محبوب کا چناؤ

Yasir Pirzadaآج کل کی دنیا میں رہنے کے کچھ ایسے عجیب و غریب فائدے ہیں جن کا پہلے کوئی تصور بھی نہیں تھا،انٹرنیٹ کی اس دنیا نے رسم و رواج سے لے کر رہن سہن تک اور میل ملاپ سے لے کر ادب و آداب تک سب کچھ بدل ڈالا ہے ،شوہر ڈھونڈنے سے لے کر واشنگ مشین خریدنے تک سب کچھ آن لائن ہے ۔آج اگر آپ تیس ڈالر کا موبائل فون بھی خریدیں تو اس کے معیار اور قیمت کے بارے میں ہزاروں تبصرے انٹرنیٹ پر مل جائیں گے۔امریکہ اور یورپ وغیرہ میں توصارفین کی سہولت کے لئے بے شمار رسالے نکلتے ہیں جن میں ہر قسم کی پراڈکٹ کے بارے میں ایسے مفصل اور مفید تبصرے شائع کئے جاتے ہیں جنہیں پڑھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ کون سی پراڈکٹ قیمت ،معیار اور گارنٹی کے حساب سے بہترین ہے۔ لیکن زندگی میں مصنوعات کے چناؤ سے زیادہ اہم بات جیون ساتھی (اور باہر کے ممالک میں صرف ساتھی) کا چناؤ ہے اور یہ چناؤ کرتے وقت ضروری ہے کہ آپ کو اس شخص کے بارے میں بھی ایسی ہی سچی معلومات دستیاب ہوں جو موبائل فون خریدتے وقت ہوتی ہیں ۔چونکہ ایسی کوئی ویب سائٹ فی الحال موجود نہیں ،لہٰذایہ فدوی ایک ایسی ویب سائٹ کا نمونہ یہاں پیش کرنا چاہتا ہے جو مستقبل میں لوگوں کی زندگیاں سہل بنانے میں معاون ثابت ہوگی ۔کسی بھی ریلیشن شپ میں شامل ہونے سے پہلے اگر لوگ اپنے ممکنہ جیون ساتھی ،محبوب یا دوست کا چناؤ کرتے وقت اس کے بارے میں جاننا چاہیں تو اس قسم کی مقامی ویب سائٹ پر انہیں ممکنہ ”امیدواروں “کی بابت کچھ ایسی معلومات فراہم ہونی چاہئیں:
1۔ جانی : اول درجے کا فلرٹ اور مکار ہے ،بے حد لچھے دار گفتگو کرتا ہے،پہلی ملاقات میں ہی آپ پر فدا ہونے کی ایسی اداکاری کرے گا کہ حقیقت کا گمان ہوگا ،شکل و صورت اور بول چال کا اچھا ہے اس لئے کسی پارٹی میں ساتھ لے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں، مختصر مدت کے تعلق کے لئے بہترین ،سنجیدہ اور طویل مدت کے تعلق کے لئے ناکارہ ۔اوور آل ریٹنگ 6.5۔
2۔شہریار: بے حد سمارٹ اورذہین،جدی پشتی رئیس ،کھلے دل سے پیسے خرچتا ہے ،فلرٹ بھی نہیں ہے، ایک آئیڈیل نوجوان ہو سکتا تھا بشرطیکہ اس کی پہلے سے تین بیویاں نہ ہوتیں ۔تیسری یا چوتھی ملاقات میں شادی کی پیشکش کر دیتا ہے اور ایسے میں پہلی تین بیویوں کے فون مسلسل بج رہے ہوتے ہیں ،کسی بھی قیمت پرشادی کی خواہش مند خواتین کے لئے برا آپشن نہیں ہے ،پہلی تین بیویوں سے پانچ بچے ہیں، اوور آل ریٹنگ 7۔
3۔شفیق: جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ،باپ کی عمر کا یہ ”نوجوان “بے حد شفیق اور اب تک ”کنوارہ“ ہے ۔عمر پچاس کے لگ بھگ ،چالیس بتاتا ہے اور ساٹھ کا لگتا ہے ۔اکبری منڈی میں اچھا خاصا کاروبار ہے ،بزنس مائنڈڈ ہے اس لئے پہلی ہی ملاقات میں آپ کو cost benefit analysisسمجھائے گا۔ کنجوس نہیں ہے پر حرکتیں کنجوسوں والی ہیں ،آئس کریم بھی لے کر دے گا تو بتائے گا کتنے کی آئی۔شادی کا خواہش مند ہے پر جو راضی ہو جائے اس سے شادی نہیں کرتا اور جو راضی نہ ہو اسے تب تک مناتا ہے جب تک وہ راضی نہ ہو جائے ۔اوور آل ریٹنگ 5.5۔
4۔ٹونی: سستا ،قابل اعتماد ،کفایت شعار اورقبول صورت …یعنی اکانومی کلاس۔ایک موٹر سائیکل کا مالک ،ڈیٹ پرجائیں تو برگر کے ساتھ بوتل بھی پلاتا ہے اور بعد میں پان بھی لے کر دیتا ہے ۔البتہ کسی پارک یا ویرانے میں کوئی پولیس والا روک لے تو گھگھی بند ھ جاتی ہے ،اس وقت اپنے ساتھ بیٹھی خاتون کو باجی بنا کر جان چھڑواتا ہے ۔کسی اپر کلاس کی لڑکی کی تلاش میں ہے جس سے شادی کرکے گھر بسا لے،تاہم ابھی تک اپنی کلاس سے بھی کوئی ایسی نہیں ملی جو دوسری ملاقات کے لئے بھی راضی ہوئی ہو۔اوور آل ریٹنگ 5۔
5۔رمیض:قد چھ فٹ ،چوڑا چکلا سینہ،بڑی بڑی کالی آنکھیں ،گھنگریالے بال ،شاعرانہ مزاج ،گانے کا شوقین …اور اب تک کنوارہ…وجہ خود غرضی اور کنجوسی ۔دنیا میں اسے صرف ایک شخص سے محبت ہے اور وہ ہے اس کا اپنا وجود۔انتہا کا کنجوس ،”میرے پاس چینج نہیں ہے “ کہہ کر لڑکیوں کے پیسے خرچ کرواتا ہے۔ دو ہفتے کے لئے آئیڈیل اس کے بعد عذاب۔ اسے ڈیوڈرنٹ کی بھی سخت ضرورت ہے ۔اوور آل ریٹنگ 7۔
6۔بوبی: اصل نام بشیر احمد ہے ،یہ ایک ایسا لڑکا ہے جو بوقت ضرورت لڑکی بھی بن جاتا ہے ،اس کے پاس چھ بوائے فرینڈز، تین گرل فرینڈز اور دس سم کارڈ ہیں۔یہ لڑکیوں کی آواز میں بات کرنے کا ماہر ہے، روزانہ رات کو لڑکی بن کر اپنے بوائے فرینڈز سے ہزار پندرہ سو کا بیلنس اینٹھتا ہے اور پھر وہی بیلنس اپنی گرل فرینڈز کو بھیج دیتا ہے ۔ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ جسے وہ لڑکی سمجھتا رہا ، وہ اپنے علاقے کا ”بوبی“ نکلا۔آج تک حقیقت میں کسی لڑکی سے دو بدو بات کرنے کا موقع نصیب نہیں ہوا،شکل معمولی ،آوارہ اوور نکھٹو۔اوور آل ریٹنگ 2.5۔
7۔نعیم: جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ،بے حد شریف لڑکا ہے پر اتنا بھی شریف نہیں کہ یہاں اس کا ریویو ہی نہ کیا جا سکے ۔ڈیٹ پر ہمیشہ شلوار کرتا پہن کر آتا ہے ،نظر کمزور ہے اس لئے موٹے شیشوں کی عینک لگاتا ہے ،دیکھنے میں بھی کمزورلگتا ہے ،راستے میں جا بجا حکیموں کے اشتہارات بغور پڑھتا ہے ،گاڑی میں ایف ایم کا وہ ریڈیو سٹیشن ٹیون کرتا ہے جہاں کسی حکیم کا اشتہار نشر ہو رہا ہو۔قبول صورت ہے ،پیسے خرچنے میں تامل نہیں کرتا،اب تک کافی لڑکیوں کو آزما چکا ہے مگر بقول اس کی والدہ”ہر لڑکی میرے شریف بیٹے کو جُل دے کر نکل جاتی ہے ۔“اوور آپ ریٹنگ 6۔
یہ محض نمونے کی ویب سائٹ تھی ،خاکسار کو یقین ہے کہ مستقبل میں ایسی ویب سائٹس انٹرنیٹ پر آ جائیں گی جن کی مدد سے لوگ کسی بھی ریلیشن شپ میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جیون ساتھی یا محبوب کے متعلق اچھی طرح چھان پھٹک کر سکیں گے اور ریلیشن شپ پر ہی کیا موقوف،کوئی بھی تجربہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں خوب جان لیں تاکہ کسی بعد میں کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑ ے۔آج کل چونکہ ریاست پاکستان اور طالبان کے مابین بھی اعتماد کی فضا کا فقدان ہے لہٰذا فریقین کو چاہئے کہ اپنی اپنی ویب سائٹس پر سچی رائے زنی کریں ،مثلاً ریاست پاکستان اگر اپنی ویب سائٹ پر طالبان کے بارے میں ریویو کرے تو وہ کچھ اس قسم کا ہوگا : ”طالبان ہمارے اپنے بچے ہیں ،تیغوں کے سائے میں پل کر جواں ہوئے ہیں ،پولیس اور فوج کے جوانوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنا محبوب مشغلہ ہے ،پاکستانی عوام کو خود کش دھماکوں میں اڑانا عین عبادت سمجھتے ہیں لیکن آفٹر آل ہمارے داماد ہیں، ہمارا اثاثہ ہیں ۔اوور آل ریٹنگ 9۔“ادھر طالبان کو بھی چاہئے کہ ریاست پاکستان کا ریویو کرے ،کچھ ایسا ”پاکستانی ریاست اسلام آباد میں کہیں واقع ہے جہاں کفر کا غلبہ ہے ،اس سے زیادہ تبصرے کی ضرورت نہیں ۔اوور آل ریٹنگ 1.5۔“
ٹیل پیس:ہماری وزارت خارجہ گذشتہ چند ہفتوں سے کسی ملا برادر نامی افغان طالبان کی رہائی کی خبریں یوں جاری کر رہی ہے جیسے خاندان میں بڑی پھوپھی جان خبریں جاری کرتی ہیں ۔نہ جانے ان ملا برادر کو کب پکڑا گیا تھا،کس جرم اور قانون کے تحت پکڑا گیا تھا اور اب کس قانون اور وجہ کے تحت رہا کیا جا رہا ہے ؟یوں لگتا ہے جیسے یہ ملا برادر نہیں بلکہ حکومت کے برادر نسبتی ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *