پاکستان کے لئے احترام کا مطالبہ

wajahat masoodقوموں کی تعمیر ایک پیچیدہ عمل ہے۔ کبھی صدیوں کے سفر میں ایک قدم طے ہوتا ہے تو کبھی ساعتوں میں منزلیں سر کر لی جاتی ہیں۔ 21 جون 2015ء کو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محترم ملہی لال ایک پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔ ملہی لال صرف ایک منٹ اور تیرہ سیکنڈ بولے لیکن انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں ایک اخلاقی پل باندھ دیا۔ سچ پوچھئے تو پاکستان تحریک انصاف کے نام میں موجود اصطلاح ’انصاف‘ نے پارلیمنٹ کے فلور پر ایم این اے ملہی لال کے لفظوں میں پہلی دفعہ بامعنی نمود پائی۔ بارہ مارچ 1949ء کی شام پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد پر بحث اپنے اختتامی مرحلے میں تھی۔ حزب اختلاف کے بزرگ قائد سرس چندر چٹوپادھیا نے قرار داد سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی تھی۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں کے سامنے واویلا کرنا بے سود ہے، آپ کے سامنے معقولیت اور استدلال سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ حضرات نے خود کو اُس عجزوانکسار کا نااہل ثابت کیا ہے جوحصول فتح یا کسی مذہب کے ساتھ وابستگی کے باعث دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے ، میں آپ کے لیے نیک خواہشات ہی ظاہر کر سکتا ہوں۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں اور اپنی دائمی آرام گاہ سے زیادہ دور نہیں ہوں۔ میں ہر قسم کے صدمے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ میں آپ کے خلاف کوئی عناد نہیں رکھتا۔ کاش آپ لوگ معقولیت کو کچھ اہمیت دے سکتے۔ ان سب باتوں کے باوجود ، دعا ہے کہ آپ کی راہ کھوٹی نہ ہو۔ آپ ترقی اور خوش حالی پائیں، پاکستان کی نوزائیدہ مملکت ایک عظیم قوم بنے اور قوموں کی برادری میں قابل احترام مقام پائے ‘‘۔ بارہ مارچ 1949ء کی شام سرس چندر چٹوپادھیا کے لفظوں میں بے بسی اور مایوسی کی جھلک تھی۔ 21 جون 2015ء کو محترم ملہی لال کے لفظوں میں وہ اعتماد تھا جو ایک باوقار قوم کے شہری اور رکن پارلیمنٹ کے شایان شان ہے۔ ملہی لال نے ٹھوس اخلاقی بنیاد پر ٹھیک 67 برس ، چار مہینے اور دس روز کی خلیج پاٹ دی۔ انہوں نے بعض ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے ہندو شہریوں کے عقائد پر ناروا حملوں پر زور دار احتجاج کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض ارکان پارلیمنٹ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے ملک اور مذہب کا فرق فراموش کر کے اپنے ہندو ہم وطنوں کے عقائد پر ناروا حملے کر رہے تھے۔ بار بار ’گائے کے پجاری ہندو‘ کی غیر حساس اور تحقیر آمیز اصطلاح استعمال کی جا رہی تھی۔ ملہی لال نے درست طور پر اعلان کیا کہ بھارت ایک ملک ہے جس میں ہندو بھی رہتے ہیں اور مسلمان بھی بستے ہیں۔ اسی طرح پاکستان ایک ملک ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں اور ہندو شہری بھی بستے ہیں۔ پاکستان کے رہنماؤں کو بھارت پر تنقید کا پورا حق ہے لیکن انہیں ہندو عقائد پر حملے کرنے کا حق نہیں ۔ ہندو پاکستان کے شہری بھی ہیں اور گائے کا احترام ا ن کے عقیدے کا حصہ ہے اور انہیں اپنے عقائد پر عمل پیرا ہونے کی آزادی ہے۔ کسی پاکستانی شہری کو ہندو ہم وطنوں کے عقائد کی تحقیر کا حق نہیں پہنچتا۔ ملہی لال نے دراصل مذہب اور وطن کے باہم تعلق کا سوال اٹھایا اور یہ سوال ہماری تاریخ اور موجودہ اجتماعی منظر نامے کے اہم ترین سوالات میں شامل ہے۔ تو پہلے تاریخ کا حساب صاف کر لیں۔۔۔
قائد اعظم ہماری تاریخ کا مرکزی حوالہ ہیں۔ تاہم قائد اعظم کا ذکر کیا جائے تو کچھ محترم دوست معاملے کو اس طرح خلط مبحث میں ڈال دیتے ہیں گویا انہیں قائد اعظم کے افکار کی تشریح پر اجارہ حاصل ہے۔ قائد اعظم کی عظمت ہماری قوم کا متفقہ رہنما ہونے میں ہے۔ قائد کے شارحین نے ان کی دستور پسندی، بصیرت اور اعلیٰ اخلاقی کردار کو اپنے کوتاہ مفادات سے جوڑ رکھا ہے۔ سو اس بحث سے گریز کرتے ہوئے قائد اعظم کے دست راست لیاقت علی خان کا حوالہ لیتے ہیں۔ اپریل 1941 ء۔ پٹنہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کا اٹھائیسواں سالانہ اجلاس جاری تھا۔ نوابزادہ لیاقت علی خان مسلم لیگ کے دستور میں ترمیم تجویز کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ۔ پاکستان کے مطالبے کو مسلم لیگ کے بنیادی اصولوں میں شامل کئے جانے کی تجویز تھی۔ شریف الدین پیرزادہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی دستاویزات کی جلد دوم میں لیاقت علی خان کی اس تاریخی تقریر کا متن درج کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو، ’’پاکستان میں غیر مسلموں کے تحفظات کو اقلیتوں کے ساتھ مشاورت سے دور کیا جائے گا اور ان پر کوئی حل مسلط نہیں کیا جائے گا‘‘۔ آٹھ برس کے اوراق پلٹ جائیے۔ مارچ 1949میں پاکستان کے ایک بھی غیر مسلم رکن دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد کی تائید نہیں کی اور قرار داد مقاصد منظور کر لی گئی۔ اقلیتوں کے ساتھ لیاقت علی خان کے معاملے کا ایک اور باب بھی قابل ذکر ہے۔ لیاقت علی خان تقسیم کے موقع پر ہونے والے فسادات اور تبادلۂ آبادی کے معاملات پر بات چیت کے لئے اپریل 1950ء میں دہلی تشریف لے گئے تھے۔ 10 اپریل 1950ء کو پنڈت نہرو اور لیاقت علی خان میں سمجھوتہ طے پایا۔ لیاقت نہرو پیکٹ کے متن سے ایک اہم شق ملاحظہ ہو، ’’ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں پوری سنجیدگی سے عہد کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کی جغرافیائی حدود میں تمام شہریوں کو مذہبی شناخت سے قطع نظر یکساں شہری اور سیاسی حقوق دیے جائیں گے۔‘‘واضح رہے کہ یہ معاہدہ قرار داد مقاصد منظور ہونے کے تیرہ ماہ بعد طے پایا تھا گویا قرار داد مقاصد کو پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی دستاویز سے تعبیر کرنے کی روایت ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ روایت تو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات سے شروع ہوئی جسے روز نامہ نوائے وقت کے اداریے میں محترم حمید نظامی نے ’شہریوں کی غلامی‘ کی دستاویز قرار دیا تھا۔
پاکستان میں شہریت کی مساوات سے انکار کی روایت نے ہمارے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی بحران کو جنم دیا ہے، آمریت کی نامبارک روایت کو سہارا دیا ہے اور شہریوں کو بے دست و پا کیا ہے ۔ ریاست اور مذہب کو گڈ مڈ کرنے سے مذہبی تشخص اور شہریت میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ عقیدے کو ریاست سے تعبیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو عقیدے اور وطن سے محبت کو خلط ملط کیا جانے لگا۔ بالآخر عقیدے کو سیاسی مفادات کے لئے ہتھیار بنا لیا گیا۔ وسائل اور فیصلہ سازی پر اجارے کے لئے اکثریتی عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کو بھی دائرہ اعتبار سے باہر کرنے کا کھیل شروع ہوا جس کے لئے عام طور پر تکفیر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ہم نے سیاسی مخالفین کو مذہبی اعتبار سے ساقط قرار دینا اور ان کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دینا شروع کیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لباس اور اکل و شرب کی مختلف ترجیحات کی بنا پر بھی ملک دوستی قابل انگشت نمائی ٹھہری۔ عقیدے، زبان اور ثقافت کی بنیاد پر شہریت میں امتیاز سے قوم میں تفرقہ اور بے گانگی جیسے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ عقیدے کی آزادی تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے لیکن یہ حق اسی صورت میں مفید نتائج دیتا ہے جب اپنے عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنے سے گریز کیا جائے اور دوسرے شہریوں کے عقائد پر رائے زنی سے گریز کیا جائے۔ قوم کو عقیدے کا ہم معنی قرار دینے سے خدائی فوجدار نمودار ہوتے ہیں اور ریاست کی عمل داری موہوم ہو جاتی ہے۔ قومی ریاست میں خوش انتظامی کا معیار اقلیتی گروہوں کے ساتھ سلوک سے متعین ہوتا ہے ۔ پاکستان ایک قومی ریاست ہے۔ اس ملک میں مسلمان، ہندو، مسیحی ،پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری آباد ہیں۔ مہذب قوم کے درجے کو پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام شہری قانون کی پاسداری کرتے ہوئے یکساں تحفظ اور مساوی حقوق محسوس کریں۔ عقیدے سے قطع نظر رتبے کی مساوات شہریت کے اصول میں شامل ہو۔ اور یہ اصول قانون کی کتاب ہی میں نہیں، گلی کوچوں میں بھی نظر آنا چاہئے۔ گلی کوچوں کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ وہ اعلیٰ ترین فورم ہے جہاں پاکستان کی اجتماعی اقدار کی عکاسی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں یہ تاثر استوار ہونا چاہیے کہ اقلیتیں پاکستان کی کتاب کا حاشیہ نہیں، ہمارے جسد اجتماعی کا متن ہیں۔ پاکستان اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ فیض احمد فیض کے لفظوں میں اقلیتیں پاکستان کا ’موضوع سخن‘ ہیں۔ پاکستان کی ریاست اقلیتی شہریوں کو مساوات اور تحفظ دیے بغیر اپنا اخلاقی نصب العین حاصل نہیں کر سکتی۔ ملہی لال نے پاکستان کا بیٹا ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔ ملہی لال نے پاکستان کے لئے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *