مشرف پر مقدمے کا انجام کیا ہوگا؟

Najam Sethi

(نجم سیٹھی)

پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے دلیرانہ قدم اٹھاتے ہوئے جنرل (ر) مشرف پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کا وعدہ، جو اُنھوں نے انتخابات کے دوران کیا تھا، پورا کردیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس ہفتے کے آغاز میں پارلیمنٹ میں اس فیصلے کا اعلان کیا تھا اور اب اُن کی وزارتِ داخلہ ایک رپورٹ تیار کر رہی ہے جس کے تحت جنرل مشرف کے خلاف ایف آئی آرکٹوائی جائے گی۔
اس کیس میں کچھ باتیں الجھی ہوئی ہیں۔ 1999 میں نواز حکومت کاتختہ الٹنے کی پاداش میں پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ نہیں چل سکتا کیونکہ ان کے اقدامات کی سپریم کورٹ ، جس کے بنچ میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی شامل تھے، نے پی سی او کے تحت توثیق کر دی تھی۔ اس کے بعد ’’مشرف پارلیمنٹ ‘‘ نے سترویں ترمیم کے ذریعے اس کی منظوری دے دی تھی۔ سابقہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ اٹھارویں آئینی ترمیم پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان کا تو تحفظ کرتی ہے لیکن مشرف کے شب خون پر خاموش ہے۔ دراصل وہ تمام سیاست دان ،جنھوں نے جنرل مشرف کے اقدام کی حمایت کی تھی، آج اپنے سابقہ ’’باس اور مہربان‘‘ کے خلاف آرٹیکل چھ کے اطلاق کے لیے شور مچارہے ہیں۔
ایک اور بات اہم ہے کہ جولائی 2011 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے معاملے کو تبدیل کر دیا۔ اس نے 1999 کے اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جنرل مشرف کو صرف تین نومبر 2007 کے اقدام، جب ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو نظر بند کر دیا گیا تھا، پر موردِ الزام ٹھہرایا ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سپریم کورٹ تین نومبر کے اقدام میں شریک دیگر افراد: وزیرِ اعظم، چاروں صوبائی گورنرز، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے چیفس، وائس چیف آف آرمی سٹاف اور کارپس کمانڈرز کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتی۔ اس کا مطلب ہے کہ پی ایم ایل (ن) کی حکومت صرف جنرل مشرف پر تین نومبر کے اقدام، نہ کہ 1999 کے شب خون ، کے حوالے سے مقدمہ درج کرائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جن جج حضرات نے 1999 کے اقدام کی توثیق کی تھی اور جنھوں نے 2007 کے اقدام جو جائز قرار دیا تھا ، کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں ہوگی۔ اسی طرح 1999 اور2007 کے اقدامات میں شریک اور معاون سول اور فوجی افسران سے بھی کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اس صورتِ حال کو صرف ایک شخص ، جب کہ اسی جرم میں بہت سے دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی ثبوت موجود ہے، کو خود ساختہ قانونی توجیہہ کے ذریعے سزا دینے کی نادر مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے یقیناًقانون کو استعمال کرتے ہوئے قانون کا مذاق اُڑانے کے مترادف سمجھا جا ئے گا ۔
پی ایم ایل (ن) کے سامنے مسلۂ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے دوٹوک فیصلے کے بعد اس کے پاس اب کوئی آپشن موجود نہیں رہا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا یہ حکم کہ دیگر سول اور دفاعی افسران کو چھوڑتے ہوئے صرف جنرل مشرف کے خلاف کاروائی کی جائے، اس بات کا تاثر واضح کرتا ہے کہ سپریم کورٹ صرف جنرل مشرف کو ہی سزا دینا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ سول حکومت غداری کا مقدمہ اس لیے قائم کررہی ہے کہ اسے عدالت کی طرف سے ایسا کرنے کا حکم ملا ہے۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ مشرف صاحب کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا ہے ؟
نہیں ، ایسی بات نہیں ہے۔ بہت سی باتیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ ایک ایسا ٹرائل ہونے جارہا ہے جس کا شاید ہی کوئی فیصلہ سنایا جا سکے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فوج اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ اس کے سابقہ چیف کو پھانسی کی سزا سنائی جائے۔ بہت سی مثالیں سامنے ہیں کہ اس نے اپنے سابقہ چیفس کو توہین عدالت جیسے مقدمات میں بھی ملوث کرنے کی اجازت نہیں دی۔اس ضمن میں جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کی مثال سامنے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فوج نے سول حکومتوں کو کبھی اجازت نہیں دی ہے کہ وہ اس کے ریٹائرڈ افسران کو کرپشن یا اسی طرح کے دیگرجرائم کے الزامات لگاکر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔ تیسری بات یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے الزام میں جنرل مشرف کو نامزد کرنا اور پھر اُسی درخواست گزار کی طرف سے اُن کا نام خارج کرنے کی استدعاکرنا بہت کچھ سمجھا جاتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ موجود چیف جسٹس آف پاکستان کی ریٹارمنٹ سے بھی جنرل مشرف کے خلاف چلنے مقدمہ متاثر ہوگا۔ پانچویں ، یہ کہ سعودی حکمران ، جنھوں نے 2000 میں نواز شریف کو پرویز مشرف سے بچانے کے لیے کردار ادا کیا تھا، اب وہ پرویز مشرف کو نواز شریف سے بچانے کے لیے ویسا ہی کردار ادا کریں گے۔ یہ بات طے ہے کہ نواز شریف سعودی عرب کی خواہشات کونظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ سعودی بھائیوں کے ہماری فوج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں کیونکہ پاک فوج گلف میں کئی حوالوں سے سعودی عرب اور دیگر ریاستوں کے دفاع میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آئی ایس آئی پر 1990 کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کا الزام لگا اوریہ کیس تقریباً دو عشروں تک التوا کا شکار رہا۔ جب آخرکار اس کا فیصلہ ہوا تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑا؟ اسی طرح جنرل مشرف ٹرائل بھی شروع ہو گا ، پھر سرد خانے میں چلا جائے گا، اسی دوران اُنہیں کسی نہ کسی بہانے سے ملک چھوڑ جانے کی اجازت بھی مل جائے گی۔ اس طرح وہ زندگی کے باقی دن، جیسے تمام آمر حکمران کرتے ہیں، کسی اور ملک میں گزار لیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *