Site icon DUNYA PAKISTAN

فروری کی کونپلیں اور سیاسی اظہار کے چراغ

Share

عزیزانِ گرامی، گزشتہ ہفتے آپ سے ملاقات نہیں ہو پائی۔ اگرچہ ان دنوں ملاقات کی صورت یوں بھی کچھ دگرگوں ہی رہتی ہے۔ پہرے کی چاپ مسلسل کانوں میں گونجتی رہے تو قلم لڑکھڑانے لگتا ہے، نطق میں لکنت چلی آتی ہے۔ آنکھ البتہ سب کہتی ہے۔ اور پھر یہ کہ آپ جیسے ذہین اور حساس دلوں تک رسائی تو بوئے رفاقت کی دین ہے، یہ رشتہ سلامت رہے تو …

ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخِ مہر و وفا / کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست۔ آپ سے دل کی بات کہوں۔

درویش نے صحافت کا آغاز ٹھیک تیس برس پہلے ادارۂ ہٰذا کے انگریزی روزنامے سے کیا تھا۔ 2011ءمیں یہیں اردو کالم لکھنا شروع کیا۔ جن مہربان دوستوں کی شفقت کے طفیل اہلِ وطن سے بات کہنے کا یہ موقع ملا، اُن کا احسان ایسا وقیع ہے کہ آنکھ اٹھانے کا یارا نہیں۔ ادارہ جنگ کے پیشہ ورانہ زاویے ایسے استوار ہیں کہ ماہ و سال کے پیچ و خم میں کبھی شکوے کا زاویہ نہیں نکلا۔

ہماری تاریخ میں لفظ اور قلم کبھی بھی پورے طور پر آزاد نہیں ہو پائے۔ اور صحافتی اداروں پر تو سو طرح کی یورش ہوتی ہے۔ دباؤ کی اَن گنت دیکھی اور اَن دیکھی صورتیں ہوتی ہیں۔

اگر کسی بھی وجہ سے کبھی کوئی تحریر روک لی گئی تو ہمیشہ ان تحریروں کی اشاعت پر تشکر پیشِ نظر رہا جو خطرہ مول لے کر شائع کی گئیں۔

اس دل میں اگر ندامت کا داغ نہیں تو شکوے کا میل بھی نہیں۔ میر تقی میر نے نوے برس کی عمر پائی۔ اورنگ زیب عالمگیر کی آنکھ بند ہونے کے بعد مغل سلطنت میں انحطاط اور انتزاع کی رستاخیز میں میرؔ نے درد و غم جمع کئے۔ دیکھئے! میرؔ نے اپنے عہد کا آشوب کیسے بیان کیا

کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میرؔ

سینہ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا

ایک نوجوان نے نیلسن منڈیلا سے اپنی مشکلات کا ذکر کیا۔ بزرگ مدبر نے ایک جملے میں زندگی کا سمندر سمو دیا۔ ’زندگی میں کسی کو مثالی حالات نہیں ملتے‘۔ مطلب یہ کہ ہم سب کو دن رات کے بڑھتے گھٹتے سایوں ہی میں سفر کرنا ہوتا ہے۔

میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا… ابھی ملکی حالات کا منظر دھواں دھواں ہے۔ آئندہ مہینوں میں بہت سی اکھاڑ پچھاڑ ہونا ہے۔ بہت سے قافلے گھات میں ہیں۔ آئندہ موسمِ خزاں تک شاید کچھ دھند چھٹ جائے، کم از کم یہ تو معلوم ہو سکے گا کہ ہم نے اپنے ارمانوں کو کس مٹی میں بونا ہے۔ بظاہر بحران سیاسی ہے لیکن ذرا سا کھرچا جائے تو خرابی کی جڑیں معیشت میں ہیں۔ اور ہم معیشت پر ایک شفاف مکالمے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اگلے روز ایک گیانی فرما رہے تھے کہ اگر معیشت کے بحران کی وجہ مفادات کا ایسا ٹکراؤ ہو جس میں ایک فریق زور آور بھی ہو اور وسائل کی تقسیم پر قدرت بھی رکھتا ہو تو مکالمے کی مدد سے سمجھوتے کی راہ مسدود ہو جاتی ہے۔ سیاسی عمل میں یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ دلیل سے فریق ثانی کو قائل کیا جائے کہ وسائل کی تقسیم کے ناہموار بندوبست میں بالآخر معیشت کی گاڑی کھائی میں لڑھک جاتی ہے۔

معیشت کی مشکلات کا درست نقشہ پیشِ نظر ہو تو ممکنہ اصلاحات کا امکان کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مشکل یہ ہے کہ ہم نے سیاسی عمل کی ساکھ تباہ کر دی ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے موجود ہوتا ہے لیکن بہبود وطن کے ضمن میں تمام فریقوں کے اخلاص پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔

یہ ممکن نہیں کہ ہم ایک کے بعد ایک فریق کو وطن دشمنی کا طوق پہناتے رہیں اور پھر توقع کریں کہ سیاسی اعتماد کے اجتماعی بحران کو قائم رکھتے ہوئے معاشی بحران حل کر لیا جائے گا۔

تین نکات توجہ چاہتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اٹھارہ ماہ ہونے کو آئے۔ اپریل 2019ءمیں آٹھ ماہ کے بعد معاشی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ اب پھر سے ردوبدل کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ شبر زیدی کی رخصتی ایک اشارہ ہے۔ حکومت کی صفوں میں انتشار اب کوئی راز نہیں۔ حساس منطقوں میں اضطراب کے آثار ہیں۔

منظور پشتین کی گرفتاری سے بیٹھے بٹھائے ہم وطنوں کے ایک اہم اور حساس حصے پر تناؤ کا دائرہ کھینچ دیا گیا ہے۔

یہ روایت ہمارے لئے اجنبی نہیں۔ فروری 1966ءمیں مجیب کے چھ نکات ایک سیاسی موقف تھے۔ ہم نے اگرتلہ سازش کیس کی مدد سے مجیب کا سیاسی حجم اتنا بڑھا دیا کہ معاملات ہاتھ سے نکل گئے۔ فروری 1973ءمیں بلوچستان حکومت کو توڑنے کا جواز اس قدر کمزور تھا کہ بھٹو حکومت کی جمہوری ساکھ منہدم ہو گئی۔ اب ہمیں یہ بتانے سے کیا حاصل کہ افغانستان کے ضمن میں ہم چالیس برس پرانی غلطیوں کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ جب یہ غلطیاں کی جارہی تھیں تو سیاست کالعدم اور سیاستدان پسِ دیوارِ زندان تھے۔ اخبارات پر سنسر شپ عائد تھی۔

ایک معزز خاتون ڈاکٹر سے زیادتی کا واقعہ بلوچستان کی حساس وفاقی اکائی کے دس برس نگل گیا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اگست 2016ء کے بعد اردو بولنے والے ہم وطنوں کے حوالے سے سب اچھا ہے تو یہ درست نہیں۔ صدیق سالک فرماتے تھے کہ ’انتظامی اقدامات کے زخموں پر سیاسی عمل کا مرہم لگایا جاتا ہے‘۔

ریاستی اہل کار سیاسی عمل کی تربیت نہیں رکھتے۔ اسکندر مرزا اور راؤ فرمان سے نصیراللہ بابر تک، ہمارا تجربہ یہی بتاتا ہے۔ پختون ہم وطن اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہمارے جسدِ اجتماعی کا جزو لاینفک ہیں۔ پُرامن سیاسی احتجاج جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ بظاہر اس احتجاج کا دائرہ محدود ہے لیکن بنوں اور قلعہ سیف اللہ کے اجتماعات ٹھوس سیاسی بنیاد کی خبر دیتے ہیں۔ اہل کاروں کی سوچ تو یہی کر سکتی ہے کہ رہنماؤں کی موجودگی میں کارکنوں پر تشدد کیا جائے۔

ذرائع ابلاغ کو حالات و واقعات کی خبر دینے سے روک دیا جائے۔ اس آنکھ مچولی سے معاملات حل نہیں ہوتے، دِلوں کی الجھنیں بڑھتی ہیں۔ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون پر وہاں کے شہریوں کی اخلاقی حمایت تبھی موثر ہو سکے گی جب ہم اپنی زمین پر شہریوں کے آئینی حقوق کی پاسداری کریں گے۔ درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخوں پر فروری کی کونپلیں نمودار ہو رہی ہیں۔ شہریوں کے سیاسی، معاشی اور تمدنی اظہار کو بھی نازِ بالیدگی ملنا چاہئے۔

Exit mobile version