعیت ہر روزبدلتی رہتی ہے اور یہ غیرمتعین یا نامعلوم ہلچل کا باعث بھی بنتے ہیں۔
(نوٹ: شاید کوئی ہنگامی صورتحال بھی ان کے باقاعدہ معمول میں تعطل پیدا نہیں کر سکتی۔)
وہ دوپہر3بجے سے لے کر 5بجے تک اپنے ذاتی کاروبار کا خیال رکھتے ہیں۔
خصوصی اجلاس شام 5بجے سے رات 8بجے تک ہوتے ہیں۔ان اجلاسوں کی تفصیل، ہفتہ وار اور ماہانہ معمولات کے حصے میں بیان کی جائے گی۔
رات کا کھانا8بجے سے8:30تک لگایاجاتا ہے۔
خفیہ نجی آڈیو ریکارڈنگزرات8:30سے9:00بجے تک سنی جاتی ہیں۔
رات 9بجے وہ گوشہ نشین ہو جاتے ہیں۔
خامنائی کے ہفتہ وار معمولات

آیت اللہ علی خامنائی اتوار کی سہ پہر کو فوجی اور انقلابی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔(ایران میں ہفتہ وار تعطیل اتوار کو نہیں ہوتی)
پیر کے روز صدر مملکت ان کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے ہیں۔
منگل کی صبح وہ نجی معاشی مشیروں، اپنے بھائی حسن، اپنے بیٹے مجتبیٰ، مرموحمادی اور وزیر تجارت شریعت مداری سے ملاقات کرتے ہیں۔
منگل ہی کے روز وہ رات کا کھانا ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ کھاتے ہیں۔
بدھ کی سہ پہر وہ شوریٰ نگہبان کے ارکان سے ملاقات کرتے ہیں۔
بدھ ہی کی رات وہ بنیادپرست عالم جنتی کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے ہیں۔
ماہانہ معمول
پارلیمان کے سربراہ کے ساتھ ملاقات۔
نظام عدل کے سربراہ کے ساتھ ملاقات۔
گھوم سے آئے ہوئے مذہبی مشیروں، جیسے کہ مقتدائی اور یازدی، سے ملاقات۔
دیگر مشیروں سے ملاقات۔
خامنائی کی ذاتی ترجیحات
1۔ خوراک
ڈاکٹروں نے ان کیلئے دریائے لریہ میں پائی جانے والی کاویاراورسرخ دھبوں والی مچھلی تجویز کی ہے لیکن یہ بتدریج ان کی ذاتی پسند بھی بن گئی ہیں۔رشت کے امام انہیں ہر جمعے کو کاویاربھیجتے ہیں۔شیراز سے ہاری انہیں نازک پرندوں کا گوشت بھیجتے ہیں۔تیتروں کے فارم گوشت کے ایک ذریعے کے طور پر ایران بھر میں پھیل چکے ہیں اور دیگر نازک پرندوں کا گوشت کولسٹرول کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ یقینی بنانے کیلئے کہ خامنائی کی خوراک زہریلی نہ ہوایک خصوصی آلہ خریدا گیا ہے جس کی قیمت500,000ڈالر ہے۔ خوراک میں ایک خاص چیز ڈال کر اس آلے کی مدد سے اس کی زہر آلودگی کو جانچا جاتا ہے۔خوراک کو خامنائی کے پاس لے جانے سے قبل یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کے ذاتی محافظو ں کی موجودگی میں باورچی اسے چکھے۔
2۔ ورزش
خامنائی کو ملک کے طول و عرض میں لمبی سیر پر جانے اور گھڑ سواری کا شوق ہے۔1978ء میں گھڑ سواری کرتے ہوئے ان کا ایک ہاتھ فریکچر ہو گیا تھایہی وجہ ہے کہ اب وہ صرف ایک ہاتھ استعمال کرتے ہیں۔جب خامنائی اور ان کا بیٹا مجتبیٰ ایران میں کسی دور دراز مقام تک کا سفر کرتے ہیں تو ان دونوں کے گھوڑوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔ مختصر فاصلے کے سفروں کے دوران گھوڑوں کیلئے 3ٹرالروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
3۔ گھوڑے
ان کی تعداد 100کے قریب ہے اور مالیت کا اندازہ 40ملین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ان کے سب سے قیمتی گھوڑے کی مالیت 7ملین ڈالر ہے اور اس کا نام ذوالجناح ہے۔مجتبیٰ کے گھوڑے کا نام سہاند ہے۔ ان گھوڑوں کے 2اصطبل ہیں۔ایک، مشہد کا مالک آباد باغ جو کہ تقریباً1000مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 70گھوڑے پائے جاتے ہیں جبکہ دوسر،الواسانت کے علاقے میں پایا جاتا ہے جو کہ تقریباً3000مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس میں 30گھوڑے پائے جاتے ہیں۔
4۔ مجلسیں
وہ راشدیازدی کے ساتھ اکٹھے اٹھتے بیٹھتے ہیں ، جو کہ ایک مذہبی عالم ہیں اور انہیں گندے لطائف سناتے ہیں۔(کریم شرعی، یہی کام کجر خاندان کے شہنشاہ نصیرالدین شاہ کیلئے کیا کرتے تھے۔) ان کے ساتھ خامنائی کے نہایت قریبی تعلقات ہیں۔یہ خامنائی کا پرلطف مشغلہ بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ قوم کی نبض کو محسوس کرنے اور سکون حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہے۔وحید ہاگانی اور محمدی گل پیگانی بھی ان بدکلامی کی محفلوں میں موجود ہوتے ہیں۔بعض اوقات جنتی کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ اس عرصے کے دوران رشید یازدی انہیں خوب ’’رگڑتے‘‘ ہیں۔مجتبیٰ کو ان محافل سے نفرت ہے کیونکہ یہ گروہ اسے قطعاً متاثر نہیں کرتا۔رشید یازدی بھی اس وقت کو استعمال کرتے ہیں اور مجتبیٰ کی عدم موجودگی میں معاشی اور سیاسی مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں اور اپنے دیگر لوگوں کیلئے خامنائی سے فوائد یا حمایت حاصل کرتے ہیں۔
5۔ مطالعہ
فائلوں اور خبروں کی وہ بڑی تعداد جسے انہوں نے لازماً پڑھنا ہوتا ہے، وہ انہیں مطالعہ کتب کیلئے بہت کم وقت دیتی ہے۔اپنے عہدہ صدارت کے زمانے سے وہ ہمیشہ یہی شکایت کرتے رہے ہیں کہ صدارت کامنفی اثر یہ ہے کہ یہ مطالعے کیلئے معقول وقت نہیں دیتی۔لیکن انہوں نے، کسی نہ کسی طرح، سربراہانِ مملکت یا رہنماؤں کی زندگیوں پر شائع ہونے والی کتب پڑھنے کیلئے وقت نکال لیا۔ وہ کجر خاندان کے حکمرانوں، بالخصوص نصیرالدین شاہ کے طرزِ زندگی میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔وہ نصیرالدین شاہ اور رضا شاہ پہلوی اوران کے خاندان کے متعلق شائع ہونے والی سب کتب پڑھ چکے ہیں۔
6۔ پائپس کا مجموعہ
خامنائی سگریٹ بھی پیتے ہیں۔ صدر بننے پر اور عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہونے پر ، انہوں نے سگریٹ پینا چھوڑ دئیے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسی تصویر چھپے جس میں وہ سگریٹ پیتے ہوئے نظر آئیں۔ اس وقت، جب وہ صدر موساوی کے قریب تر تھے تو ان دونوں نے سگریٹ چھوڑنے اور دوبارہ کبھی اس کو ہاتھ تک نہ لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم، اس وقت سے انہوں نے اپنے پاس پائپ رکھنے شروع کر دئیے ہیں اور ان کے پاس ایک تصویر بھی ہے جس میں وہ پائپ پیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ان کے پائپوں کیلئے تمباکو خصوصی طور پر بنایا جاتا ہے اور ان کے پاس 200سے زائد پائپ ہیں۔ ہر طرف سے یہی افواہیں سنائی دیتی ہیں کہ وہ ظاہری نمائشی پائپوں کی آڑ میں افیون والے پائپ پیتے ہیں۔تاہم، انہوں نے اپنے قریبی شعراء، جیسے کہ علی معلم، شہریار اور سبزواری کو حکم دیا ہے کہ جب وہ افیون پینے لگیں تو انہیں تنہاء چھوڑ دیا کریں۔حتیٰ کہ انہوں نے یہ حکم بھی دے رکھا ہے کہ شہریار کی افیون بھی انہیں فراہم کی جائے اور ان کے گھر پہنچائی جائے۔ان کے پائپوں کی قیمت کا اندازہ 2ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ سب سے مہنگے پائپ کی قیمت 250,000ڈالر ہے اور یہ 300سال پرانا ہے۔ اس پائپ کا دستہ سونے کا بنا ہوا ہے اور اس پر جواہرات بھی لگے ہوئے ہیں۔ان کے پائپوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہ انہیں دنیا کے سربراہان اور رہنماؤں نے تحفے میں دئیے ہیں اور ان کی ڈبیوں پر ان سربراہان مملکت و حکومت کے نام بھی کندہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *