اصلاحات کا راستہ

PakistanConstitution1973یہ افوسناک حقیقت ہے کہ مذہب کے نام پر بنائے گئے وہ قوانین جو کھلے عام استحصال پر مبنی ہیں لیکن نظر ثانی یا پھر انہیں بدلنا بہت مشکل ہے۔

جنرل ضیاالحق جو اس طرح کے قوانین کے خالق تھے، اُن کی موت کو چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود بھی، آمریت کے تاریک دور میں ملک پر تھوپے گئے وہ تمام تر قوانین بدستور مستعمل ہیں۔

یہ سچ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ، قانون کی کتابوں کی حد تک، ایسے قوانین کی منسوخی کی خاطر کچھ قابلِ ذکر کامیابیاں تو حاصل کی گئیں ہیں، جیسا حدود آرڈیننس مجریہ اُنیّس سو اُناسی میں زنابالجبر کی شق اور اسے تعزیراتِ پاکستان میں دوبارہ شامل کرنا ہے لیکن پھر بھی بڑے چیلنج ابھی موجود ہیں۔

 شدید تحفظات کے حامل انہی قوانین میں توہینِ مذہب و رسالت یا تعزیراتِ پاکستان کی شِق دوسوپچانوے ۔ سی بھی ایک ہے جو قانون کی استحصالی صورت ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بدھ کو اُس وقت ایک مضبوط پیغام دیا جب اس نے قرارداد کے ایک مسودے کی منظوری دی، جس میں دیگر اور تجاویز کے ساتھ ساتھ، توہینِ مذہب و رسالت کا جھوٹا الزام لگانے کے ذمہ دار یا ذمہ داروں کے واسطے سزائے موت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اگرچہ یہ اخبار موت کی سزادینے کے خلاف موقف رکھتا ہے لیکن درحقیقت اس وقت توہینِ مذہب و رسالت کے غلط استعمال کو روکنے کی خاطر، تجویز اس لیے اہم ہے کہ یہ خود ایسی کونسل کی طرف سے سامنے آئی جس کے ارکان میں جیّد علمائے کرام شامل ہیں۔

قبل ازیں، اس قانون میں تبدیلی کی ضرورت کو دائیں بازو کے سخت گیر عناصر کی شدید مزاحمت کے خطرات، سڑکوں پر اُن کے جلاؤ گھیراؤ اور پُرتشدد احتجاج کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس پر پارلیمانی نظر ثانی کا تصور ہی فوت ہوجاتا تھا۔

پھر بھی، حقیقت یہ ہے کہ جیسا کم فہمی کے سبب یا پھر زمینوں پر قبضے کا معاملہ طے کرنے یا اقلیتی گروہوں کو ہدف بنانے کی خاطر، متعدد مثالوں میں توہینِ مذہب و رسالت کے الزامات غلط طور پر لگائے گئے تھے۔

تکنیکی لحاظ سے یہ قانون تمام مذاہب کی توہین روکنے کی خاطر ہے لیکن اکثر صرف اکثریت کے اُکسانے پر ہی حرکت میں آتا  ہے اور وہ بھی زیادہ ترغلط الزامات کی صورت میں۔

اس کی ایک مثال سن اُنیّس نوّے میں سلامت مسیح کے خلاف بنایا گیا توہینِ مذہب کا مقدمہ بھی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک مسجد کی دیوار پر مبینہ گستاخانہ کلمات لکھنے کے مرتکب ٹھہرایا گیا لیکن بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اس لیے بری کردیا کہ وہ تو لکھنا پڑنا ہی نہیں جانتا تھا۔

مزیدِ برآں، موجود قانون، اُس مقام پر جہاں توہینِ مذہب و رسالت کا کوئی واقعہ پیش آنے کا الزام ہو، وہاں جمع ہونے والے مشتعل ہجوم کو بھی اخلاق کے نام پر تحفظ فراہم کرتا ہے۔

توہین ِمذہب و رسالت قانون کی آڑ میں ہونے والی ناانصافیوں کو روکنے کی جانب پہلا قدم یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے، اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر، اس کے تحت بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا سلسلہ روکنے کو یقینی بنایا جائے۔

  بہر حال، اس تناظر میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *