دنیا کا مقدس ترین مقام

''Anjum Niazکیا آپ مسلمان ہیں؟‘‘ دو تنومند افراد نے پوچھا جب میں یروشلم کے پرانے حصے میں سات دروازوں میں سے ایک کے ذریعے داخل ہوئی۔ اُنہوں نے میرا سر سے پائوں تک جائزہ لیا، میرے لباس اور ننگے سر کو دیکھا اور مجھے داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا حالانکہ میں سرسے پائوں تک مسلح اسرائیلی پولیس کے حصار سے گزر کر آچکی تھی اور وہ یقینی طور پر میری مذہبی شناخت سے مطمئن ہوچکے تھے۔ اُنہیں میرے مذہب پر کوئی شبہ نہ تھا۔ میں نے فوراً ہی اپنی سیاہ شال کوپھیلاتے ہوئے اپنی عرب ترجمان کو آگے آنے کے لیے کہا۔ ''کہاں سے آئی ہیں آپ؟‘‘ انہوں نے تیز آواز میں پوچھا۔ ''پاکستان سے ‘‘ میں نے جوا ب دیا۔ ''اپنا پاسپورٹ دکھائو‘‘۔ میں نے کہا ''میں اسے اپنے ہوٹل میں چھوڑ آئی ہوں جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی۔‘‘میں ڈر رہی تھی کہ مجھے داخلے کی اجازت نہیں ملے گی، لیکن اُن میں سے ایک نے کہا، ''سورہ فاتحہ سنائو‘‘، گویا یہ شناخت کا اظہار تھا۔
میں نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی جس کے بعد مجھے آگے جانے کی اجازت مل گئی۔ اس مقام کا تقدس میرے دل ودماغ پر چھایا ہوا تھا اور میں ایک خاص روحانی کشش محسوس کررہی تھی۔ میرے ارد گرد کہیں کہیں زیتون اور سیدر(cedars) کے درختوں کے نشانات دکھائی دیتے تھے۔ یہ یروشلم کی سہ پہر تھی۔ تیز سورج کے باوجود خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔ میں نے ایک وجدان کے عالم میں دنیائے اسلام کے قدیم ترین مقدس نشان، قبتہ الصخرہ پر نگاہ ڈالی۔ ''آپ کو مکمل پردہ کرنا ہوگا‘‘۔ اس کے دروازے کے قریب نگران نے مجھے ہدایت کی۔پھر اُس نے اپنی ساتھی عورت کو اشارہ کیا کہ پوری طرح چادر لپیٹنے میں میری مدد کرے۔ اُس عورت نے کہا کہ جب آپ اقصیٰ مسجد کو اندر سے دیکھ لیں تو پھر ہمارے پاس واپس آئیں۔
مکہ شریف میں خانہ کعبہ کی طرح قبتہ الصخرہ بھی الحرم شریف کہلاتا ہے۔ یہ ایک مقدس چٹان پر اُس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں سے ہمارے رسول ِ اکرمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اس مقام کا گنبد ساتویں صدی میں خلیفہ عبدالمالک نے تعمیرکرایا۔ جب اس کے اندر داخل ہوں تو ہر طرف درودوسلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں اور سرخ اور سبز قالین پر چلنا ایک عجیب ساتاثر قائم کرتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اس کے گرد طواف کررہے تھے جس طرح خانہ کعبہ کے گرد کیا جاتا ہے۔ یہ تمام ماحول روحانی طور پر بہت کیف آفریں ہے۔ اس کے ہشت پہلو حصے پر قرآن پاک کی آیات کندہ ہیں۔ سنہرے گنبد کے نچلے حصے پر ترکی کی بنی ہوئی ٹائلیں ہیں جن پر سورہ اسراء کی آیات کندہ ہیں۔ یہ آیات پیغمبر اسلام ﷺ کے معراج کے واقعے کو بیان کرتی ہیں۔یہ گنبد شروع میں سونے کا بنایا گیا تھا، لیکن پھر اسے اردن کے بادشاہ ، شاہ حسین مرحوم نے تانبے اور المونیم سے بنوایا۔ اس کے بعد المونیم پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا۔ اب یہ یروشلم کے تمام کونوں سے سونے کی طرح چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی چوٹی پر چمکدار ہلال نصب ہے جو اسلام کی نشانی ہے۔
اس کے قریب ہی مسجد اقصی واقع ہے جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام کہلاتی ہے۔ اس مسجد کی خوبصورتی اس کی سادگی میں
ہے۔ قرآن ِ پاک کے مطابق حضرت محمدﷺ یہاں سے سفر آسمانی پر روانہ ہوئے۔ سفر کے پہلے حصے میں آپ ﷺ ایک براق پر سوار ہو کر مکہ سے یروشلم تشریف لائے۔ روایات کے مطابق یہاں آپﷺ نے تمام انبیاعلیہ السلام کی امامت فرمائی۔ اس سفر کا احوال حدیث اور تفسیر کی کتب میں جابجا ملتا ہے اور یقینا قارئین کو تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔
مسجد اقصی کا صحن بہت وسیع ہے جبکہ اس کے چاروں طرف کمرے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں میں نے اذان کی آواز سنی اور فوراً ہی تمام ہال نمازیوں سے بھر گیا۔ یہ نماز عصر کا وقت تھا۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ جمعہ کی نماز کے وقت مسجد پوری طرح بھر جاتی ہے۔ تحویل ِ قبلہ سے پہلے مسلمان اس طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ ہجرت ِ مدینہ کے سترہ ماہ بعد آپﷺکو بذریعہ وحی ارشاد ِ ربانی ہوا کہ نماز کے لیے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیجئے۔ پرانے شہر کے اس 0.9 مربع کلومیٹر حصے کو مسلمان بیت القدس جبکہ یہودی اس مقام کو ٹمپل مائونٹ کہتے ہیں۔ مقدس
بائبل کے مطابق یہودیوں کے دونوں ٹمپل اسی جگہ پر واقع ہیں۔ پہلا ٹمپل حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیرکرایا تھا، لیکن اسے بابل کے حملہ آوروں نے تباہ کردیا۔بعد میں بنائے گئے ٹمپل کو رومن افواج نے گرادیا۔ اب یہودیوں کے لیے مختص حصے میں شکستہ ٹمپل کی ایک دیوار ہے، جسے دیوارِ گریہ کہتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ گریہ زاری کرتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے ایک مقدس مقام ہے ۔ دنیا بھر کے یہود ی اس مقام پر حاضری دیتے ہوئے اُس وقت کو یاد کرتے ہیں جب یہاںعظیم الشان ٹمپل ہوا کرتا تھا۔ میں وہاں بھی گئی لیکن وہاں کسی نے نہ میرا مذہب پوچھا اور نہ ہی یہ اعتراض کیا کہ میں نے اپنا سر کیوں نہیں ڈھکا۔ نہ مجھے کوئی مخصوص آیات سنانے کی ضرورت پیش آئی۔ مجھے اس حصے میں گھومنے پھرنے میں ایک طرح کی آزادی کا بھی احساس ہوا۔ میں نے کچھ یہودیوں کو وہاں دیکھا۔ کچھ دیوار کی طرف منہ کرکے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ کچھ دیوار کے ساتھ اپنی پیشانیاں لگائے دعائیں کررہے تھے۔ ایک احساس دل میں جاگزیں تھا کہ مقدس مقام پر سبھی مل کر عبادت کرسکتے تھے تو پھر اس کے لیے صدیوں تک ایک دوسرے کاخون کیوں بہایا گیا؟ (اس سفر کا کچھ اور احوال آئندہ کالموں میں)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *