اک پرانے منظر میں دھوپ چھاؤں کے بدلتے خطوط

wajahat masood

وجاہت مسعود

موذن بروقت بولا! راولپنڈی میں میٹرو بس سروس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت ملکی ترقی کی ضامن ہے اور تمام اداروں کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے‘ ۔ نواز شریف ایک تجربہ کار اور معاملہ فہم سیاسی رہنما ہیں اور اپنے لفظوں کے استعمال میں حد درجہ محتاط رہنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ بیس کروڑ شہریوں کا رہنما راولپنڈی کے اجتماع میں محض شہریت کا ایک اصول بیان نہیں کر رہا تھا۔ معنی کی سرزمیں پہ نزول سروش ہے ۔۔۔ اس بیان کا تناظر ہماری حالیہ سیاسی حرکیات میں پیوست ہے۔ گزشتہ ایک برس میں قوم کو بہت سے بنیادی سوالات کا سامنا رہا ہے۔ مذہبی دہشت گردی کے بارے میں پہلے مذاکرات کا میلہ سجا اور پھر فوجی کارروائی کا مرحلہ سامنے آیا، اسی کے تتمہ میں اکیسویں آئینی ترمیم ہوئی اور فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس دوران سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت عدالتی کارروائی میں بہت سی اونچ نیچ دیکھنے میں آئی۔ بلوچستان میں گمشدہ شہریوں کے مسئلے پر کمرۂ عدالت کے اندر اور باہر بہت سے منظر کھلے۔ ذرائع ابلاغ کے اہم اداروں کے ساتھ کشمکش کا اتار چڑھاؤ توجہ کا مرکز رہا۔ اگست 2014ء میں دھرنوں کی سیاست نے ایک ناگہانی آفت کی صورت ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بہت سے جانے پہچانے کردار یکایک فعال ہوئے۔ کراچی میں تشدد اور دیگر جرائم کے خلاف کارروائی نے واضح طور پر سیاسی رخ اختیار کیا۔ اس دوران دفاعی اداروں سے وابستہ کچھ اعلیٰ اہل کاروں نے عوامی سطح پر غیر معمولی لب و لہجے کے حامل کچھ بیانات دیئے ۔ دہشت گردی کے ضمن میں بھارتی خفیہ ادارے را کا نام سامنے آنے کی دیر تھی کہ ایک خاص نقطہ نظر رکھنے والے حلقوں نے اس خروش سے مصرع اٹھایا کہ مشاعرہ لوٹ لیا۔ بھارتی قیادت کی طرف سے کچھ نہایت غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب بیانات نے خارجہ تعلقات کو تو بے شک گدلا کیا، ہماری داخلی سیاست میں عقابی رجحانات کو بھی سہارا دیا۔ قومی دھارے کے اس جوار بھاٹے میں سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک ان کہی کشمکش کا سوال ذہنوں میں مسلسل خلجان پیدا کرتا رہا۔ عام طور سے رفع خلفشار کی غرض سے ایسے خدشات کو دبا دیا جاتا ہے ۔ کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہل بزم۔۔۔ نہایت احتیاط سے عرض کیا جاتا ہے کہ اس معاملے میں سب اچھا نہیں ہے اور قومی قیادت کے ذمہ دار حلقوں کو ایسے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جن سے آئین کی پاسداری ، سیاسی عمل کے تسلسل اور قومی استحکام کی فضا پیدا ہو سکے۔
ایک بات تو یہ کہ آئین میں مختلف آئینی اور ریاستی اداروں کا کردار واضح کر دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں نظریہ ضرورت کی آڑ میں آئینی بندوبست سے بار بار انحراف کیا گیا۔ تاہم اب ہمیں اس مکروہ روایت سے پیچھا چھڑانا چاہیے جس نے ہمارے سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی اور سماجی انتشار میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آئینی ادارے، قومی ادارے، سیاسی جماعتیں، ذرائع ابلاغ اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری گروہ اس قوم کا قابل احترام حصہ ہیں۔ کسی ادارے یا گروہ کی طرف سے دوسرے اداروں یا گروہوں کی اہلیت اور دیانت داری پر غیر ضروری کیچڑ اچھالنے سے قومی اتفاق میں دراڑیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہم میں کسی کو وطن سے محبت پر اجارہ حاصل نہیں۔ ہم میں سے کوئی غلطی سے مبرا نہیں۔ پاکستان ایک وفاقی بندوبست ہے، یہاں کا آئینی طرز حکومت جمہوریت ہے اور پاکستان میں تکثیری سیاسی عمل کی روایت موجود ہے۔ قوم کا کوئی ایک حصہ قومی ترجیحات کے تعین اور فیصلہ سازی میں اجارہ داری قائم کر کے ملکی ترقی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ماضی میں ایسا کرنے سے وقیع قومی قیادت بے اختیار ہوئی اور طفلان گلی کوچہ نے مفادات کی فصل کاٹی۔ آج جن افراد اور گروہوں کی ناکردہ کاری کا شکوہ کیا جاتا ہے، وہ ماضی میں مختلف انقلابی تجربہ گاہوں کی ٹیسٹ ٹیوبوں کا حصہ رہے ہیں۔ اسی طرح آج ہمیں ایک غیر معمولی مرحلے کی نوید دینے والے چہرے بھی خلا سے نازل نہیں ہوئے۔ دیکھئے ، حالیہ مہینوں میں تین اہم اور ممکنہ طور پر مثبت واقعات رونما ہوئے ہیں۔ دھرنا سیاست کا امرت دھارا ناکام ہو ا ۔ ذرائع ابلاغ کے منظر پر بلند بانگ دعوؤں اور موہوم ساکھ کے ساتھ نمودار ہونے کا دعویدار ادارہ اپنے ظہور سے پہلے ہی رنجک چاٹ گیا۔ چین کے ساتھ دوررس اقتصادی امکانات سے بھرپور اکنامک کاریڈور کی تعمیر شروع ہوئی ہے۔ ہمیں پاکستان میں وسیع البنیاد آئینی اتفاق رائے پر مبنی جمہوری سیاست کی ضرورت ہے۔ ہمیں مسیحاؤں سے خبردار رہنا چاہیے۔ خبر ہے کہ شیخ الاسلام کا طیارہ پھر سے ورود کے لئے پر تول رہا ہے۔ سائبیریا کے برفانی خطوں سے مرغابی کی آمد کا ایک موسم مقرر ہے۔ شیخ الاسلام کی آمد میں بھی کوئی نظام الاوقات ہونا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ میں دراندازی کی بڑی کوشش ناکام ہوئی ہے۔ توقع کرنے چاہیے کہ ہمارے بصیرت مند صحافی اس تجربے کی روشنی میں اپنی اجتماعی ذمہ دار ی کا بہتر طور پر احساس کر سکیں گے۔ اکنامک کاریڈور معاشی بہتری میں گوناگوں امکانات کا حامل ہے۔ اس سے معیشت کے علاوہ سیاسی اور معاشرتی سطح پر بھی نئے امکانات وا ہوں گے۔ ان امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے ہمیں اپنے ذہنی اور اجتماعی رویوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ملکی سلامتی کے ضمن میں لاحق خطرات کسی ایک بیانیے کا حصہ نہیں ہیں۔ بلوچستان میں تخریب کے عوامل کچھ اور ہیں۔ کراچی میں تشدد براہ راست ریاستی عمل داری میں انحطاط اور جرائم سے منسلک ہے۔ طالبان کی دہشت گردی کا فکری تناظر مختلف ہے۔ کچھ مہربانوں کی خواہش ہے کہ اس پیچیدہ صورت حال کی سادہ تشریح سے اپنے ترجیحی نتائج اخذ کئے جائیں۔ دیکھئے محترم الطاف حسین کی طبع میں جولانی آتی ہے تو وہ مارشل لأ کا مطالبہ داغ دیتے ہیں، دوسری طرف جو اصحاب ایک برس پہلے تک طالبان سے مذاکرات کے پرجوش حامی تھے وہ اب شد و مد سے دہشت گردی کو بھارتی ادارے را کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ گویا یہ اصحاب کل تک بھارتی عزائم کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ کھیل بچوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا۔۔۔
دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان ایک جامع منصوبہ ہے جسے سیاسی قیادت نے منظور کیا ہے۔ آئینی تسلسل کے بغیر یہ مساعی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہ طے ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کی زمیں پر جنوبی ایشا کی تاریخ کے ایک تلخ باب کا ذکر نہ کرتے تو بہتر تھا، ان کا بیان سفارتی آداب کے بھی منافی تھا اور شاید تاریخ کے موجودہ مرحلے کی نامناسب تفہیم بھی۔ نریندر مودی نے خطے میں امن اور استحکام کے نصب العین کو آگے نہیں بڑھایا۔ حتمی تجزیے میں انہوں نے دراندازی اور جارحیت جیسے بین الاقوامی جرائم میں اپنے ملک کی ذمہ داری قبول کر لی۔ مودی صاحب کی کوتاہ بینی اپنی جگہ ، تاہم زیادہ مناسب ہو گا کہ مشتعل ہو کر غیر متواز ن ردعمل دینے کی بجائے اپنی قومی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ دیکھئے محترم حامد میر نے وزیر اعظم مودی کے حوالے سے ایک زور دار کالم لکھا۔ دو ٹوک دلائل اور قاطع براہین میر صاحب کے ناخنوں میں بھرے ہیں۔ کیوں نہ ہو، سیاست کے گہرے مطالعے میں چوتھائی صدی صرف کی ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کا ذکر تھا، محترم حامد میر نے پاکستانی موقف کی تائید میں حافظ محمد سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کے ساتھ داؤد ابراہیم کا نام بھی جڑ دیا۔ داؤد ابراہیم تو بھارتی باشندہ ہے۔ ہندوستانی حکومت اس پر 1993ء کے بمبئی حملوں میں ملوث ہونے نیز پاکستان میں روپوش ہونے کا الزام لگاتی ہے۔ ہماری ریاست نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں ہے۔ ہم اپنی حکومت کے موقف پر یقین رکھتے ہیں۔ سمجھ سے بالا ہے کہ ایک بھارتی باشندے کا نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل ہونے پر ہم کیوں اعتراض کریں۔ اسی طرح کراچی اور بلوچستان کے بارے میں بعض اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات معروف جمہوری اقدار سے متجاوز معلوم ہوتے ہیں۔ کیا یہ گزارش کی جا سکتی ہے کہ ان معاملات میں خود بینی اور خود آرائی کی بجائے سیاسی قیادت کے ساتھ یک جہتی کا تاثر دیا جائے تاکہ پاکستان کے بدخواہوں اور ذاتی مفادات کے تاجروں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *