تاجر نواز بجٹ

ikramمحترم نواز شریف جب تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنے تو بہت سے لوگوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وہ کبھی بھی طاقت ور تاجروں پر ٹیکس عائد نہیں کریں گے۔ جب پانچ جون کو محترم فنانس منسٹر نے پوری قوم کو مایوس کیا تو یہ بات بہت حد تک سچ ثابت ہوئی۔ ایک مرتبہ پھر وزیر موصوف نے قوم کو تاجرنواز بجٹ سے نوازااور کمپنیز کے اوپر بے تحاشا ٹیکسز کی بھرمار کردی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) دولت مند تاجروں کو خوش کرنے اور ان کے کالے دھن (untaxed money)کو تحفظ دینے کے لیے قوانین پاس کرنے کا ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ رکھتی ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین الزام لگاتے رہے ہیں کہ بطور حکمران خاندان، اُنہیں ٹیکسز نہیں بھاتے ۔ اسحاق ڈار صاحب بھی اسی خاندان کا ایک حصہ ہیں اور ان کے پاس بھی تحفظ دینے کے لیے وسیع بزنس ہے۔ تاجر، جو کہ دولت اور شٹر کی طاقت رکھنے والی طاقت ور لابی ہیں اور ان کی طاقت کا اعتراف فنانس منسٹر نے اپنی بجٹ کی تقریر میں بھی کیا، معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ تاجروں کی دولت اور طاقت کا اعتراف کرنے کے باوجود فنانس منسٹر نے اُنہیں ٹیکس کے دائرے میں لانے کے لیے کسی اقدام کا ذکر نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت ور تاجر سیاست دانوں اور ریاستی عہدیداروں کو بطور رشوت بہت کچھ پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ متحرک ٹیکسزکو ’’کاروبار مخالف‘‘ قراردیتے ہوئے اس سلسلے میں کی جانے والی کسی بھی قانون سازی کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طریقے سے وہ پروگریسو ٹیکسیشن سے بچتے ہوئے دولت جمع کرنے کے راستے پر گامزن رہتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے پر، جیسا کہ شریف خاندان ، وہ سیاست کے ذریعے بھاری مالی فوائدحاصل کرنے اور اقرباپروری کی راہ اپنانے اور خوشامدی افراد کو نوازنے کی پالیسی پر کاربند رہتے ہیں۔اپنی کتاب ’’رپبلک‘‘ میں مشہور یونانی مفکر افلاطون نے کہا ہے...’’تباہی اُس وقت آتی ہے جب تاجر، جس کا دل دولت کی محبت کا اسیر ہو، حکمران بن جائے۔‘‘
ایک مرتبہ پھر کمپنیوں، خاص طور پر برآمدی اہداف رکھنے والے ٹیکسٹائل کے شعبے، جوتوانائی کی شدید قلت اور ریفنڈز روک لیے جانے کے بحران سے دوچار ہے، پر کئی مرحلوں میں بھاری بھرکم ٹیکسز لگادیے گئے ہیں۔ ان کے اُن ذخائر پر بھی ٹیکس لگایا گیا جن پر وہ پہلے ہی ٹیکس دے چکے تھے۔ لیکن دولت مند تاجروں پر کوئی پروگریسو ٹیکس نہیں لگایاگیا ۔ یہ طبقہ خود پر عائد ٹیکسز کا بوجھ بہت آسانی سے عام شہریوں ، جن کا تعلق غریب یا متوسط طبقات سے ہوتاہے، پر منتقل کردیتا ہے۔ یہ طبقہ صارفین سے سیلز ٹیکس تو باقاعدگی سے وصول کرتا ہے لیکن اسے پورے دستاویزی ثبوت کے ساتھ خزانے میں جمع نہیں کراتا۔ چنانچہ یہ دولت کالے دھن کی طرح ان کی تجوری میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح وہ دولت مند جبکہ ریاست غریب ہوجاتی ہے۔ معاشرے کے بہت سے دھڑوں میں سے جس نے ٹیکس وصول کرنے والے محکموں کو تنگنی کا ناچ نچایا ہے ، وہ یہی ٹیکس چور تاجر ہیں۔ اگرچہ کل قومی محصولات میں ان کا حصہ 0.5 فیصد اور انکم ٹیکس میں ایک فیص ہے لیکن لیکن یہ اربابِ اختیار کوخوش رکھنے کے ساتھ انتخابات پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پھر وہ اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے ترمیم شدہ کم ترین ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہنے والے ایف بی آر کو بھی حکومتوں کی طرف سے طاقت ور تاجروں کو خوش کرنے کی پالیسی کا آلہ کار سمجھاجانا چاہیے۔ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی فائلز جمع کرانے والوں کی تعداد کل آباد ی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ وزیرِ ا عظم نواز شریف نے نومبر 2013میں SRO 1065(I)/2013 کے تحت ایک وقت کے لیے ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان بھی کیا تھا لیکن منہ زور تاجروں نے اس کی مطلق پروانہ کی۔ تاجروں کے وفد سے ذاتی طور پر ملاقات کرتے ہوئے نواز شریف نے ’’معیشت کی بحالی ،صنعت میں سرمایہ کاری اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے ایک پیکج‘‘ کا اعلان کیا۔ اس سکیم کے تحت NTN رکھنے والے اُن افراد کے لیے بھی آڈٹ سے چھوٹ کا اعلان کیا گیا جنہوں نے گزشتہ پانچ سال سے انکم ٹیکس فائلز جمع نہیں کرائی تھیں۔ معمولی سی شرط یہ رکھی گئی تھی کہ وہ صرف بیس ہزار روپے سالانہ فیس کے ساتھ اپنی پانچ سال کی ٹیکس فائلز جمع کرادیں۔ اسی طرح NTN نہ رکھنے والے دولت مند افراد کے لیے بھی آڈٹ سے چھوٹ کی پیش کش کی گئی بشرطیکہ وہ گزشتہ پانچ سالوں کی مسنگ ٹیکس فائلز پچیس ہزار سالانہ فیس کے ساتھ جمع کر ا دیں۔ ایسی فائلز جمع کرانے والوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اگلے ٹیکس سال، جبکہ وہ ٹیکس فائلز جمع کرائیں گے، کے دوران بھی اُن کا آڈٹ نہیں کیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کے اس اعلان کے بعد ہزاروں کیسز کا آڈٹ روک دیا گیا۔ آئی ایم ایف سے کی گئی کمٹ منٹ ( کہ SROs کے ذریعے مزید کوئی ٹیکس رعایت نہیں دی جائے گی) کے باوجود یہ چھوٹ دی گئی تھی ۔ اس طرح فنانس منسٹر نے مالیاتی ادارے سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی کی اور معیشت کو ڈاکو منٹ کرنے کے تمام اقدامات کو معطل کردیا ۔ پارلیمنٹ کی طرف سے پاس کردہ قانون کہ ایک ملین سے زائد لین دین بنکوں کے ذریعے کیا جائے گا، کو بھی SRO 115(1)/2014 کے ذریعے معطل کردیا گیا اور اُنہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ تھوڑی سے رقم ادا کرنے کے بعد ٹیکس سے بچنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایف بی آر نے2013-14 کے مالی سال کے دوران اصل ہدف2475 بلین روپے کی بجائے2254.5 بلین روپے اکٹھے کیے۔ اس طرح وہ ہدف سے 220.5 بلین روپے کم حاصل کرسکا۔ اس سال بھی ایسا ہی ہوگا۔ محصولات کا اصل ہدف 2819 بلین روپے سے کم کرکے 2605 بلین روپے کردیا گیا ہے۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ’’حفظِ ماتقدم‘‘ کے تحت ایف بی آر نے ریفنڈ کے 150بلین روپے روک لیے ہیں جبکہ ایڈوانس کے طور پر پچاس بلین روپے حاصل کرلیے ہیں۔
بجٹ کے اعلان کے بعد طاقتور لابیز کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی پالیسی گزشتہ برسوں میں محصولات کے اہداف میں ہونے والی کمی کی اصل وجہ تھی۔ جون 2013میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے پی ایم ایل (ن)اسی کمزوری کا اعادہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ طاقت ور تاجروں کی بھاری جیبوں سے ٹیکس نکلوانے کے لیے تیار نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے آن ریکارڈ تسلیم کیاہے کہ SROs کے تحت دی گئی مراعات کی وجہ سے کم وبیش دوتہائی درآمدات ڈیوٹی فری ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایسے SROs کو ختم کردیا جائے تو ایف بی آر کے محصولات آسانی سے دوگنا ہوسکتے ہیں۔ اگر کم انوائس ظاہرکرنے، جھوٹی انوائس درج کرنے اور جعلی ریفنڈز اور بدعنوانی کو کنٹرول کیا جائے تو محصولات میں تین گنااضافہ ممکن ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ٹیکسز پر بھاری چھوٹ اور مراعات کے علاوہ ٹیکسز کیے نفاذ کے لیے بنائے گئے قوانین پر عملدآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ٹیکسز کا ڈھانچہ کھوکھلا ہوچکا ہے۔ گزشتہ ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت سے سامنے آنے والے ہوشربا حقائق، جن کا ان کالموں میں ایک سے زائد مرتبہ اعادہ کیا جاچکا ہے، سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ٹیکس چوری کو تحفظ دے رہی ہے، چنانچہ یہ بھی منی لانڈرنگ میں ایک طرح سے شریک ہے۔ اگر ٹیکس چور بنک چینل کے ذریعے بیرونی ممالک سے زرمبادلہ لا کر سٹیٹ بنک کے حوالے کردیں تو اُن سے کوئی سوال نہیں پوچھا جاسکتا ۔ طریقہ بہت آسان ہے... کسی بھی منی ایکس چینج کمپنی کو تھوڑا پریمئر ادا کرکے جعلی کاغذات پر زرمبادلہ منگوانے کا ثبوت حاصل کرلیں۔ چنانچہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس وقت پاکستان یہی کاروبار سب سے منافع بخش جارہا ہے۔ اس خوفناک قانون کی وجہ سے پاکستانی معیشت کا ہی کباڑا نہیں ہورہا بلکہ اس طریقے سے دھشت گردوں کی فنڈنگ کا بھی راستہ کھلا ہے۔ موجودہ بجٹ کا سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دولت مند تاجروں کو نوید سناتا ہے کہ وہ انکم ٹیکس ادا نہیں کریں گے اور خود پر لگنے والے ٹیکسز کا بوجھ غریب عوام پر منتقل کردیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *