پاکستان کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے

 Ayaz Amirبنیادی ضرورت صرف ایسے طاقتور ہاتھ کی ہے جو ضیا کی باقیات، بدعنوان اشرافیہ، سیاست اور کاروبار کے ادغام سے وجود میں آنے والے طرزِ حکمرانی کا خاتمہ کردے، باقی سب باتیں، سب بے مقصد فصاحت اور بیان بازی ہے۔ اگر ضیا کی آمریت ایک تباہی تھی، اس ظلمتِ شب تارسے پھوٹنے والی تیرہ بخت جمہوریت اس سے بھی بڑی مصیبت ہے۔ مشرف نے بھی سیاسی گند صاف کرنے کا عہد کیا، لیکن درحقیقت اُنھوں نے بدعنوان سیاسی اشرافیہ کو مزید تقویت دی۔ اُن کے دور سے جس جمہوریت کو ابھرتے ہوئے دیکھا گیا ، وہ دراصل ضیا دور کی انتہا پسندی کا دوسرا ایڈیشن تھا۔ اس فکشن سے بڑ اکوئی جھوٹ نہیں، ا سے بڑی کوئی غلط فہمی نہیں، کم از کم ہمارے ہاں، کہ جمہوریت کی خرابیوں کا علاج مزید جمہوریت ہے۔ ہمارے ہاں مروج مزید جمہوریت کا مطلب پہلے سے ہی عیش و عشرت میں غرق اشرافیہ کومزید کھل کھیلنے کا موقع دینا ہے تاکہ مزید ٹیکس چوری کریں اور قومی دولت کو لوٹتے ہوئے اپنے اثاثے بڑھالیں۔ ماڈل ایان علی کو کرنسی کی سمگلنگ نہیں بلکہ حماقت کی پاداش میں سزا ملنی چاہیے۔ وہ مبینہ طور غلط’’کمپنی‘‘ (زرداری، رحمان ملک، وغیرہ) کے لیے کام کررہی تھی۔ دوسری طرف اسحاق ڈار کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے اعترافی بیان موجود ہے ۔ اگر ایان علی میں عقل ہوتی تو دیکھتی کہ ان امور کے ماہرین کیا کیا حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔
بھارتی نوبل انعام یافتہ، امریتہ سین(Amartya Sen)یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ جمہوریت میں قحط نہیں پڑتے۔ شاید موصوف ہیٹ ا سٹروک بھول گئے۔ ایسے ا سٹروک ہمارے ملک جیسے ماحول میں بھی جمہوریت کو عوام سمیت بھسم کرسکتے ہیں۔ شاید نوبل انعام کے حقدار قرار پانے والے صاحب نے نہ دیکھا کہ چین میں ایک جماعت پر مشتمل حکمران طبقے نے عوام کو اس سے زیادہ غربت کی چکی میں پسنے سے بچایا جتنا بھارتی جمہوریت نے ۔ انڈیا نے بہت زیادہ معاشی ترقی کی شرح ظاہر کی، لیکن پھر اس کا اثر عوام پر ہوتا کیوں دکھائی نہ دیا۔ بھارتی آبادی کا ایک بڑاحصہ اس کے ثمرات سے بہرہ مند کیوں نہ ہوسکا؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی اوپن ائیر لیٹرین بھارتی کے ریلوے ٹریک ہیں؟برِ صغیر کی جمہوریت ابھی اس بنیادی مسلے سے بھی نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
مشرقی ایشیا.... جنوبی کوریا، تائیوان، ہانگ کانگ، سنگاپور، حتیٰ کہ ملائیشیا اور اب تھائی لینڈ اور ویت نام کی کامیابی صرف فردِ واحد کی حکمرانی کی وجہ سے ممکن ہوئی ۔ آ پ چاہیں تو انہیں آمریت کے ثمرات بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی آمر حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ درحقیقت ان کا طویل سلسلہ موجود ہے، تاہم ان میں ایک چیز کی کمی تھی۔ وہ کاغذی افراد، بے بصر رہنما اور کم نگاہ حکمران تھے۔ ایوب خان کی ڈائریوں کا مطالعہ کرتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ ہاتھ میں بندوق ہو اور.... ان کے سیاسی تصورات بھی سطحی اور عامیانہ ہیں۔ جنرل یحییٰ عیش وعشرت کے دلدادہ تھے۔ اتاترک بھی صنفِ نازک اور بوتل کے رسیاتھے۔ جب جدید ترکی کے بانی سے پوچھا کہ عورتوں کی کون کی خوبی اُنہیں مرغوب ہے تو پاشا نے معنی خیز مسکراہٹ سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے جواب دیا...’’دستیابی‘‘۔ تاہم وہ صرف عیش پسند ہی نہیں تھے، اُنھوں نے خوفناک جنگیں جیتی تھیں۔ وہ یورپی حملہ آوروں کے راستے میں بھی کھڑے تھے اور یونانی حملوں کو بھی شکست سے دوچار کررہے تھے۔ اس دلیری نے اُنہیں وہ اخلاقی اتھارٹی دی جس کی طاقت سے وہ عثمانی خلافت کے بے جان ماضی سے جاندار اور جدید ترکی کو ابھارنے میں کامیاب ہوگئے۔
پاکستان میں یہ فریضہ کون سرانجام دے گا؟گزشتہ سال آج کل قوم کے موڈ کا تصور کریں، ہر طرف شکست خوردگی اور مایوسی کے احساس نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ ملک تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں کی زد میں تھا۔ ان کی پہنچ سے ملک کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہ تھا جبکہ کسی کوئی پتہ نہ تھا کہ ان سے کیسے نمٹاجائے۔ انواع واقسام کے ملا صبر کادرس دے رہے تھے جبکہ دشت کو دیکھ کر گھر یادآرہا تھا۔ نواز شریف، عمران خان اور دیگر رہنماٹی ٹی پی سے ٹکرانے کے لیے تیار نہ تھے، ہرکوئی پرامن مذاکرات کا راگ آلاپ رہا تھا۔ دوسری طرف طالبان ان کی کمزوری کو جان چکے تھے۔ چنانچہ شہری مررہے تھے، مارکیٹیں ویران تھیں، مذہبی مقامات پر خود کش دھماکے معمول کی بات تھی۔ اور تو اور، دفاعی اداروں کے قافلوں پر بھی دیدہ دلیری سے حملے ہورہے تھے۔ پاکستان ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست کے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔ سیاسی قیادت بے عملی کی تصویر جبکہ ملک ویران۔ آج یہ صورتِ حال کتنی مختلف ہے؟ ایسا لگتاہے کہ وہ شکست خوردہ احساس کا یہاں کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ طالبان کی خونی آندھی کسی اور ملک میں چل رہی تھی۔ آج پاکستان ایک نیا ملک، لوگوں کے دل میں نئی امنگیں اور نیا ساز، نئی نغمگی۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے ۔ سیاسی قیادت کی خواہش کے برعکس عسکری قیاد ت نے جاندار فیصلہ کیا اور تذبذب کی کیفیت سے نکل کر طالبان کو چیلنج کردیا، جبکہ محتاط خطیب چیختے چلاتے رہ گئے۔
اب ہم اپنی جنگِ آزادی ہی نہیں لڑرہے، ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ عوام کے دل میں نیا جذبہ ہے، سامنے نئی منزل ہے اور عوام اور سپاہیوں کے چہرے پر مستقبل کی چمک دکھائی دیتی ہے۔ لاہور کی چیک پوائنٹس پر کھڑے فوجی جوانوں کو دیکھیں، وہ ان کی آنکھوں میں جنگ کی سختی بھی ہے اور عزم کی روشنی بھی۔ ایک امن کی شکار فوج اور میدانِ جنگ میں آزمودہ فوج میں فرق ہوتا ہے۔ یہ وہی فوج ہے جو جنگ لڑنے سے کتراتی تھی۔ کارگل میں ہمارے فوجی لڑے تھے اور اُنھوں نے یقیناًبہت بہادری دکھائی لیکن اُن کے افسران نے اُنہیں مایوس کیا۔ تاہم اس جنگ کا وعدہ غلط خطوط پر استوار ہوا تھا اور اس کی انکوائری کرنے کی ضرورت ہے۔ اُس وقت وزیرِ اعظم نواز شریف کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ اگر کارگ ایشو پر مشرف کو سزاملنی ہے تو نواز شریف کو بھی نااہلی پر کٹہرے میں کھڑا کیا جاناچاہیے۔ مشرف کو ملازمت سے نکالنے کا وہ وقت تھا، بعد میں نہیں۔
ایک حوالے سے ہمیں طالبان کے مشکور ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے ہماری فوج نے لڑنا سیکھ لیا ہے۔ آج کی فوج جنگ آزما فورس ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے پاس مورل اتھارٹی ہے اور عوام کا اعتماد بھی۔ ہوسکتاہے کہ بطور قوم ہم کچھ خوبیوں کے مالک ہوں لیکن ان میں ڈسپلن شامل نہیں ہے۔ یہ قائدِ اعظم کی خوبی تھی لیکن قوم نے اسے بھلا دیا۔ ہمیں تو ایک قطار میں کھڑے ہوکر انتظار بھی کرنا نہیںآتا۔ ہم بات بات پر چیخنے اور شاعرانہ مبالغے سے کام لینے کے عادی ہیں۔ اوپر سے نیچے تک، ہرشخص کسی نہ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتا ہے۔ ہماری جمہوریت نے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا نہ عوام کے دل میں قانون کی پیرونی کرنے کا احساس بیدار کیا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو یا اپنے گھر کو صاف رکھنے میں کامیاب ہوجائیں لیکن اپنے قصبوں اور شہروں کو صاف رکھنا ہمارے بس میں نہیں۔
مغربی کلچر اور چینی نے نظم اور چیزوں کو معیار پر کرنے کا درس دیا۔ کبھی اسلام بھی تہذیب کا امام تھا لیکن آج اسلامی دنیا انتشار اور افراتفری کا شکار ہے۔ شام، عراق اور لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان بھی ایسے ہی حالات کا شکار ہونے والا تھا لیکن پھر مسلح افواج کی وجہ سے بربادی کی لہر تھم گئی۔ اس وقت ہمارے پاس موقع ہے ، ہم آگے بڑھ کچھ اور بھی کرسکتے ہیں۔ اب ہمارے پا س سوچنے کا وقت ہے کہ قیامِ پاکستان کا مقصد، جو ابھی تک ادھورا ہے، کی تکمیل کا وقت آگیا ہے۔ شاید قسمت ہمیں ایک فیصلہ کن لمحے کے قریب لاتی جارہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *