دہشت گردی کیلئے مفاہمت کی یادداشت

Ayaz Amirسابق صدر زرداری کے ناقابل ِ فراموش دور میں پاکستان کی سب سے اہم صنعت ، جس نے باقی تمام فعالیت کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا، وہ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی رسم تھی۔ مختلف ممالک کے ساتھ اُنھوں نے جتنے ایم او یوز پر دستخط کئے، وہ ایک معقول سائز کے کتب خانے کو بھرنے کے لئے کافی تھے۔ اب وہ منصب سے ہٹ چکے ہیں تاہم ہمیں فکرکرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ ان کی روانگی کے بعد بھی اس صنعت کے زوال پذیر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کے ہونہار جانشیں اس ضمن میں ان کو مات دینے کی پوری کوشش کررہے ہیں․․․ اور ، الحمدلله، کامیابی ان کے قدم چومتی دکھائی دیتی ہے۔
افسوس ہوتا ہے ان ناقدین پر جو کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے ان سو دنوں کے دوران کچھ نہیں کیا ہے!ارے خدا کے بندوں، مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنا اور کرتے ہی چلے جانا نظر نہیں آتا کیا؟صرف چین کے ساتھ دستخط کی گئی یادداشتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان سے ”دیوار ِ چین خورد“ تعمیر ہو جائے۔ قومی ترقی کے محدود پیمانوں پر نظر رکھنے والوں کو وہ ملکوتی ریلوے لائن کیوں دکھائی نہیں دیتی جس کے سامنے(واحسرتا!) شاہراہ ِ ریشم بھی ایک معمولی پگڈنڈی دکھائی دے گی اور یہاں سے معاشی ربط کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہوگا جس کی رفعتوں کے سامنے ہمالیہ کے ضبط کے بندھن بھی ٹوٹ جائیں گے۔ اور تو اور، مسکراہٹوں کی سرزمین، تھائی لینڈ، کے ساتھ چکن انڈسٹری اور ترکی کے ساتھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور اربن ٹرانسپورٹ کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشتیں پر پھیلائے کھڑی ہیں۔
حکومت کے لئے وہ کاغذ ، جس پر ایسی یادداشتیں تحریرہوتی ہیں، انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن کیا کیجیے، عوام کو ان سے اپنے مسائل کے حل کا کوئی عملی اظہار نہیں ملتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا ان معاہدوں کے نتیجے میں عملی اقدامات بھی نظر آئیں گے یا نہیں؟اس سے ایک سنگین نوعیت کا سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر ہم معمولی مسائل، جیسا کہ شہر وں میں سفر کی سہولیات اور صفائی وغیر ہ کا انتظام بھی غیر ملکی امداد کی بیساکھیوں کے بغیر سرانجام دینے کے اہل نہیں ہیں تو پھر دہشت گردی، جو کہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب مسئلہ ہے، سے خود کیسے نبرد آزما ہو سکتے ہیں؟ایک اور بات ذہن میں آتی ہے کہ اگر تمام مسائل کاغذپرکچھ حروف لکھنے سے حل ہوجاتے تو ہم بہت دیر پہلے ان سے جان چھڑوا چکے ہوتے ۔ دہشت گردی کا مسئلہٴ اب تک نقش برآب ہوتا کیونکہ اس کے خلاف بہت سی قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں․․․ انہی گھسے پٹے دقیانوسی بیانات کا اعادہ تازہ ترین اے پی سی کے دوران کیا گیا۔
افسوس ہمارے ترکش کے یہ تیر ِ نیم کش ان سخت جان طالبان کی جلد پر ہلکی سی خراش بھی نہیں لگا پاتے ہیں۔ اب تو طالبان کے سب سے بڑے حامی، جماعت اسلامی کے امیر، سید منور حسن، بھی چیخ اٹھے ہیں کہ طالبان کے ہاتھوں میجر جنرل ثنا الله نیازی کی ہلاکت ”ناقابل ِ قبول “ ہے۔واقعی؟ کیا جماعت کی سوچ بدل رہی ہے؟کتنے خاصہ داروں اور ایف سی کے جوانوں کو نہایت سفاکی سے ہلاک کر دیا گیا․․․ بہت سوں کے گلے کند چاقووٴں سے کاٹے گئے اور ان کی ویڈیوز بنا کر انٹر نیٹ پر ڈالی گئیں تاکہ دنیا کو”عظیم مجاہدین “ کے کارناموں پر کسی شبے کی گنجائش نہ رہ جائے ۔ ان سنگدل قاتلوں کے ہاتھوں پاک فوج کو پانچ ہزار کے قریب ہلاکتیں برداشت کرنا پڑیں(اور یہ روس کی نہیں، پاکستان کی فوج تھی) لیکن ایک مذہبی جماعت کے رہنما کو اتنی دیر بعد، اور بھی بہت نرم الفاظ ․․․ ناقابل ِ قبول․․․ میں مذمت کی توفیق ہوئی۔ آج کی پاکستانی قیادت پر مفاہمت کا جنون طاری ہے اور چاہے اس کی ہلکی سی جھلک کیوں نہ دکھائی دے، ہم فرط ِ مسرت سے سرشار ہوجائیں گے۔ جہاں تک سید منور حسن کا تعلق ہے تو ان کی طرف سے طالبان کی ان نرم الفا ظ میں مذمت حیران کن ہی نہیں، بہت” کافی“ بھی ہے کیونکہ ہماری حکمران جماعت اور عمران خان کو تو اس کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔
یہ صورت ِ حال ہمارے مسائل پر بڑی حدتک روشنی ڈالتی ہے۔ ہم اسلام آباد جیسے ”خوبصورت شہر“ میں بھی سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے اہل نہیں ہیں، شہر وں میں ٹرانسپورٹ کی سہولت ہمارے لئے راکٹ سائنس ہے، ریلوے کا کباڑا ہو چکا ہے لیکن ہماری ترجیح چکن انڈسٹری کو ترقی دینا صرف اس لئے ہے کہ حکمران خاندان کے کچھ نوجوان لڑکے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ بلاجھجھک یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کامسئلہ ہماری پہنچ سے باہر ہے۔ کاش ہم بھی دہشت گردوں کی پہنچ سے باہر ہوتے!
حالیہ اے پی سی میں ایک بات کا ایمانداری سے اعتراف کر لیا گیا کہ ہم مجموعی طور پر طالبان کے سامنے بے بس ہیں۔ ہم نے نہایت خلوص ِ نیت سے گھٹنے ٹیکتے ہوئے طالبان پر ”اخلاقی ذمہ داری “ ڈال دی ہے کہ وہ ہماری گریہ زاری کو شرف ِ قبولیت بخشتے ہوئے ہمیں جان کی امان دیں․․․ اس بے بسی کا مظاہرہ کسی اورنے نہیں ، دنیا ئے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کی طرف سے کیا گیا۔ ایک حوالے سے نواز شریف ٹھیک کہتے ہیں کہ ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ترکی سے مشورہ لینے کی ضرورت ہے۔ بالکل درست، کیونکہ ہم تو بیرونی مدد کے بغیر یہ بھی نہیں سوچ سکتے کہ ہمیں مسئلہ کیا ہے۔ جب یہ حال ہو تو پھر اس بات کا شکوہ عبث ہے کہ آگ موم کو کیوں پگھلا دیتی ہے۔ ایمانداری کی بات ہے ، اس میں آگ کو مورد ِ الزام ٹھہرانا زیادتی ہوگی۔ اگر ہم یونہی موم بنے ان آتش مزاج طالبان کے سامنے ہوں گے تو پھر وہ ہمارے ساتھ جو چاہیں گے کریں گے۔ اس وقت ہم احمقوں کا ایک ٹولہ دکھائی دیتے ہیں اور یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ جب آسمانی طاقتوں نے کسی کو تباہ کرنا ہو تو اُن کا احمق بنا دیا جاتا ہے۔
اے پی سی کے بعد چھوڑا جانے والاکاغذی راکٹ ہماری قومی حماقت کی مزید داستان رقم کرتا ہے۔ اس سے یاد آتا ہے کہ علامہ اقبال نے بھی سخت غلطی کی ہم ممولوں کو شاہین بننے کا درس دے ڈالا، ہمیں خودی کے رموز سکھانے کی کوشش کی تاکہ ہم عزت ِ نفس سے جی سکیں جبکہ ہم ”یہ حال میرا بوٹ کی ٹوہ چاہتا ہوں میں“ کی عملی تصویر بنے افتادگی کی آخری حد کو اپنی فکری معراج سمجھنے والی قوم نکلے۔ نہ ہم خوددار ہیں اور نہ ہی شاہین، ہم ایک شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دے کر تحفظ کا احساس پیداکرنے والی قوم ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کے ساتھ امن کی بات کرنے والوں کے پاس بھی ایک نکتہ ہے․․․ یقیناً دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی سنڈے پکنک نہیں ہے۔ زیادہ دور نہ جائیں، اپنے ہمسائے میں دیکھیں کہ کس طرح بھارت نے سکھ علیحدگی پسندوں کو دبا دیا اور پھر سختی کرتے ہوئے کشمیر کی تحریک کو کچل دیا کیونکہ سکھوں اور کشمیریوں کی تحریکوں کے حوالے سے ہندوستان میں مکمل طور پر یکسوئی پائی جاتی تھی۔ بھارتی ریاست اور عوام جانتے تھے کہ ان معاملات کو سختی سے ہی دبایا جا سکتا ہے، چنانچہ اُنھوں نے دوٹوک رویہ اپناتے ہوئے سکھوں اور کشمیریوں کو کسی موقع پرمذاکرات کی دعوت نہ دی۔ ہاں، جب ان تحریکوں کے خلاف فوجی بالا دستی حاصل ہوگئی تو پھر لہجہ نرم کیا گیا․․․ اس سے پہلے نہیں۔ پھر سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے خلاف کیسی ہولناک جنگ لڑی؟سری لنکا کو فتح اُس وقت نصیب ہوئی جب اُنھوں نے مفاہمت کے دروازے بند کر دیے ۔ اس جنگ میں بہت ظلم ہوا لیکن پھر زندگی موت کے کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔ امریکی خانہ جنگی غلاموں کی آزادی کے لئے نہیں تھی، یہ یونین کو اکٹھا رکھنے کے لئے تھی اور اس جنگ میں قیادت کرنے والا کوئی جنگجو سردار نہیں بلکہ ابراہیم لنکن تھا۔ وہ ایک نہایت خونی جنگ تھی لیکن اُنھوں نے فیڈریشن کے تحفظ کے لئے ہر حد تک جانے کا عہد کر رکھا تھا اور ایسا کر کے دکھایا۔ جنگی فتوحات کے بعد ہی قیام ِ امن ممکن ہوا۔ زندہ قوموں کی تاریخ انہی خطوط پر رقم ہے، دوسری طرف پاکستان کے موجودہ حکمران ، چاہے وہ سیاسی ہوں یا فوجی، شاید ایک نئی قسم کی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے مورچے فتح کرتے ہوئے ریاست کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اگر وہ اس کاوش میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک فقید المثال واقعہ ہوگا ، کیونکہ اس سے پہلے تو قوموں کی زندگی میں ایسا دیکھنے میں نہیںآ یا ہے کہ کسی ریاست نے اپنے وجود کے دشمنوں نے مفاہمت کرکے اپنا تحفظ کر لیا ہو۔ اس رویے کے ساتھ مستقبل کی جھلک دیکھنا زیادہ دشوار نہیں ہے۔ طبقہ ٴ اشرافیہ ملک میں اور بیرون ملک جائیدادیں خرید رہا ہے جبکہ دہشت گردی مہیب اژدھا کی طرح منہ پھاڑے عوام کا انتظار کررہی ہے․․․ اور یہ وہ اس سرزمین تک آن پہنچے ہیں جہاں پیچھے دیکھنے والا پتھر کا بن جاتا ہے۔ اب ان کے لئے کون مسیحا آئے گا؟اب قاتل ہی نجات دہندہ ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے کوئی جائے مفر باقی نہیں ہے ۔
ہم کسی دشمن کے خلاف جنگ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے اندر عزم کا فقدان ہے۔ ہمارے دفاعی ادارے پراپرٹی کا کاروبار کرنے کی مہارت رکھتے ہیں جبکہ ہمارے سیاسی حکمران یکے بعد دیگر ے فیکٹریاں لگانے کی․․․ تازہ ترین مہارت چکن بزنس کی ہے جبکہ باقی قوم کا اکمل ترین فن نعرے لگانا ہے۔ یہ قوم مشکل فیصلوں کے لئے بنی ہی نہیں ہے۔ ایک بات طے ہے کہ ہم ”نہ جائے رفتن ، نہ پائے ماندن “ کی الجھن کا شکار ہیں۔ ہمارے سامنے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ دشمن سامنے اور واضح ہے اور ہماری بہترین حکمت ِ عملی آنکھیں بند کرنا ہے۔ ہم نے بندوق کی بیرل میں پھولوں کا گلدستہ سجا لیا ہے، دوسری طرف طالبان ہتھیاروں کی آتشیں زبان میں ہی اپنے فن ِ ظرافت کا عملی اظہار کرتے ہیں آئی ای ڈی ان کا سنگین مذاق ہی تو ہوتا ہے۔ اس فکری بانجھ پن سے نجات پانے کیلئے ہمیں از سر ِ نواحیا درکار ہے لیکن کیا ہم کسی نعرہ ِ مستانہ کا حوصلہ رکھتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *