بھارتی کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم کے اندر کی کہانیاں

دھونی کی بے چارگی
1- Cricket

اپنے کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے ’’بہاری‘‘ کہہ کر پکارا جا تا تھا۔یوراج سنگھ نے خاص طور پر دھونی کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ وہ ہر وقت دھونی کو کہتے رہتے تھے کہ چوکے چھکے مارنا کوئی کمال نہیں اصل بات تو میچ جیتنے والی اننگز کی ہوتی ہے۔جب دھونی نے میچ وننگ اننگزیں کھیلنا شروع کر دیں تو یوراج نے کہنا شروع کر دیا کہ کسی بھی کھلاڑی کا اصل امتحان تو ٹیسٹ میں ہوتا ہے۔ یوراج نے دھونی کو اتنا عاجز کر دیا کہ ایک دن وہ پھٹ پڑے کہ ’’تمہاری سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن یہ بتاؤ کہ تم ہمیشہ اتنے غصے میں کیوں رہتے ہو؟‘‘ یوں لگا جیسے دھونی نے دہکتے ہوئے کوئلوں پر پانی ڈال دیا ہو۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے بہترین دوست بن گئے۔

جب جان رائٹ (انڈین ٹیم کے کوچ) نے سہواگ کو کالر سے پکڑ لیا
2-cricket-dressing-room

2002ء میں نیٹ ویسٹ ٹرافی کے ایک میچ میں وریندر سہواگ نے احمقانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوا دی۔ ڈریسنگ روم میں واپسی پر کوچ جان رائٹ نے بھی پاؤں پٹختے ہوئے اندر داخل ہوئے اور سہواگ کو کالر سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا۔ وہ سہواگ کے اس طرح آؤٹ ہونے سے سخت مایوس تھے۔ اس خبر نے ڈریسنگ روم کے اندر اور باہر سنسنی دوڑا دی۔

یوراج سنگھ دل کے دورے سے بال بال بچے

آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ2000میں یوراج سنگھ کو
3-cricket-dressing-roomپہلا ون ڈے میچ کھیلنا تھا۔ میچ سے قبل گنگولی یوراج کے پاس آئے اور کہنے لگے ’’اوپن کرے گا نا؟‘‘ یوراج سنگھ یہ سن کر سکتے میں آ گئے اور بڑی مشکل سے ان کے منہ سے صرف ’’ہاں‘‘ کی آواز نکلی۔ اس رات بے چینی کے باعث یوراج کو نیند کی گولیاں کھانی پڑیں۔ اگلے دن جب وہ جاگے تو گنگولی نے بڑے سادہ سے انداز میں کہا کہ ’’میں تو صرف تمہیں تنگ کر رہا تھا۔‘‘

جب ساری ٹیم نے مل کر گنگولی کو بیوقوف بنایا

ایک دن گنگولی ڈریسنگ روم میں داخل ہوئے تو ساری ٹیم 4-cricket-dressing-roomان سے سرد مہری سے پیش آئی۔ اس کا سبب انہوں نے یہ بتایا کہ گنگولی نے ٹیم کے بارے میں کسی اخبار نویس سے بات کرتے ہوئے سخت جملے کہے تھے۔ گنگولی ششدر رہ گئے اور اپنی صفائی پیش کرنے لگے کہ انہوں نے کسی سے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ صفائی دیتے ہوئے گنگولی کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے کپتانی چھوڑنے کی پیش کش کر دی۔ گنگولی کی یہ حالت راہول ڈریوڈ سے دیکھی نہ گئی اور انہوں نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ ساری ٹیم نے مل کر گنگولی کو اپریل فول بنایا تھا۔ بس اس کے بعد گنگولی نے بلا اٹھا لیا اور ایک ایک کھلاڑی کے پیچھے دوڑنے لگے۔

ٹنڈولکر کا طیش میں آنا
5-cricket-dressing-room

2004میں ملتان ٹیسٹ کے دوران سچن ٹنڈولکر 194رنز پر کھیل رہے تھے کہ اس ٹیسٹ میں انڈیا کے کپتان راہول ڈریوڈ نے اننگز ڈکلئیر کر دی۔ ٹنڈولکر ہکا بکا رہ گئے اور انہیں طیش بھی بہت آیا۔ ان کی واپسی پر ان کے ساتھی کھلاڑیوں کو امید تھی کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ لیکن ٹنڈولکر نے اپنا وقار برقرار رکھا ۔ انہوں نے ڈریوڈ سے صرف اتنا کہا کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے۔ اس کے بعد جان رائٹ اور گنگولی نے ان سے اس واقعے پر معذرت کی۔

کپل دیو نے داؤد ابراہیم کو ڈریسنگ روم سے نکال باہر کیا

6-cricket-dressing-room

داؤد ابراہیم کے بارے میں یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم تک بھی پہنچ گیا تھا۔ جی ہاں انڈین کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم تک۔ چند سال قبل دلیپ وینگسارکر نے انکشاف کیا تھا کہ 1987ء میں شارجہ میں ایک میچ کے دوران داؤد ابراہیم انڈین کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم میں پہنچ گیا۔ اس نے کھلاڑیوں سے کہا کہ اگر وہ پاکستان کو ہرانے میں کامیاب ہو جائیں تو ہر کھلاڑی کواس کی جانب سے ایک کار تحفے میں دی جائے گی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کپل دیو نے اسے یہ کہتے ہوئے باہر نکال دیا کہ ’’چل، باہر چل۔‘‘

فاروق انجنئیرگواسکر کو نصیحت خود میاں فضیحت
7-cricket-dressing-room

1971میں فاروق انجنئیر اور گواسکر کو میلبورن باکسنگ ڈے میچ کے لیے ریسٹ آف دی ورلڈ الیون میں چنا گیا۔ دونوں انڈین کھلاڑیوں کو میچ میں اوپن کرنا تھی۔ گواسکر ان دنوں نا تجربہ کار تھے اس لیے فاروق ان کے مربی بنے۔ انہوں نے اوپننگ کے لیے جاتے ہوئے گواسکر سے کہا کہ صفر پر آؤٹ نہ ہو جانا۔ واپسی کے لیے ڈریسنگ روم تک پہنچنے میں تمہیں بڑا لمبا سفر طے کرنا پڑے گا۔ ہوا کیا؟ ہوا یہ کہ فاروق خود ہی پہلے اوور میں آؤٹ ہو گئے اور ڈریسنگ روم واپسی کا طویل سفر انہیں طے کرنا پڑ گیا۔ ہنس ہنس کے گواسکر کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔

ویرات کوہلی کی سادگی
8-cricket-dressing-room

شروع کے دنوں میں ویرات کوہلی اپنے کام سے کام رکھنے والے سادہ سے نوجوان تھے۔ انڈین ٹیم ایسے لوگوں کو تنگ کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے۔ ان میں سے کسی نے کوہلی کو پٹی پڑھائی کہ ہر نئے کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچن ٹنڈولکر کے پاؤں چھوئے اور ان سے دعا لیں۔ کوہلی نے ایسا ہی کیا۔ ٹنڈولکر نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں کوئی کام ہے؟ کوہلی نے بتایا کہ وہ تو روایت کی پیروی کر رہے ہیں تو ٹنڈولکر ہنسنے لگے اور بتایا کہ یہ تمہیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔

ٹنڈولکر کی حوصلہ افزا تقریر
9-cricket-dressing-room

2003ء کے ورلڈ کپ کی ابتدا میں انڈیا کی حالت بڑی پتلی تھی۔ ایسی حالت میں ٹنڈولکر نے ڈریسنگ روم میں کھڑے ہو کر ایک ایسی حوصلہ افزا تقریر کی کہ انڈین ٹیم کی کایا کلپ ہو گئی۔ اگلے آٹھوں میچ جیت کے انڈین ٹیم فائنل میں پہنچ گئی اگرچہ وہ فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

انڈیا کا عظیم ترین مداح انڈین ٹیم کے ڈریسنگ روم میں

10-cricket-dressing-roomسدھیر کمار چودھری کو سچن ٹنڈولکر کا عظیم ترین مداح کہا جاتا ہے اور وہ ہیں بھی۔ انہوں نے سالہا سال ٹنڈولکر کیپوجا کی ۔ ان کی برسوں کی ریاضت انہیں کرکٹ کے دیوتا ٹنڈولکر کی نظروں میں لے آئی۔ جب انڈین ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تو ٹنڈولکر نے انہیں خصوصی طور پر ڈریسنگ روم میں مدعو کیا اور ان کے اور ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ تصویر کھنچوائی۔سدھیر کے لیے یہ حاصلِ زندگی لمحہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *