ہم اہل درد کو ”رم پوریوں“ نے لوٹ لیا

A_U_Qasmi_convertedعطاء الحق قاسمی

بنیادی دعوت نامہ تو حضرت وسیم بریلویکی ”قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ حکومت ہند کی طرف سے تھا جس کے وائس چیئرمین ان دنوں برادرم وسیم بریلوی ہیں لیکن عذیر احمد کی ضد تھی کہ دہلی میں تین روزہ کانفرنس میں شرکت کے بعد رام پور بھی جایا جائے۔ جہاں ان کے عزیز و اقارب رہتے ہیں اور ”مور اوور“ یہ شہر برادرم سعود اشعر کا بھی ہے اور اس شہر کی بے شمار تعریفیں ان کی زبانی سنی ہیں، سو فیصلہ یہی ہوا کہ نہ صرف رام پور جایا جائے بلکہ رام پور سے چند گھنے کی مسافت پر واقع ہل اسٹیشن نینی تال کی سیاحت کا موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے؟
عذیر کی برادری کے ایک نوجوان سعود نے مہربانی یہ کی کہ وہ رام پور سے دہلی ”بقلم خود” پہنچے اور اپنے ساتھ رام پور لے گئے۔ رام پور کو میں رام پوری ٹوپی اور اس کے چاقو مار پٹھانوں کے حوالے سے زیادہ جانتا تھا لیکن صاحب صرف دو دنوں میں یہ شہر تو میرے دل میں اتر گیا۔ اس کی عظیم الشان لائبریری، اس کی جامع مسجد، نواب صاحب کا قلعہ اور ان کے محلات… اور سب سے بڑھ کر اس کے محبت کرنے والے مرد و زن، جس کا ایک اندازہ سعود اشعر سے مل کر تو ہوتا تھا لیکن یہ علم نہیں تھا کہ سارے کا سارا شہر ”محبت کا مارا“ ہوا ہے۔ میری اور عذیر احمد کی رہائش یہاں عذیر کے عزیز سعود کے گھر پر تھی بلکہ سچی بات یہ ہے کہ دہلی سے رام پور اور رام پور سے نینی تال تک وہ چوبیس گھنٹے ہمارے ساتھ رہے۔ میں جب کسی دوسرے ملک یا کسی دوسرے شہر میں جاتا ہوں تو میں 99 فیصد صورتوں میں کسی ہوٹل ہی میں رہائش پذیر ہونے کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ گھر تو گھر ہی ہوتا ہے، خواہ وہ اپنا ہو یا میزبان کا ہو اور یوں لگتا ہے کہ انسان گھر سے نکل کر پھر گھر میں آ گیا ہے، چنانچہ سفر جس تبدیلی کی خاطر کیا جاتا ہے، وہ تبدیلی محسوس نہیں ہوتی، لیکن جو دو دن میں نے سعود اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ گزارے، وہ بے پناہ محبت کے دن تھے، سعود، ان کی والدہ، اس کی اہلیہ، ان کے والد ماجد سچ مچ یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے گھر مہمان نہیں، رحمت کے فرشتے آئے ہیں اور وہ انہیں دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، مجھے علم نہیں تھا، رام پور والے اتنی محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
شہر کا ایک چکر لگانے، لائبریری میں کچھ وقت گزارنے، اس کے ایڈمنسٹریٹر عزیز الدین صاحب سے گپ شپ کرنے اور تاریخی عمارات دیکھنے کے علاوہ صرف دو گھنٹے کے نوٹس پر مکارم الحق صاحب نے ایک فلاحی تنظیم کے اسکول میں جس ادبی تقریب کا اہتمام کیا اور اتنے شارٹ نوٹس پر ساٹھ پینسٹھ اہل قلم اور ادب دوست وہاں جمع کر لئے، اس سے بھی اس شہر کے ادب ذوق اور مہمانوں کے لئے ان کی محبت کا اندازہ ہوتا تھا۔ یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، شکل کچھ جانی پہچانی سی لگتی تھی، انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا تو میں نے کہا: ”ارے آپ تو اظہر عنایتی ہیں“ اور یہ وہی اظہر عنایتی ہیں جو شاعر بھی اعلیٰ درجے کے ہیں اور ان کا ترنم بھی بلا کا ہے۔ ہم مختلف ملکوں میں کئی مشاعرے اکٹھے پڑھ چکے ہیں۔ یہاں ش، م ، عالم اور درجنوں دوسرے شعراء سے بھی ملاقات ہوئی، ان کا کلام سننے کا موقع ملا اور یوں اس شہر کے ادبی خدوخال سے بھی آگاہی ہوئی۔ رام پور والے رام پور کو بھی ایک ادبی دبستان قرار دیتے ہیں چنانچہ اظہر عنایتی اور سلیم عنایتی نے ”دبستانِ رام پور“ کے نام سے ایک کتاب بھی مرتب کی ہے جس میں قائم چاند پوری سے امیر مینائی، نواب مرزا داغ اور مولانا محمد علی جوہر سے عندلیب شادانی اور مولانا امتیاز علی عرشی سے اظہر عنایتی تک کے کلام کا انتخاب شائع کیا گیا ہے۔ اگلے روز اظہر عنایتی نے اپنے ہاں ایک ضیافت کا اہتمام کیا تھا جس میں دوسرے احباب کے علاوہ ایک ایسے شاعر سے بھی ملاقات ہوئی جن کا کلام واقعی متاثر کن تھا، افسوس دوسرے بہت سے ناموں کے علاوہ ان کا نام بھی یاد نہیں رہا۔ خدا کا شکر ہے نام یاد آ گیا ڈاکٹر جاوید نسیمی! ایک دفعہ پھر ذکر مکارم الحق صاحب کی ادبی تنظیم کا جن کی پھرتی سے اتنے کم وقت میں ہم مہمانوں کے لئے یادگاری شیلڈیں بھی تیار ہو گئی تھیں، پھول بھی آ گئے تھے اور شالیں بھی۔ واضح رہے انڈیا میں مہمانوں کو شالیں اوڑاھنے کا رواج ہے اور یوں اب تک میرے پاس شالوں کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور میں اس ”اسٹاک“ میں سے مستحقین کی چادر پوشی کرتا رہتا ہوں۔
اور پھر جب میں اور عذیر اپنے میزبان سعود کے ساتھ نینی تال کے لئے روانہ ہوئے تو میرے ذہن میں اپنا ہل اسٹیشن مری تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ نینی تال اس سے زیادہ کیا خوبصورت ہو گا لیکن صاحب کیا عرض کروں، کوہ مری سے معذرت کے ساتھ نینی تال کا ”مقام ومرتبہ“ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ پہاڑوں کے عین درمیان میں ایک خوبصورت جھیل بہہ رہی ہے جس میں لوگ کشتی رانی کرتے ہیں، اس کے علاوہ ایک وسیع و عریض پلے گراؤنڈ ہے اور پھر اس کی مال روڈ ہے، خوبصورت سڑکیں ہیں، شاپنگ سنٹرز ہیں، میاں نواز شریف کو پہاڑی علاقوں سے بہت محبت ہے، دیکھتے ہیں وہ پاکستان کے خوبصورت علاقوں کیلئے کیا کرتے ہیں؟ نینی تال میں موسم بہت خوبصورت تھا، آپ اسے گلابی جاڑے کا نام بھی دے سکتے ہیں، یہاں دکھائی دینے والے سیاح کھاتے پیتے گھرانوں سے متعلق لگتے تھے، امارت چہروں کے خدوخال بھی بدل دیتی ہے۔
رات کو ہم لوگ واپس رام پور آ گئے، اگلے روز ہماری واپسی تھی اور میزبانوں کی اداسی سے ایسا لگتا تھا جیسے ہم رام پور سے نہیں دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ رام پور میں جتنے بھی لوگوں سے ملاقات ہوئی وہ سرتاپا محبت ہی محبت نظر آئے، ان شاء اللہ خان انشاء نے کہا تھا:
سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
اور رام پور سے رخصت ہوتے وقت میں نے عذیر احمد کو مخاطب کیا اور کہا ”انشاء اللہ خان انشاء کی روح کو میرا پیغام پہنچے کہ
”ہم اہل درد کو ”رم پوریوں“ نے لوٹ لیا“
عزیز بولے: ”رام پوریوں“ کو آپ نے ”رم پوری“ کہہ دیا، میں نے کہا اسے ضرورت شعری کہتے ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *