طارق جمیل برانڈ (نام ہی کافی ہے )

علی ارقم

tariq jamilکل رات سے مولانا طارق جمیل کی عمران خان کے گھر بنی گالہ میں افطاری میں شرکت کی تصویریں سوشل میڈیا پر تبصروں کا موضوع ہیں۔ کچھ لوگ اسے عمران خان کی دوران نماز کی تصویریں بنوانے کے شوق کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور کْچھ لوگوں کو طارق جمیل پر غْصّہ ہے کہ وہ جن اعمال و معمولات کی تبلیغ کرتے ہیں، اْس پر خود عمل کرتے دکھائی نہیں دیتے اور بعض اْن کی تبلیغی سرگرمیوں کے عنوان کے تحت سیلیبریٹیز یعنی فن، کھیل یا سیاست کی اہم شخصیات سے تعلق خاطر پر چیں بہ چیں ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ مولانا طارق جمیل ہر جگہ چھائے ہوئے ہیں، چاہے وہ وزرائے اعلیٰ کی گھروں کی تقریبات ہوں، سرکاری افسران کے کردار کو سدھارنے کی مساعی ہوں، بلوچستان میں قوم پرست عناصر کی مْسلح جنگ کی عمومی مقبولیت کے آگے بند باندھنا ہو یا کراچی اسٹاک ایکسچینج میں سٹے بازی کے حوالے سے نامور کاروباری شخصیات کے گھر ختم قرآن کی تقریب ہو ، یا پی ٹی وی پر رمضان نشریات ہوں ،آپ کو ہر جگہ مولانا کی شخصیت جلوہ گر نظر آئے گی۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ تین دہائیوں پر محیط اس عمل کا تسلسل ہے جس میں ریاست نے ہر نوعیت کے مسائل کا حل مذہبی راسخ العقیدگی میں جانا ہے اور ملکی آبادی میں موجود کلچرل رنگا رنگی ، مذہبی و مسلکی تنوع کے مقابل خاص مکتب فکر کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے۔
ستّر کی دہائی میں جماعت اسلامی کی تمام تر مساعی کے باوجود عوام میں پذیرائی سے محرومی نے ریاست کو دیوبندی مکتب فکر کی طرف ہاتھ بڑھانے پر آمادہ کیا جس میں سعودی حکومت کی جانب سے بھی اپنی سرپرستی میں چلنے والے ادارے رابطہ عالم اسلامی میں دیوبندی علماء کی شمولیت کے ذریعے سے مدد فراہم کی گئی اور یوں جمال عبدالناصر کے ثنا خواں دیوبندی سیاسی مْلّاؤں نے بعد میں سعودی شاہوں کی قدم بوسی کی راہ چْنی، اگر چہ انفرادی سطح پر بعض دیوبندی علمأ صدام حسین کی بعث پارٹی اور لیبیا کے معمر قذافی سے بھی محبت کا دم بھرتے ہوئے مالی فوائد سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں لیکن بعد کے ادوار میں افغان جنگ میں بھی اپنی افادیت ثابت کرنے میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔
جہادی پراجیکٹ میں ساجھے داری کے ثمرات میں مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد ، شہری علاقوں میں اثرورسوخ ، دیگر مسالک کی مساجد پر مْسلح جتھوں کے ذریعے قبضہ ، سرکاری ملکیت اور نجی جائیدادوں پر قبضے میں حصہ داری اور فوج میں ملازمتوں میں معتدبہ حصہ ان کے ہاتھ آیا ۔ علاوہ ازیں مدارس، مساجد اور جہادی پراجیکٹ کو تازہ خون فراہم کرنے والی تبلیغی جماعت بھی وقار و احترام کا محور ٹھہری۔ اہم شخصیات ان کے سالانہ اجتماعات میں ذوق و شوق سے شریک ہوتی رہیں۔ مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کا چہرہ ہیں سو اس اہمیت و احترام کے مستحق بھی ٹہرے ہیں
پاکستان میں مذہبی راسخ العقیدگی کے مظاہر جس طرح سے ہماری سماجی زندگی میں نمایاں ہوتے آرہے ہیں ، ملکی اور غیر ملکی بنک اور مالیاتی ادارے اپنی مصنوعات اور خدمات کو عربی اصطلاحات کا جامہ پہنانے میں مصروف ہیں ، معاشرتی سطح پر جس نوعیت کی مذہبیت کا دور دورہ ہے اس میں طارق جمیل برانڈ کا اسلام آوے ہی آوے۔

(علی ارقم کراچی میں مقیم جرنلسٹ ہیں جو متنوّع موضوعات پر اخبارات ورسائل اور آن لائن میگزینز کے لئے لکھتے رہے ہیں)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *