ندیوں کا شہر

Rasool bakhsh

(ڈاکٹر رسول بخش رئیس)

پاکستان میں ایک ہی شہر، اسلام آباد ، ایسا ہے جہاں قدرتی ندیاں بہتی ہیں۔ مارگلہ پہاڑیوں کے دائمی اور موسمی چشموں سے پھوٹنے والی یہ ندیاں اچھلتی، جھاگ اُڑاتی، شور مچاتی اور پتھروں اور چٹانوں کے درمیان سے تیز موڑ کاٹتی ہوئی بہتی تھیں اوردیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتی تھیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں بہنے والی یہ ندیاں ہزاروں سالوں سے جنگلی حیات کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے وہ لوگ، جو اسلام آباد کو اس کی تعمیر کے دور سے دیکھ رہے ہیں، میں اسے ستر کی دھائی سے جانتا ہوں، کو یاد ہو گا کہ ان ندیوں کا پانی کتنا شفاف ہوتا تھا۔ افسوس، اب ان کی وہ قدرتی حالت باقی نہیں ہے۔
شہری زندگی نے کلچر، علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور تہذیب کے دیگر لوازمات کو فروغ دیاہے۔ زندگی گزارنے کے لیے دنیا کے بہترین ممالک اُن چیزوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں جو اُنھوں نے اپنے شہریوں اور بنی نو ع انسان کے لیے بنائی ہیں۔ اُن کی کامیابی کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہے کہ اُنھوں نے شہری زندگی کو بہت آرام دہ اور پر لطف بنا دیا ہے۔ شہرکے معاملات کی نگرانی کرنے والے اس میں موجود پارکوں اور درختوں کا بہت خیال رکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ شہری ترقی اور قدرتی وسائل کے درمیان توازن خراب نہ ہونے پائے۔
جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے تو یہ مادی چیزوں اور اخلاقی قدروں کے اعتبار سے جس قدر پستی کا شکار ہے، اُس کی جھلک دنیا کے کسی اور ملک میں نظر نہیں آتی ہے۔ افسوس، ہم کراچی سے پشاور تک، پاکستان کے ہر شہر کو گراوٹ کا شکار ہو تے دیکھ رہے ہیں(اگرچہ ان کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ جاری ہے)۔ لالچی سیاست دانوں، سرکاری افسروں، سرمایہ کاروں، پراپرٹی مافیا اور قبضہ گروپ کے سرغنوں نے ہمارے شہروں کو قانون کی آڑ لے کر تباہ کیا ہے۔ فی الحال میں دارلحکومت میں فطرت کی تباہی پر ہی بات کر وں گا۔
دنیا کی کوئی قوم بھی اسلام آباد جیسے شہر، جس میں قدرتی ندیاں، سرسبز پہاڑیاں اور انواع و اقسام کے درخت، جھاڑیاں اور پھول اور سرسبز گھاس ہو، پر فخر کرسکتی ہے۔ اگریہ شہر کسی اور مہذب ملک یا معاشرے میں ہوتا تو ہم یہاں جنگلوں ، جھیلوں اور ندیوں کے اطراف میں کیفے، پارک، بائیسکل ٹریک، جاگنگ ٹریک اور لہلاتے ہوئے سبزہ زار دیکھتے۔ آج ، جب یہ ’’پاک لوگوں کا دارلحکومت ‘‘ ہے ہم اس کی ندیوں کوکچرے، پلاسٹک بیگ اور خالی بوتلوں سے بھرا ہوا دیکھتے ہیں جبکہ ان کا پانی بدبو دار ہو چکا ہے۔ کبھی ان ندیوں کے گرد اُگے ہوئے کچنار، شہتوت اور پھلاہی کے درختوں کی خوشبو سے علاقہ رشکِ فردوس ہوتا تھا اور یہاں رنگ برنگی مچھلیاں چمکدار پانی کی سطح سے اچھلتی تھیں جبکہ خوشمنا پروں والے پرندے ان کے گرد منڈلاتے رہتے تھے، لیکن آج یہاں سے اٹھنے والا تعفن سانس لینا بھی دشوار بنا دیتا ہے۔
یہ ’’نیا پاکستان‘‘ کیسے بنا ہے اور اب اسے درست کیسے کیا جا سکتا ہے؟پہلی بات تو یہ ہے کہ اس شہر کویہاں رہنے والے دولت مند اور تعلیم یافتہ لوگوں نے ہی خراب کیا ہے کیونکہ وہ سیورج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے برساتی نالوں اور ندیوں میں ڈال دیتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر سینکڑوں گھروں ، جو میرے ہمسائے میں ہیں، کو جانتا ہوں جو ایسا کرتے ہیں۔ ائیر فورس، نیول سیکٹر، E-11، پولیس فاؤنڈیشن اور بہت سی نئی بننے والی کالونیوں کا اپنا سیورج سسٹم نہیں ہے ، چناچہ وہ گندہ پانی انہی ندیوں میں ہی ڈالتے ہیں۔ ڈپلومیٹک انکلیو اور قائدِ اعظم یونیورسٹی، جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہوتے ہیں، بھی سیورج انہی ندیوں میں ڈالتے ہیں اور پھر یہ پانی راول ڈیم میں چلا جاتا ہے۔ شہر کے شمال مشرقی علاقے میں قائم ہونے والی بہراکوہ (Bharakoh) آبادی ، جس کا ارتکاز مارگلہ پہاڑیوں کی بلندی کی طرف ہے، بھی ندیوں اور ڈیم کو آلودہ کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سی ڈی اے (کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی) کی تباہی ہے۔ لاہور اور دوسرے شہر، جہاں سیورج کا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریا وں اور نالوں میں ڈالا جارہا ہے، کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
اس مسلے کا کیا حل ہے؟ پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اسلام آباد میں دوسرے شہروں سے آنے والے سیاست دانوں ، سرکاری افسروں اور ان کے ملازمین کی بھاری بھرکم کھیپ کوآباد ہونے سے روک دیا جائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ سی ڈی اے یا کسی بھی دوسرے ادارے، جو ندیوں کی آلودگی کا ذمہ دار ہو، کو عدالت میں لے جایا جائے۔ آخر میں شہریوں کو خود بھی فطرت کی تباہی کا احساس کرنا چاہیے اور اس کی بحالی کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شہر کی ندیوں کی تباہی پر سوؤ موتونوٹس لے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *