25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بندھی بے معنی بھاگ دوڑ۔ کسی کو شکستہ دل کوچوان آئیونا کی کتھا سننے کا دماغ نہیں۔ بالآخر دن ڈھل جاتا ہے۔ اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر آئیونا اپنی گھوڑی کے گلے میں بازو ڈال کر ہولے ہولے کہتا ہے، ’تمہیں تو پتا ہے نا، میری عمر اب گاڑی چلانے کی نہیں رہی۔ یہ کام اب میرے بیٹے کا تھا، کیا کمال کا گاڑی بان تھا، کاش زندہ رہتا۔‘ کچھ رک کر آئیونا پھر کہتا ہے، ’دنیا کے رنگ نیارے ہیں، کوزما آئیونچ چلا گیا ہے، اپنے وقت سے پہلے چلا گیا۔ تم بھی تو ایک ماں ہو، تمہارا بچھیرا تمہیں یوں چھوڑ جاتا تو تمہیں کتنا دکھ ہوتا۔‘ یہاں چیخوف نے قیامت کی ایک سطر پر کہانی ختم کی ہے، ’خاموشی سے سوکھی گھاس چباتی گھوڑی کی سانسیں مالک کے ہاتھوں پر سرسراتی رہیں۔‘

ہم سب کا تجربہ ہے، اپنے دکھ کی کاٹ سب سے گہری ہوتی ہے اور دوسروں کی خوشیاں منہ دیکھے کی وضع داری ہیں۔ اور یہ جو لکھنا ہے، تصویر بنانا ہے، مجسمہ تراشنا ہے، گیت کے سر مرتب کرنا ہے، یہ ایک نامکمل کوشش ہے اپنے دکھ کی چبھن کو دوسروں کے بے انت ساگر سے ملا کر جینے کا جتن کرنا۔ درویش ادب کا معمولی طالب علم ہے۔ ادب کی تحصیل میں علم اور فنون کے بہت سے دھارے ناگزیر طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ چالیس برس کی اس ریاضت سے ایک سبق برآمد ہوا ہے کہ سیاست اعلیٰ ترین انسانی سرگرمی ہے ۔ کوئی فن کار اپنے ہنر کا کیسا ہی گیانی کیوں نہ ہو، اگر اپنے عہد کا شعور نہیں رکھتا، نا انصافی اور انصاف کی حرکیات نہیں سمجھتا، طاقت کی حماقت اور بے چہرگی کا امکان نہیں جانتا تو محض کاریگر ہے، فنکار کے منصب سے فروتر ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں سیاست تخلیقی سرگرمی کے مقام کو پہنچتی ہے اور تخلیقی اظہار سیاست کی جڑیں سینچتا ہے۔’خندہ اور فراموشی کی کتاب‘ میں میلان کنڈیرا کا یہ جملہ تو اب ہماری لوحوں پر ثبت ہو چکا، ’اقتدار کے خلاف فرد کی جدوجہد فراموشی کے خلاف یادداشت کی لڑائی ہے۔‘

اس ملک میں ہم نے اپنی نوجوان نسل کے خلاف، علاوہ دیگر جرائم کے، دو بڑے ظلم کیے۔ تاریخ کو مسخ کر ڈالا اور جغرافیے کو نصاب ہی سے خارج کر دیا۔ تاریخ ہمیں ماضی کی روشنی میں حال کو سمجھ کر مستقبل مرتب کرنے کا ہنر سکھاتی ہے، جغرافیہ ہمیں شعور تناسب سے بہرہ ور کرتا ہے۔ اب اگر دلیل کے جواب میں گالی اور حقائق کی جگہ نعرہ سنائی دیتا ہے، تو اس میں نوجوانوں کا کیا دوش۔ ابھی 25مارچ گزرا۔ اس تاریخ سے ہماری بہت سی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ 25مارچ 1981کو جنرل ضیاالحق نے ایوان صدر میں اعلیٰ عدلیہ کے من پسند ججوں سے عبوری آئینی حکم پر حلف لیا تھا۔ مگر 25مارچ کو آئین سے کھلواڑ کی تاریخ اس سے بہت پہلے جاتی ہے۔ مارچ 1969کے تیسرے ہفتے تک گول میز کانفرنس بھٹو، بھاشانی اور ان کے نادیدہ سرپرستوں کی مہربانی سے ناکام ہو چکی تھی۔ 20مارچ کی شام کابینہ کے اجلاس میں کمانڈر انچیف یحییٰ خان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ صدر ایوب نے تجزیہ پیش کیا کہ بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کا واحد راستہ مارشل لا کا نفاذ ہے۔ قدرتی طور پر سب نگاہیں یحییٰ خان کی طرف اٹھیں۔ یحییٰ نے مختصر جواب دیا کہ وہ اس بارے میں صدر ایوب سے تخلیے میں بات کریں گے۔ ان واقعات پر ایس ایم ظفر، الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب نے اپنا اپنا موقف دے رکھا ہے۔ ہم صرف ائر مارشل (ر) نور خان کی گواہی لے لیتے ہیں۔ ان کے بقول اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کے بعد جنرل یحییٰ اور صدر ایوب میں ملاقات ہوئی، باقی افسران کو جنرل یحییٰ کی قیام گاہ پر انتظار کے لئے کہا گیا۔ یحییٰ خان نے ایوب خان سے کہا کہ 62ء کا آئین منسوخ کر دیا جائے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ ایوب خان ان پانیوں کے شناور تھے۔ اشارہ سمجھ گئے اور حکومت یحییٰ خان کے سپرد کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ وہ نادانستہ ’کمانڈر انچیف کے دفتر میں داخل ہوئے تو چار جنرل، یحییٰ، حمید، گل حسن اور پیرزادہ ریڈیو کے گرد بیٹھے ایوب خان کی آخری تقریر سن رہے تھے جیسے چوروں کا جتھہ اپنی لوٹ کا مال شمار کرتا ہے‘۔ اب یہ نہیں پوچھئے کہ اس تقریر کے بعد کس گیت پر رقص ہوا یا اس رات اسلام آباد ٹیلی وژن پر کس نے خصوصی محفل سجائی۔

ٹھیک دو برس بعد 25 مارچ 1971 ءکی رات مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا۔ آٹھ مہینے پر محیط اس فوجی کارروائی نے دسمبر کی جنگ سے پہلے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر مہر لگا دی۔ 25مارچ کو شروع ہونے والے آپریشن سرچ لائٹ پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ اگر ممکن ہو تو میجر جنرل خادم حسین راجہ، بریگیڈیئر صدیق سالک اور حسن ظہیر کی کتابیں دیکھ لیجیے۔ مختصر یہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان مجیب الرحمٰن سے اپنی صدارت کے تسلسل کی ضمانت مانگتے تھے۔ دوسری طرف عوامی لیگ کی اکثریت ہوتے ہوئے بھٹو صاحب وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ مغربی پاکستان کے عوام بے خبری کے اندھیرے میں تھے۔ کسی قسم کی رسد اور فضائی مدد سے محروم فوج موثر جنگی مزاحمت سے قاصر تھی۔ مغربی پاکستان سے جانے والے فوجی جوان ایک ایسے علاقے میں مقامی زبان جانتے تھے اور نہ جغرافیہ جہاں کا بچہ بچہ ان کا دشمن ہو رہا تھا۔ تاریخ اور جغرافیے سے بے خبری حادثوں کو جنم دیتی ہے اور اگر اعلیٰ ترین درس گاہوں کو تاریخ کی بازیافت سے روک دیا جائے تو ماضی کے حادثات بحران کے تسلسل میں بدل جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: