شام میں سرین گیس کا استعمال کس نے کیا؟

Fiskشامی حکومت سرین گیس کے استعمال سے انکاری ہے جو 1,400 لوگوں کے ہلاکت کا باعث بنی اور اب یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ کچھ شواہد روسی ذرائع کے ہاتھ آئے ہیں جس میں ان میزائلوں کے بارے میں معلومات موجود ہیں جو اس حملے میں استعمال ہوئے۔یہ میزائل 1967ء میں سویت یونین میں بنائے گئے تھے اور بعد میں تین عرب ممالک ، یمن، مصر اور لیبیا کوبرآمد کیے گئے ۔ویسے تو ان اطلاعات کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں، اور نہ ہی پیوٹن نے کوئی وجہ بتا ئی کہ انہوں نے اوبامہ کو کیوں بتایا کہ شامی فوج اس حملے میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم اگر یہ اطلاعات صحیح ہیں تواس کا یہ مطلب ہے کہ امریکہ نے شام کو اس طرح کے خطرناک ہتھیار فراہم نہیں کیے۔
2011ء میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے روسی ساختہ ہتھیار باغیوں اور القائدہ کے حامی گروہوں کے ہاتھ لگے جو بعد میں مالی،الجیریااور سینائی میں استعمال ہوئے۔شامی حکومت ایک عرصے سے دعویٰ کر رہی ہے کہ روسی ساختہ جو ہتھیار استعمال ہوتے ہیں یہ وہی ہیں جو لیبیا سے باغیوں کے ہاتھ لگے ہیں اور ان کوٹرانسپورٹیشن کے لیے باغیوں کو قطر کی مدد حاصل ہے جو اس سے پہلے لیبیا کے باغیوں کے حمایت کر رہے تھے اور اب شامی باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود ہیں اب اگر روس اس بات کو ثابت کرسکیں کہ گوٹا میں استعمال ہونے والے میزائل وہ نہیں ہیں جو روس نے شام کو مہیا کیا تھا تو اس سے شامی حکومت کی بے گناہی ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں سچ کے مقابلے میں پروپیگنڈہ کو اہمیت دی جاتی ہے ، شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ علاقے سے رپورٹنگ کرنا صحافیوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں ۔ باغیوں کے علاقے سے رپورٹ بھیجیں تو شامی حکومت کو شک پڑتا ہے اور اگر شامی فوج کے زیر قبضہ علاقے سے رپورٹ بھیجیں تو باغیوں کی ناراضگی کا خطرہ ہے۔ اگر شامی فوج کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث نہیں بھی ہے تو یہ بات تو سب پہ عیاں ہے کہ تشدد ،قتل عام اور معصوم لوگوں پر بمباری کر کے شامی فوج جنگی جرائم کا ارتکاب کرچکی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کوبھی شامی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال پر شک ہے کیونکہ یو این کے اہلکاروں کو تفتیش کے دوران بہت سے سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔
مثال کے طور پر اگر شامی فوج نے کیمیائی ہتھیار استعما ل کرنا ہی تھا تو انہوں نے اس وقت کیوں کیا جب اقوام متحدہ کے اہلکار چار میل کے فاصلے پر رہائش پزیر تھے ۔ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ معائنہ کاروں کو ثبوت کی فراہمی میں کوئی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ثبوت حاصل کریں۔
مغربی ملکوں کے نقطۂ نظر سے اگر اتفاق کیا جائے تو شام کو اسرائیل جیسے ایٹمی طاقت والے دشمن کا سامنا ہونے کے باوجود صرف اس لیے ہتھیاروں سے خالی کیا جا رہا ہے کہ وہ پچاس سال پرانے سات میزائل باغیوں پر فائر کیے تھے۔جس سے کئی بے گناہ لو گ بھی مارے گئے تھے۔ایک مغربی این جی او کاتو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر شامی فوج نے کیمیائی ہتھیار استعما ل کرنا ہی تھا تو وہ دو سال پہلے بھی کر سکتی تھی ۔ انہوں نے اس وقت کیوں کیا جب بین الاقوامی معائنہ کار موقع پر موجود تھے۔
جب 19 مارچ کو سرین گیس کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس میں 26لوگ ہلاک ہو چکے تھے، روس تب بھی شامی حکومت کے ملوث ہونے سے انکار کر رہا تھا اور اس بارے میں 100صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی اقوام متحدہ میں پیش کر چکا تھا لیکن اس رپورٹ کواب تک خفیہ ہی رکھا گیا ہے۔
ان حالات میں سازشی نظریات سے بالاتر ہو کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ گیس حملوں میں حکومت ملوث نہیں تھی۔ ایک شامی صحافی کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ باغیوں کو سرین گیس تک رسائی حاصل ہوچکی ہے لیکن کسی تیسری قوت کی مدد کے بغیر وہ اس کو استعمال نہیں کر سکتے۔ امریکہ کو شام پر حملے کے لیے بہانے کی ضرورت تھی جو سرین گیس کو استعمال کر کے انہوں نے صحیح وقت میں حاصل کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *