مذاکرات کا کھیل

Irfan Hussain

(عرفان حسین)

اب تک عمران خان کو ایک بات کا ادراک ہو چکا ہو گاکہ ایک سیاسی جماعت کی قیادت کرنا کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنے سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔ جب وہ قومی ٹیم کے کامیاب کپتان ہوا کرتے تھے تو وہ فرد واحد کی طرح فیصلے کرتے تھے ،لیکن وہ کوئی قومی رہنما نہ تھے۔ ایک کرکٹ ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں اوراگر کوئی کھلاڑی ٹیم میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کپتان کی مخالفت یا حکم عدولی نہ کرے۔
تاہم اب عمران خان کسی گیارہ رکنی ٹیم کی قیادت نہیں کررہے ہیں، اب وہ پارلیمانی سیاست کے مشکل اکھاڑے میں ہیں۔ یہاں سیاست دان کھلاڑیوں کے برعکس قواعد وضوابط کے پابند نہیں ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو پارٹی قائد کا احترام تو کجا، لحاظ بھی نہیں کرتے۔ حالیہ دنوں مجھے بے شمار قارئین کی طرف سے نہایت غصیلی ای میلز وصول ہوئیں۔ اُن کے غم و غصے کا محور پی ٹی آئی کے دو اراکینِ پارلیمنٹ تھے جن کے احمقانہ بیانات نے عمران خان کے پیغام ...’’ہم نیا پاکستان تعمیر کریں گے‘‘... کا مذاق اُڑایا تھا۔ ان میں سے ایک ایم این اے مجاہد علی خان تھے جنھوں نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی ’’باعزت رہائی ‘‘ کا مطالبہ کیا تھا۔ اگرچہ ہمارے ملک میں اُ س قاتل کی رہائی کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن فلور آف دی ہاؤس کسی بھی عوامی نمائندے کی طرف قانون سے انحراف کی بات پہلی مرتبہ کی گئی تھی(ممتاز قادری کو عدالت نے اس ملک کے قانون کے تحت سزا سنائی تھی)۔ دوسرے شوکت علی یوسفزئی ہیں جنھوں نے چند دن پہلے پشاور کی ایک مسجد پر خود کش حملے کے بعد بیان دیا...’’ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ انھیں اس حملے میں غیر ملکی ہاتھ نظر آیا۔ پی ٹی آئی کے اس سرکردہ رہنما کا خیا ل ہے کہ طالبان سچے مسلمان ہیں اور وہ ’’عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف ہیں۔‘‘گزشتہ چند سالوں کے دوران مذہبی مقامات پر حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کوئی خود کش حملہ آوور ’’مغربی ممالک ‘‘ سے نہیں آیا تھا۔
تاہم اس معاملے میں بھی شوکت یوسفزئی اکیلے نہیں ہیں۔ جب نانگا پربت کے دامن میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کے کیمپ پر حملہ کرکے اُن کو قتل کر دیا گیا تو وزیرِ اعظم صاحب نے کہا...’’ یہ حملہ اُن لوگوں کی سازش ہے جو پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ذرا غور کریں، اس حملے کے فوراً بعد ہی تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے معاون گروہ ’’جنود الحفظہ‘‘(Junood ul Hifsa)نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر کے ’’خفیہ ہاتھ ‘‘ کی رٹ لگانے والوں کو شرمندگی سے سرجھکانے پر مجبور کر دیا۔یہ حملے دراصل اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے کہ ہم شتر مرغ کی طرح مصلحت کی ریت میں سر چھپا لیتے ہیں اور قاتلوں کے ان گروہوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے ہیں۔
عمران خان اور نواز شریف ، دونوں اس مطالبے کے پرزور حامی ہیں کہ ان جہادی گروہوں، جو کینسر کی طرح پورے ملک میں پھیل چکے ہیں، کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ چلیں، اب وہ مذاکرات کا شوق پورا کر لیں کیونکہ مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں اُن کی حکومتیں قائم ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس راہ پر قدم بڑھائیں، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کس قسم کے لوگوں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں کی خدمت میں عرض ہے کہ کراچی کے ڈاکٹر فیض الدین کا خط پڑھیں جو اُنھوں نے ایک انگریزی اخبار کو لکھا ہے...’’ نیوز رپورٹ کے مطابق طالبان نے دس جون کو دولڑکوں ، جن کی عمریں دس اور سولہ سال تھیں، کا سرقلم کیا کیونکہ اُنہیں شبہ تھا کہ وہ افغان فوج کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال قندھار میں طالبان نے ایک بارہ سالہ لڑکے اور چھے سالہ لڑکی کو ذبع کر دیا جبکہ ایک ایک سولہ سالہ لڑکے کی زندہ کھال اتاری اور پھر اُس کا سرقلم کر دیا۔ یہ طالبان انتہائی سفاک ، وحشی اور بے رحم ہیں ورنہ بچوں کو اس بے رحمی سے ذبع کرنے کے لیے پتھر کا کلیجہ چاہیے۔ مہذ ب دنیا کو چاہیے کہ وہ ان وحشیوں کے خلاف مل کر کھڑی ہوجائے اور ان کا خاتمہ کرتے۔ یہ کسی رحم کے حقدار نہیں ہیں۔‘‘
اگر عمران خان اور نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی طالبان اپنے افغان بھائیوں کی نسبت نرم خو اور انسان دوست ہیں تو اُنہیں چاہیے کہ وہ سینکڑوں سیکورٹی اہل کاروں سے بات کرکے دیکھ لیں کہ پاکستانی طالبان نے کس طرح اُن کے ساتھیوں پر تشدد کیا اور پھر اُن کا سرقلم کر دیا۔ ٹی وی ٹاک شوز میں ایک بات تواتر سے کی جارہی ہے کہ اگر امریکی طالبان سے بات کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟یہ احمقانہ جملے ادا کرنے سے پہلے ایک بات سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ امریکی تو اپنے انخلا کے لیے مذاکرات کررہے ہیں، کیا ہمارے پاس بھی کوئی ایسی ’’سہولت ‘‘ ہے؟اس کے علاوہ ہم نے ان کے ساتھ معاہدے کرکے دیکھ لیا ہے۔ ہمارے دفاعی ادارے ان کے ساتھ کئی مرتبہ جنگ بندی کرکے امن کے معاہدے کر چکے ہیں،لیکن ان جہادی گروہوں نے اس جنگ بندی کا فائدہ اٹھایا اور اپنے قدم مزید مضبوط کیے اور اپنی نفری میں اضافہ کرکے مزید مہلک حملے کرکے جانی نقصان پہنچایا۔ اس بات کا عملی مظاہرہ پوری دنیا نے دیکھا جب سوات کومولانا فضل اﷲ کے حوالے کر دیا گیا تو طالبان اس کا فائدہ اٹھا کر فوراً ہی مالا کنڈ کے مختلف علاقوں کو ’’فتح ‘‘ کرنے چل نکلے، یہاں تک کہ درالحکومت سے صرف ایک سو کلومیٹر دور ی تک آن پہنچے۔ اگر اُس وقت بھی ہم ان سے مذاکرات کرنے بیٹھ جاتے تو اب تک اسلام آباد ان قاتلوں کی اسلامی ریاست کا مرکز ہوتا۔
یہ قیاس کرنا غلطی ہوگا کہ چونکہ طالبان کم تعلیم یافتہ ہیں، اس لیے وہ کسی حکمتِ عملی کے تحت کاروائیاں نہیں کرتے ہیں۔ ماضی کو چھوڑ دیں، صرف نانگاپربت پر ہونے والی خونریزی کو دیکھیں تو اس کے ذریعے طالبان نے جو تھوڑے بہت کوہ پیما پاکستان آنے کی جرات کر رہے تھے، کو خائف کر دیا ہے اور مستقبل قریب میں تو ادھر کوئی نہیںآئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ گلگت بلتستان کے ہزاروں افراد ، جو غیر ملکی سیاحوں کی آمد سے روزی کماتے تھے، مفلوک الحالی کا شکار ہو جائیں گے۔ اس سے یہاں قائم ہونے والی حکومت بھی ناکامی سے ہمکنار ہو گی۔ اس کاروائی نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر باور کرادیا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کی حالت انتہائی خراب ہے ، چناچہ دیگر کھیلوں کی ٹیمیں بھی پاکستان نہیں آئیں گی۔
گزشتہ اکتوبر میں بھی سات انگریز دوستوں کے ساتھ وہاں گیا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ مغربی دوست اس جگہ کی خوبصورتی اور سکون سے بہت متاثر ہوئے ۔ اُن کے دل میں پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر ہوا۔ وہ سب کہہ رہے تھے کہ وہ واپس جاکر دوسرے دوستوں کو بتائیں گے کہ پاکستان کتنا خوبصورت ملک ہے وہ یہاں ضرور آئیں۔ تاہم جب ہم شاہرائے قراقرم سے واپس آرہے تھے تو چیلاس (Chilas) کے قریب مقامی باشندے ہمیں بہت نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اُن کے دل میں نفرت کے بیج کس نے بوئے ؟ میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ غیر ملکی دوستوں کو ادھر نہیں لاؤں گا۔
مجھے نواز شریف اور عمران خان کے طالبان کے لیے اپنائے گئے رویے پر سخت حیرت ہے۔ یہ دونوں رہنما تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے سامنے دنیا کے ممالک کی بہت سی مثالیں ہیں کہ اُنھوں نے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں سے کس طرح آہنی ہاتھ سے نمٹا۔ چاہے سعودی عرب ہو یا برطانیہ، کوئی بھی دھشت گردی کو برداشت نہیں کرتا ہے، اس کے باوجود پاکستان میں ان انتہا پسندوں کو چھوٹے بچوں کی طرح چمکار کر خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مذاکراتی گروہ ایک اور بات بھول جاتا ہے کہ طالبان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ آئینِ پاکستان کو معطل کرکے اُن کی تشریح کردہ شریعت نافذکر دی جائے۔ جب اُن کو مذاکرات کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اسے حکومت کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان قاتلوں، جوبچوں کی کھال اتار دیتے ہیں اور ان کو ذبع کر دیتے ہیں، سے بات کرنے کون جائے گا؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *