ساون آیا، لیڈر گرجے، نعرے برسے، دوپٹے لہرائے

عدنان خان کاکڑ
adnanآج اپنے دوست تیس مار خان نیازی کے ساتھ بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ سابق صدر زرداری کا بیان نظر سے گزرا۔ "جب پیپلز پارٹی ہلتی ہے سب ہل جاتے ہیں"۔
واللہ ہم تو اس بیان پر دل تھام کر رہ گئے اور زرداری صاحب کی بے ساختہ تعریف کر بیٹھے۔
اس پر ہمارے دوست جناب تیس مار خان نیازی نے شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب نے سات سال پہلے ہی فرما دیا تھا کہ یہ ہلے ہوئے لوگوں کی پارٹی ہے، اور آج اس پارٹی کی قیادت نے خود اس کا اعتراف کر لیا ہے۔
ہم نے اعتراض کیا کہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، اور بارہا ثابت ہوا ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔ جبکہ خان صاحب بار بار خود کو میدان سیاست میں ہلکا ثابت کرتے رہے ہیں۔
اس پر وہ چراغ پا ہو گئے۔ کہنے لگے کہ ہلکے بھاری کا تو اسی سے پتہ چل جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی خان صاحب سے نہایت متاثر ہے اور ان کے جلسوں، حرکتوں اور حلیے کی مکمل نقالی کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اسی لیے پہلے جلسوں میں موسیقی کی نقل کی اور اب تو حد ہی ہو گئی ہے۔
آج زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی کی بقیہ قیادت تو پی ٹی آئی کی قیادت کی طرح تمیز سے دوپٹہ اوڑھے بھی نظر آئی ہے، اور اس دوپٹے میں بھِی پی ٹی آئی کی سرخ اور سبز رنگ کی پٹیاں نمایاں تھیں۔ کچھ دن میں سارے پٹواری بھی ہرے دوپٹے لہراتے نظر آئیں گے۔ خان صاحب کی تقلید سب سیاست دانوں کو کرنا پڑے گی۔
ہم معترض ہوئے کہ اس دوپٹے میں کالا رنگ بھی شامل ہے، اور یہ لال کالا ہرا رنگ شروع سے پیپلز پارٹی کے جھنڈے میں رہے ہیں۔
اس پر تیس مار خان نیازی صاحب نہایت ناراض ہو کر بولے "وہ تو ان کے اعمال کا رنگ اس میں اتر آیا ہے"۔
بہرحال، تیس مار خان صاحب کی بات سے ہمیں اتفاق ہے کہ اب اودے نیلے پیلے ہرے کالے دوپٹے پاکستانی سیاست میں چھاتے نظر آ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *