میٹرو کے بعد کیا ہوگا؟

Ayaz Amirبھاری بھرکم اخراجات سے تعمیر کردہ منصوبے کااگر زیادہ فائدہ نہیں بھی تو کیا ہوا، خیر ہے، اسے بنانے والوں کے ذہن میں اس کے سوااور کچھ نہیں کہ وہ اسے اپنی کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کرسکیں۔ جس طرح موٹر وے کی تعمیر کے دور میں تمام سرکاری امور اس کی تعمیر کے تا بع دکھائی دیتے تھے،اسی طرح گزشتہ دو برس سرخ میٹرو نامی سفید ہاتھی ڈکار گیا۔ سستی روٹی، سستے تندور، دانش سکول، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور ایسے ہی سابقہ منصوبوں سے اب خادمِ اعلیٰ شہرت نچوڑرہے ہیں۔ موٹر وے کے بارے میں فرض کیا گیا تھا کہ وہ ملک کو ایشیائی ٹائیگر بنادے گی، اب یہ ذمہ داری میٹرو کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ملک کا ایشیائی ٹائیگر بننے کا سفر شروع ہوگیا۔ ہماری قسمت ، مقدر اپنی جگہ پر ، افسوس اس بات کا ہے کہ ان دعووں پر کسی کو شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔
میٹرو بس کی تعمیر تکمیل کے مراحل طے کرچکی، بہت اعلیٰ، لیکن اب یہ ریاضی کے کسی فارمولے کے تحت ہی معلوم کرنا پڑے گا کہ بلوایریا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے تک کیسے جانا ہے۔ آپ دنیا کے اس اَٹھویں عجوبے کو کیسے عبور کریں گے؟ یہاں ایک مرتبہ پھرپریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہت سے صارفین اس سے استفادہ کرتے ہوئے سفرکا لطف اٹھائیں گے، اور پھر کچھ شاپنگ مالز کا کاروباری چمک اٹھے گا۔ جہاں تک اس منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات کا تعلق ہے تو دوستوں کے درمیان چالیس پچاس بلین روپوں کی حیثیت ہی کیا ہے؟ یقیناًہم دو چیزوں کے بارے میں ہم کبھی نہیں جان پائیں گے...ایک اپنا ا یٹمی بجٹ اور دوسرامیٹروز پر اٹھنے والے اخراجات۔
اس دوران خوبصورت دارلحکومت، اسلام آباد ، کے لیے سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے کسی سسٹم کا انتظار جو ’’کل بھی تھا اور آج بھی ہے‘‘۔ اسی طرح سرکاری سکولوں اور اہسپتالوں کے لیے انتظار تو دامنِ قیامت سے جڑاہے کیونکہ یہ مبادیاتِ زیست آفاقی سیاست دانوں کی توجہ کے قابل نہیں۔ تاہم ایک اور مسلہ سراٹھارہا ہے۔ اب جبکہ کے میٹرو بن چکی تو حکمرانوں کے تعمیراتی دسترخوان کی زینت کو ن سی ڈش بنے گی؟ ضروری ہے کہ حکومتیں کچھ کرتی دکھائی دیں، چنانچہ فعالیت کے اس تاثر کو گہرا کرنے کے لیے گزشتہ دوسال کے دوران اسلام آباد کو کھودا ڈالا گیا۔ راستہ کاٹنے والے درخت معہ ہمہ یارانِ محفل کاٹ گرائے گئے۔ درخت کاٹنے کو بلاشبہ ہمارا قومی مشغلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت اپنی جڑوں پر قائم ایک سرسبز درخت ہماری نظروں کے سامنے وہ سرخ کپڑا ہے جو کسی بپھرے ہوئے بیل کے سامنے لہرایا جائے۔ بہرحال حکومت کے پاس میٹرو تعمیر کرنے کا جواز موجود تھا، چنانچہ کیا چوبی قامت اور کیا اس کی پریشان خاطر سرسبز شرح، برگ و بار۔
مری اور مظفر آباد تک ایک ریلولے لائن بچھانے کا منصوبہ بھی تھا، اس فولادی لکیر کا کیا ہوا؟ اور پھر مارگلہ پہاڑیوں کا سینہ شق کرکے دوسری طرف ایک نیا اسلام آبادتعمیر کرنے کی خواہش بھی دل میں ناوک فگن تھی، اس کی کشید کہاں تک پہنچی؟ ہوئی مدت کہ اس احمقانہ منصوبے کے بارے میں کچھ نہیں سنا، خیر ہو۔ زیرو پوائنٹ سے لے کر روات تک ، شیخ زید ایونیو بنایا جانا تھا۔شنید ہے کہ یہ منصوبہ ابھی زندہ ہے، الحمدوﷲ، بیکار مباش۔ لاہور میں موٹر وے سے مرتعش ہونے والی نیم دیوانگی کو جیل روڈ سگنل فری ، کینال روڈ کی توسیع اور گلبرک کو سگیاں کے مقام پر موٹر وے سے ملانے کی صورت تکمیل کے مراحل طے کرنے تھے۔ ایسے چمکدار منصوبے ذہن میں آتے کیسے ہیں، یہ ماہرینِ نفسیات کے کھوج لگانے کا موضوع ہے۔ جو چیز دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بچے کو اپنے کھلونوں سے بہت لگاؤ ہوتا ہے، موجودہ حکمران موٹرویز اور ایکسپریس ویز کے ذریعے اپنی دل پشوری کرتے رہتے ہیں۔ دراصل یہ کھلواڑ ہی ان کے من پسند، کیونکہ گورننس کے دیگر امور اتنے بے کیف اور بوریت افز ہیں کہ ان سے احتراز ہی بہتر ۔ پولیس ، کرمینل جسٹس اور ٹیکسز کے نظام میں اصلاحات ، تعلیمی نظام کو مضبوط بنیادوں پرقائم کرتے ہوئے پھیلانا، صحتِ عامہ کے معیار کو بہتر بناناان کی دنیا میں سمائی نہیں رکھتے۔حکمران طبقے سے ان امور کی باتیں کریں تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ جائیں گی کہ یہ بھی کوئی کرنے کے کام ہیں!
برِ صغیر کے بابو جانتے ہیں کہ اُنھوں نے اپنے باس کے ساتھ کیسے کھیل کھیلنا ہے۔ بہت مشکل امر نہیں، بس درست تار کو چھوئیں اور سنگل فری کاوریڈور، پہاڑوں کے درمیان سے ریلوے لائن اور ایک اور میٹرو کی موسیقی بج اٹھے گی، پژ مردہ آنکھوں میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی۔ تف ہے اُن پر جو ان کی موسیقی میں مخل ہوتے ہوئے سکول اور کالج اور اہسپتال تعمیر کرنے کی بات کریں۔ یہ بابو جانتے ہیں کہ کس حرکت میں برکت ہے۔ یہ حرکت جسمانی، یعنی دکھائی دینے والی ہو، تو ہی بار آور ہوتی ہے۔ تدبر، سوچ، فہم و فراست کا میدان بہت تکلیف دہ اور اکتا دینے والا ہے،اور پھر سرو کو پھل بھی تو نہیں لگتا، چنانچہ فروٹ منڈی میں قامتِ زیبا کا کیا کام؟چنانچہ آپ ان سے مستقبل کی منصوبہ سازی کرنے اور اس کے لیے سوچ سمجھ کر منصوبے بنانے کی توقع نہ کریں اور یقین کرلیں کہ ہمارے سیاسی اکھاڑے میں یہی پہلوان دستیاب ہیں۔ان کے داؤ پیچ ان کے اپنے میچ کے لیے ہیں۔ یہی ہماری قسمت اور یہی قسمت کا لکھا اورجہاں تک پنجاب ، جو پاکستانی سیاست کا پاور ہاؤس ہے، کا تعلق ہے تو اس میں یہ موجودہ حکمران ہیں یا عمران خان کی پی ٹی آئی ہے۔ ہم اپنے کارڈز جو جتنے مرضی پھینٹ لیں،لیکن ہمارے سامنے ہیں تو یہی پتے۔ آپ ان کے سر بندوق لے کر کھڑے ہوجائیں، ان کے منہ سے میٹرو اور موٹروے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ آج سے دو سال بعد بھی ان کے ہونٹ یہی مالا جپ رہے ہوں گے۔ اگر کوئی تبدیلی ہوئی بھی انہی منصوبوں میں توسیع کا مژدہ سنارہی ہوگی، جیسا کہ کاشغر گوادر کاوریڈور۔ یہ کاوریڈور ہیں تو موٹر ویز اور ریلوے لائنز، ان کے سوا کوئی تبدیلی آشکار نہیں۔
جہاں تک موجودہ حکمران جماعت کے متبادل، پی ٹی آئی ، کا تعلق ہے تو اس نے ابھی تک’’ انتخابات چرانے ‘‘ کے علاوہ کسی اور ترانے پر اپنے ساز نہیں آزمائے ہیں اور نہ ہی کوئی اور لے ان کے آرکسٹرا سے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی پی ٹی آئی کی لے بہت پرجوش دکھائی سنائی دیتی ہو لیکن اب یہ اپنا جادو اثر کھو چکی۔ اب یہ وہ نغم�ۂ جانفزا نہیں جس نے کبھی لوگوں کے دل کو گرما دیا تھا۔ اس وقت ملک کے اہم ترین معاملات،جیسا کہ دھشت گردی، وزیرستان، کراچی ، کو فوج ہینڈل کررہی ہے۔ ان معاملات میں سیاسی قیادت کو لیڈ کرنی چاہیے تھے، اسے راہنمائی کرتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیے تھے، لیکن اہم فیصلہ سازی کی ذمہ داری فوج کے کندھوں پر ہے۔ چونکہ یہ قومی نوعیت کے یہ معاملات انتہائی اہم ہیں، اس لیے اب مقتدار ادارے قومی ایجنڈا طے کررہے ہیں۔ جہاں تک وفاقی حکومت کا تعلق ہے تو یہ این جی اوز کو بھی ہینڈل نہیں کرسکتی۔ ایک دن ایک این جی او پر پابندی لگائی جاتی ہے، اگلے دن اٹھا لی جاتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کیا پہلا فیصلہ احمقانہ تھا یا دوسرا۔
اس تمام ماحول میں وزیرِ داخلہ عوام کی تفریح طبع کا سامان کرنے کے لیے گرم سرد بیانات دیتے رہتے ہیں۔ یہ وہ صاحب ہیں جو حکومت کے ذہین ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں..... باقی رہے نام اﷲ کا!یہاں ہمیں ایک بات میں بہت واضح رہنا پڑے گا۔ فوج نے سیاسی میدان پر زبردستی قبضہ نہیں کیا، اسے خلافراہم کیا گیا۔ سولین قیادت نے اپنی نااہلی سے اسے آگے آنے کا موقع دیا۔ اگر وفاقی حکومت سڑکیں اور پل بنانے سے آگے نہیں بڑھ سکتی تو فاٹا، کراچی اور دھشت گردی کے پیچیدہ امور پر کسی نہ کسی نے تو سوچ بچار کرنی ہے ۔
اس وقت فوج کو عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ وہی فوج ہے جو مشرف اور پھر کیانی کے دور میں بہت پسندیدہ نہ تھی۔ مشرف بہت دیر سے اقتدار میں تھے۔ کیانی کو شروع میں مقبولیت حاصل تھی ،خاص طور پر سوات اور جنوبی وزیرستان اپریشن کی وجہ سے، لیکن ان کی طرف سے ملازمت میں توسیع لینے کو مجموعی طور پر پسند نہ کیا گیا۔ تاہم اس وقت صورتِ حال مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے۔ فوج اور عوام شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ماضی کو بھلا کر اپنے مقامی ’’داعش‘‘ سے نمٹا جارہا ہے اور فوج قربانیاں دے رہی ہے۔ دراصل ہمارا اصل مسلۂ یہی ہے کہ ایک طرف فوج انتہائی منظم اور طاقت ور ادارہ ہے تو دوسری طرف سیاست دان بے عملی کی عملی تصویرہیں۔ ان کا خبط میٹرواور موٹر وے، باقی’’ جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ‘‘۔
کیا میں پہلا قاری ہوں جس نے نوٹ کیا ہے کہ اخبارات بے کیف ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے ٹی وی کی کمر توڑ دینے والی خبروں اور ٹاک شوز سے تو میں کافی دیر سے پرہیز کررہا تھاکیونکہ مجھے اپنی عقل سے دستبردار ہوکر زندگی گزارنا اتنا معقول دکھائی نہیں دیتا۔ دراصل ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہمیں مشاعرے، موسیقی اور اچھے بول رکھنے والے گیت چاہییں۔ اس خلا کو کون پورا کرے گا؟ہماری سیاست میں شاعرانہ ذوق کون لائے گا۔ ہمارا یہ ’’خلائی دور‘‘ کب ختم ہوگا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *