من مور ہوا متوالا۔۔۔

MHTسب لوگ اُسے ایک فاصلے سے دیکھتے رہے، نزدیک نہ گئے کہ وہ ہراساں نہ ہو جائے اور قیافے لگاتے رہے کہ آخر گلبرگ کے اس گھنے انسانی جنگل میں ہمارے بہت مختصر سے صحن میں یہ مور کہاں سے اتر آیا۔۔۔ گھر کا ایک گیٹ مقفل تھا اُدھر سے تو چہل قدمی کرتا نہیں چلا آیا۔ ہمارے ہمسائے حاجی صاحب اگرچہ جانوروں کے شوقین تھے، کتے، کبوتر، گھوڑے اور شاید گدھے وغیرہ بھی پالتے تھے لیکن یہ طے تھا کہ موروں کے شوقین نہیں ہیں تو پھر یہ مور کہاں سے آ گیا۔
میں نے اپنی تمام مصروفیات موقوف کر دیں اور گارڈن چیئر پر براجمان ہو کر اُسے تکتا رہا۔۔۔ وہ مجھ سے بیگانہ رہا، ہاں کبھی اُس کے جی میں آتا تو مجھ پر بے اعتنائی کی ایک نگاہ کرتا اور پھر اپنے آپ میں گم ہو جاتا۔۔۔ دوپہر ہونے لگی اور وہ اپنے مقام سے ٹس سے مس نہ ہوا۔
’’یہ بھوکا پیاسا ہو گا۔۔۔ اسے پانی دیتے ہیں، دانہ ڈالتے ہیں‘‘۔۔۔ مونا نے اپنے لب سکیڑ کر چٹکی بجاتے ہوئے ’’آہ۔آہ‘‘ کی پر وہ متوجہ نہ ہوا کہ وہ مرغی نہ تھا، مور تھا۔۔۔ بصد احترام اُسے دانہ پانی پیش کیا گیا پر اُس نے گردن موڑ کر بے اعتنائی اختیار کی، دن بھر کھانے پینے سے انکاری رہا یہاں تک کہ شام ہو گئی۔
میں اُس شب بار بار بستر سے اٹھ کر صحن میں آتا تو وہ اُسی مقام پر ساکت کھڑا ہوتا، رات کی سیاہی میں گم کھڑا ہوتا۔
دوسرے روز بھی اُسے کھلانے پلانے کی سب کوششیں ناکام ہو گئیں اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ لاغر ہو رہا ہے، اُس کی باریک ٹانگوں میں لرزش ہے، وہ مستحکم نہیں ہے۔
’’اس نے مر جانا ہے‘‘ مونا نے دُہائی دی۔
’’میں کیا کروں‘‘ ۔۔۔میں نے لاچارگی سے کہا۔
’’کسی مور ایکسپرٹ سے بات کرو‘‘۔
اب میں اتنا بارسوخ اور تعلقات عامہ کا ماہر شخص تو نہ تھا۔۔۔ میری کچھ واقفیت ادب، مصوری یا سیاست اور مذہب وغیرہ کے ایکسپرٹس سے تو تھی پر میں کسی مور ایکسپرٹ کو نہ جانتا تھا۔
شاید میں نے لاہور کے چڑیا گھر کے انچارج یا گھوڑا ہسپتال کے کسی ڈاکٹر سے بات کی اور مجھے بتایا گیا کہ مور اپنی مورنی سے یا مورنی اپنے مور سے جدا ہو کر زندہ نہیں رہتے۔ مرن بھرت رکھ لیتے ہیں، کھانا پینا ترک کر دیتے ہیں اور چپ چاپ مر جاتے ہیں۔
’’اس نے مر جانا ہے‘‘۔۔۔ مونا نے پھر غل مچایا۔ ’’کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اسے زبردستی کسی ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور وہ اسے کوئی طاقت کا ٹیکہ لگا دے۔۔۔ دیکھو تو سہی کہ اس کے رنگ کیسے پھیکے پڑتے جاتے ہیں۔ یہ مر گیا تو ہم اسے کہاں دفن کریں گے‘‘۔
صد شکر کہ ہم اس آزمائش سے بچ گئے۔۔۔ تیسرے روز جب کہ مور نڈھال ہو کر گرتا پڑتا اور پھر بمشکل سنبھلتا تھا ایک پریشان حال بوڑھا ہمارے گیٹ پر آ گیا۔
’’سر، یہاں کوئی مور آیا ہے؟‘‘۔
’’ہاں‘‘۔
’’وہ ہمارا مور ہے۔۔۔ ہم آپ سے کچھ فاصلے پر فردوس مارکیٹ کے قریب رہتے ہیں۔ تین روز پیشتر وہ ہمارے بقیہ موروں سے جدا ہو کر پھڑپھڑاتا ہوا اُڑا اور اڑان کرتا غائب ہو گیا۔۔۔ وہ آس پاس کے گھروں میں کہیں نہ ملا۔۔۔ ہم تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ وہ اڑتا ہوا اتنی دور آپ کے گھر میں اتر آیا ہے۔ اُس کی مورنی نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے، ہمارا مور ہے‘‘۔
چونکہ ہم اس مور کی موجودگی کے دوران آس پاس کے گھروں میں دستک دے کر دریافت کرتے رہے تھے کہ ۔۔۔ کیا آپ کا کوئی مور گم ہو گیا ہے تو یہ عین ممکن تھا کہ یہ بوڑھا جو قدرے مخدوش سا بوڑھا تھا یہ افواہ سن کر ایک مور ہتھیانے کے لئے چلا آیا ہو تو میں نے کہا ’’آپ مور کی کوئی نشانی بتائیں، مجھے کیا پتا کہ وہ آپ کا مور ہے یا نہیں‘‘۔
لیکن اُسے اپنے مور کی نشانی بتانے کی حاجت نہ رہی کہ جونہی مور نے اُسے دیکھا اُس کی بجھتی ہوئی آنکھوں میں شناسائی کا ایک چراغ روشن ہوا اور وہ ناتواں ٹانگوں سے چلتا اُس کے قریب آ گیا۔
میرے صحن میں اترنے والا وہ آخری مور تھا۔
اب بھی اتنے برسوں بعد جب کبھی میں نیند کے خمار میں گم کسی دھندلی سویر میں اپنے صحن میں آتا ہوں تو مجھے شائبہ ہوتا ہے کہ وہاں ایک مور ہے۔ میں تذکرہ کر چکا ہوں کہ ملکہ پکھراج بھی موروں کی بہت دلدادہ تھیں، اپنے زرعی فارم میں موروں کی نسل پروری کرتی تھیں اور اکثر ہماری بیجوں کی دکان، کسان اینڈ کمپنی پر آ کر ابّاجی سے پہروں زراعت اور باغوں کے بارے میں مشورے کیا کرتی تھیں تو ایک بار انہوں نے ابّا جی سے کہا۔۔۔ چوہدری صاحب میں آپ کی قدر کرتی ہوں (مجھے شک ہے کہ ابّاجی کی دراز قامتی اور اُن کی نیلی آنکھیں اُن پر اثر کر گئی تھیں) تو میں نایاب سفید موروں کا ایک جوڑا آپ کو تحفے کے طو رپر پیش کرنا چاہتی ہوں تو ابّاجی نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ملکہ میں بھی آپ کی گائیکی اور پیشکش کی قدر کرتا ہوں لیکن ان دنوں ہم لکشمی مینشن کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں اور وہ اتنا مختصر ہے کہ یا تو اُس میں میرے چھ بچے رہ سکتے ہیں اور یا پھر مور۔
تو دیکھئے موروں کی بات چل نکلی تو کہاں تک پہنچی۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں کی ملکہ پکھراج تک جا پہنچی۔
اگر کاسبو ایک ٹوریا تھا تو یہ شِو مندر ایک ایسا اشکولے تھا جس کے پار ویرانیاں اور بے آبادیاں تھیں۔۔۔ شِو لنگ اتنے تھے کہ ٹھوکریں لگتی تھیں اور مور اتنے تھے کہ صحرا اُن کے وجود سے رنگین ہوتا ایک مور ہوتا تھا۔ کوئی ایک مور کسی ڈال پر رنگوں کا ایک گھونسلا بنائے تادیر ساکت بیٹھا رہتا اور پھر یکدم اپنے پروں کو پھیلا کر اڑتا ہوا کسی اور شجر کی بے برگ شاخ پر جا اترتا۔ اور فضا میں جہاں جہاں سے وہ گزرتا تھا وہاں اُس کے رنگوں کے نشان دوپہر کی دھوپ میں زائل یکدم نہ ہوتے۔۔۔ ایک کہکشاں رنگ رنگیلی بہت دیر تک دکھائی دیتی رہتی۔۔۔ جیسے کسی فضائی مظاہرے کے دوران جیٹ طیارے اپنے پیچھے رنگوں کا ایک دھواں چھوڑتے گونجتے گزر جاتے ہیں۔۔۔ اور وہ رنگ دیر تک جوں کے توں دکھائی دیتے اُن کی گزرگاہ کی نشانی کے طور پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔
موروں سے بچھڑنا آسان نہیں ہوتا۔
کیا پتا اُس شِو مندر کے پچھواڑے میں جھاڑیوں، سروٹوں اور چھدرے درختوں میں جو مور ہی مور تھے اُن میں وہ ایک مور بھی ہو جو کبھی گئے زمانوں میں میرے صحن میں اترا تھا۔
تھر کے صحرا کا آسمان خالی اور بے آباد تھا، وہاں گھٹا گھنگور گھنگور چھا جانے کا کچھ امکان نہ تھا ورنہ وہ مور شور مچا دیتے۔
ہمیں بہرطور موروں کی یہ دنیا چھوڑ جانا تھی۔
اور ہم اگرچہ اُس جدائی سے بہت دل گرفتہ ہوئے پر ہم رنگے جا چکے تھے۔
گویا یہ موروں کی دیوالی تھی جس میں ہم نے شرکت کی تھی اور اُنہوں نے ہم پر رنگوں کی پچکاریاں پھینکی تھیں تو ہم رنگے جا چکے تھے۔
ہم واپس ہو رہے تھے۔
کاسبو کے ریتلے راستوں پر ہماری پراڈو کے ٹائروں کے نشان نقش ہوتے جا رہے تھے اور میں دکھی ہو رہا تھا کہ ہم رُک نہ سکتے تھے۔۔۔ میں کچھ دیر کاسبو کی ریت کی گلیوں میں بھٹکنا چاہتا تھا، اور مجھے شام ہو جائے۔۔۔وہ مہتاب جو پچھلی شب تھر کے صحرا کے اندر ہمارے بدنوں پر ابھرا تھا اُس نے آج کی شب بھی تو انہی ریتلی گلیوں میں جھلکنا تھا۔۔۔ ان خاردار جھاڑیوں کی ریت کی گلیوں میں مجھے شام ہو جائے اور اگر فیض صاحب میرے ہمراہ ہوتے۔۔۔ اُن دو شبوں کی مانند جب وہ صبح کی اذانوں تک ہمارے رفیق رہے اور ہماری فرمائش پر اپنے شعر سناتے رہے اور جب کبھی میں اُنہیں کوئی ذاتی نوعیت کا سوال پوچھتا تو وہ کہتے ’’بھئی تارڑ، رہنے دیں‘‘ ۔ تو اگر فیض اس شب کاسبو کی ریتلی گلیوں میں میرے ہمراہ ہوتے اور مہتاب ابھرتا تو انہوں نے تو کہنا تھا کہ:
آج تنہائی کسی ہمدم دیریں کی طرح
کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر ہیں ہم دونوں کہ مہتاب اُبھرے
اور جھلکنے لگے تیرا عکس ہر سائے تلے
دن کی تلخ دھوپ میں ہم خوابوں، سرابوں اور خیالوں میں سے نکل آئے، کاسبو میں سے نکل آئے۔
دھوپ میں ہمارے سب موروں کی دیوالی کے رنگ نچڑ گئے۔۔۔ ہم پھیکے پڑ گئے۔۔۔ ہمیں اُن سے بچھڑنا تھا سو بچھڑ گئے کہ ہم نے آج بہت دور جانا تھا۔۔۔ ہم نے جھیل کینجھر کے کنارے آج کی شب گزارنی تھی۔۔۔ آج ہمارے سندھ کے سفر کا اختتام ہونا تھا۔
سندھ کا صحرائی خواب گمشد۔۔۔ سفر تمام شد!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *