تحریک انصاف کے لئے ایک فیصلہ کن موڑ

arif mustafa

سید عارف مصطفےٰ

خدارا کچھ بھی کرو، اپنے معاشرے کے گنے چنے فرشتہ صفت لوگوں کی یوں تذلیل نہ کرو۔۔۔ چار دن سے فیس بک اور سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے اور پی ٹی آئی کے چند ’کن ٹٹے‘ اور بدزبان چھٹ بھیئے اپنے روایتی انداز میں اس بار منہ بھر بھر کر جسٹس وجیہ الدین احمد کو صلواتیں سنا رہے ہیں۔۔۔ ایسی ایسی بیہودہ باتوں اور الزامات کا شور مچادیا گیا ہے کہ گویا ان سے برا آدمی اب روئے زمین پہ کوئی دوسرا نہیں ۔ وجہ صرف یہ کہ انہوں نے پارٹی کے الیکشن میں دھاندلی کرنے والوں کو بے نقاب کیوں کرڈالا۔ جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل غلطی تو خود چیئرمیں عمران خان سے ہوئی ہے کہ انہوں نے اس قدر ایماندار اور جرات مند شخص کو الیکشن ٹریبونل کا سربراہ بنایا ہی کیوں تھا ۔ کسی ایلے میلے خوشامدی کو یہ ٹاسک سونپا ہوتا تو وہ جہانگیر ترین سے خالی کاغذ لیکر اس پہ انگوٹھا لگا کر کب کا دے بھی چکا ہوتا۔ پھر فیصلے کے نام پہ جو تحریر وہ موصوف چاہتے وہ خود لکھ کر معاملے کو ٹائیں ٹائیں فش کرچکے ہوتے۔ لیکن یہاں تو سب کھیل بکھیڑا ہو گیا۔ نہ کسی بڑے کو خاطر میں لایا گیا اور نہ ہی کوئی دباؤ کارگر ہوا ۔ جس جس نے انتخابی بدکاریاں کی تھیں ،بس اسی کا کالا منہ دنیا کے سامنے کردیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرکے اس الیکشن ٹریبونل نے کوئی غلطی کی ہے کہ جس پہ اسکا یوں مضحکہ اڑایا جارہاہے اور کیا عمران خان نے صرف دکھاوے کے لئے ہی اس ٹریبونل کو قائم کیا تھا اور انکی منشا حقیقی چھان بین اور ذمہ داروں کا تعین تھی ہی نہیں۔ کیا وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے۔
اسی الیکشن ٹریبونل کے ایک معزز رکن یوسف گبول صاحب کا ڈان نیوز چینل پہ انٹرویو دیکھا تو جیسے ندامت سے زمیں میں گڑ کر رہ گیا۔ ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی ہے کیونکہ وہ جسٹس وجیہ الدین کی سربراہی میں الیکشن ٹریبونل کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور چونکہ کسی کے پے رول پہ نہیں چنانچہ محض اصولوں پہ ہی کھڑے ہیں ۔ اس ٹریبونل کو ڈیڑھ برس قبل عمران خان نے قائم کیا تھا اور اس ٹریبونل کو یہ کام سونپے تھے
1۔ یہ تحقیق کرے کہ آیا پارٹی کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں
2۔ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کس کس نے کی ہے
؂ 3۔ دھاندلی کرنے والوں کو کیا سزا دی جائے۔۔۔
اس ٹریبونل نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں سارے ملک سے انٹرا پارٹی الیکشن کے ضمن میں ملنے والی شکایات کی نہایت جانفشانی سے تفصیلی چھان بین کی اور اسکے لئے سو کے لگ بھگ سماعتیں بھی کیں۔ پھر ابتدائی فیصلہ دیا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ پورے ملک میں ان پارٹی الیکشنز میں زبردست دھاندلی ہوئی ہے اور حکم دیا کہ اس الیکشن میں زبردست دھاندلی کی وجہ سے سارے عہدیداران سبکدوش کرکے عبوری سیٹ اپ لایا جائے جو نئے سرے سے الیکشن کا انعقاد کرے۔ بظاہر تو یہ ہوا کہ ملک بھر کے عہدیداران فارغ کردیئے گئے لیکن عبوری سیٹ اپ کے نام پہ پھر انہی بدعنوانوں کو یہ ذمہ داریاں سونپ دی گئیں جس سے یہ ساری مشق ہی برباد ہوکر رہ گئی۔ رہا الیکشن کرانے کا مطالبہ ،،تو پہلے تو 5 ماہ ٹال مٹول میں گزار دیئے پھر جب اس ٹریبونل نے مزید 3 ماہ دیئے مگر ٹیسٹ کے طور پہ پہلے ایک ماہ میں ووٹر لسٹ مکمل کرنے کا پابند کیااور پھر جب ایک ماہ میں یہ کام شروع بھی نہیں کیا گیا تو ٹریبونل نے چیئرمین کو صورتحال کی وضاحت کیلیئے24 اپریل کو طلب کرلیا تب موصوف نے اس تاریخ سے 3 دن پہلے ہی اس ٹریبونل کو ختم کرنے کا یہ کہ کر اعلان کردیا کہ اس نے اپنا کام کرلیا ہے
ایسا کرتے ہوئے خان صاحب کے ذہن میں شاید یہ رہا ہوگا کہ 70 سال سے زائد عمر کے وجیہ الدین صاحب ان کے سامنے کھڑے نہیبں رہ پائیں گے جیسا کہ ان کی پارٹی میں یہی دستور چلا آرہا ہے کہ کسی کو انکے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ہے لیکن وہ تو ڈٹ گئے اور خان کے فرمان کو یہ 3 باتیں کہ کر اڑا کے رکھدیا کہ
1۔ کسی بھی نوعیت کے ٹریبونل کو بنانے کے بعد اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا کہ جبتک وہ اپنے ذمے لگایا کام مکمل نہ کرلے
2۔ کسی ٹریبونل نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے یا نہیں، یہ کوئی اور بتانے کا مجاز نہیں اسکا تعین خود ٹریبونل ہی کرتا ہے
3۔ چونکہ ٹریبونل نے اپنے حاصل اختیارات کے تحت پارٹی کے سارے عہدیدارسبکدوش کر دیئے تھے اور پھر عمران خان کو بطور چیئرمین بحال کردیا تھا (تاکہ وہ ٹریبونل کے فیصلے نافذ کرسکیں ) تو اس لحاظ سے اب چیئرمین کے منصب کا خالق ٹریبونل ہے اور یہ آفاقی اصول ہے کہ کوئی مخلوق اپنے خالق کو ختم نہیں کرسکتی
جسٹس صاحب کے اس طرح ٹریبونل کے خاتمے کو قبول کرنے سے انکارکرنے نے پارٹی میں بہت بڑی تھرتھلی مچادی ۔ پارٹی کے کچھ بھونپو اس معاملے کو میڈیا پہ لے گئے لیکن اینکروں کے سخت سوالات کی تاب نہ لاسکے۔۔ تب گھبرا کر پارٹی کی جانب سے ٹریبونل کو باقاعدہ خط لکھا گیا کہ جس میں استدعا کی گئی کہ اس کام کیلیئے 3 ہفتے کا وقت مزید دیا جائے کیونکہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشیئل کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور وہاں بہت مصروفیت ہوگئی ہے۔ جس پہ ٹریبونل نے اظہار تعاون کے طور پہ 3 ہفتے کیلیئے چپ سادھ لی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 21 اپریل کو چیئرمین نے ٹریبونل ختم کردیا تھا تو یہ 3 ہفتوں کا وقت اس ٹریبونل سے کیوں مانگا گیا تھا؟
تاہم اب جبکہ ٹریبونل نے دوسرے مرحلے میں یہ فیصلہ بھی دیدیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے بڑے ذمہ داران کون لوگ تھے تو اچانک پھر وہی گھسا پٹا بیہودہ راگ الاپا جارہا ہے کہ یہ ٹریبونل تو وجود ہی نہیں رکھتا اسے تو ختم کیا جاچکا ہے۔ اس عجیب و غریب اور اس فسوسناک صورتحال نے پی ٹی آئی کے ان نظریاتی دوستوں و مخلص کارکنان کو تڑپا کے رکھدیا ہے کہ جو عمران خان کو مثبت تبدیلی کی روشن علامت سمجھ کر آنکھیں بند کرکے انکے پیچھے چل پڑے تھے ، ان میں سے بیشتر کو نہ تو جہانگیر ترین اور اعظم سواتی سے کوئی سروکار تھا اور نہ انہیں شاہ محود قریشی و خورشید قصوری کی شکل یہاں کھینچ لائی تھی۔ وہ تو صرف اور صرف عمران کی محبت کی دیوانگی میں مبتلا ہوکر پی ٹی آئی کا حصہ بنے تھے جبکہ زیادہ تر تو مشرف کی ان باقیات اور پیپلزپارٹی کی ملتانی ذریات سے بے پناہ نفرت کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں ۔
ان مخلص کارکنوں کی آنکھیں بھی تلخ حقائق کے گرم سورج نے کھولدی ہیں اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ جسٹس صاحب کا ساتھ نہ دیا گیا تو پارٹی سے کبھی بدعنوانوں کا راج ختم نہیں ہوسکے گا اور یہ مرحلہ دراصل ایک اہم موڑ ہے۔ اسی سے پارٹی یا تو توانا و انقلابی جماعت بن کے ابھرے گی ورنہ کمھلا کر پرانی روایتی سیاسی کیاری کا ایک سوکھا سا پودا بن کر رہ جائے گی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اب خود عمران خان انہی مفاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال بنکر اصولوں کا خون کرنے پہ کیوں تل گئے ہیں اور اگر تحریک انصاف سے انصاف ہی کو نکال دیا گیا تو عوام کے ہاتھ کیا لگے گا۔ وہی لمبے لمبے مصنوعی بھاشن اور وعدوں کا راشن۔ خان صاحب سنبھل جائیں، آپ اگر جسٹس صاحب جیسے عظیم اور دیانتدار انسان کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کریں گے تو عوام بھی آپ کو اپنی نظروں سے گرا دیں گے اور پھر آپ کے پلے رہ کیا جانا ہے۔ اس کے بعد سیف اللہ نیازی، جہانگیر ترین، نادر لغاری اور علیم خان جیسے لوگ آپ رہی سہی ساکھ بھی بجا دینی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *