گلگت بلتستان انتخابات: آگے کیاہوگا؟

 M ismail khanن لیگ جیت گئی، پی ٹی آئی ہار گئی، پی پی پی بری طرح ہار گئی اور ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ گئی۔یہ ایک علامتی صوبے کی ایک طویل اور مشکل انتخابی جنگ تھی جس نے مثاوی طور پر طاقتور علامتی انتخابی نتیجہ پیش کیا۔
پی ٹی آئی نے ہجوم کھینچے لیکن ن لیگ نے ووٹ کھینچے۔ ن لیگ نے لوگوں کی امیدیں بڑھائیں اور کامیابی حاصل کرلی۔ پی ٹی آئی نے خوف کو ہوا دی اور کمزورتر ہو گئی۔ آخر کار، ن لیگ نے قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں میں سے16پر ایک واضح فتح حاصل کر لی۔پی پی پی اور پی ٹی آئی، جنہوں نے شرمناک شکست کے باعث صرف ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔
عمران خان کیلئے گلگت بلتستان کے انتخابات سے سیکھنے کیلئے کئی سبق موجود ہیں۔کپتان کے پاس ٹیم نہیں تھی ماسوائے نگرسے 2 بار منتخب ہونے والے مرزا حسین کے جو بدقسمتی سے انتخابات میں شکست کے ایک ہفتے بعد دل کے ایک دورے سے فوت ہو گئے تھے، پی ٹی آئی کے پاس میدان میں تجربہ کار ٹیم تھی اور نہ ہی ڈرائینگ رومز میں اچھی حکمت عملیاں۔پی ٹی آئی کے بہترین کھلاڑی، اظہار ہنزائی ، اے کے آر ایس پی کے سابق جنرل منیجرجو کہ ہنزہ سے لڑ رہے تھے، جیل سے بھاگے ہوئے طاقتور امیدواروں کے درمیان پس گئے تھے۔
پی ٹی آئی کی مہم اگر مایوس کن حد تک مبہم نہیں تھی تو بھی اس میں مواد کی کمی تھی اور اس کا پیغام کمزور تھا۔ کپتان کو لوگوں نے بڑے بڑے استقبالیے دئیے لیکن سکردو سے ہنزہ تک اور کھپلو سے گیاری تک، یہ ٹیم عام آدمی کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں ناکام رہی۔عمران کی نواز مخالف باتوں کی اپنے ذاتی روزمرہ بقاء کے مسائل میں گھرے ہوئے غریب لوگوں کیلئے کوئی اہمیت نہ تھی۔ان کا گلگت بلتستان میں کینسر اسپتال کا وعدہ نہ صرف یہ کہ بڑی دیر بعد سامنے آیا بلکہ ووٹروں کیلئے تھابھی بہت ہی چھوٹاکیونکہ انہیں ایک ایسے فعال مقامی اسپتال کی زیادہ ضرورت تھی جوانہیں ڈائریا اور سردرد کی دوائیں دے سکتا۔
پی ٹی آئی لوگوں کیلئے اہمیت رکھنے والے معاملات پر اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام رہی۔عمران خان گلگت بلتستان کے آئینی حقوق ، پارلیمان میں ان کی نمائندگی اور دیگر فیصلہ سازی کے مستحق مسائل کے متعلق خاموش رہے۔وہ اپنی پارٹی کی حکومت والے صوبے خیبرپختونخوا کے ساتھ گلگت بلتستان کی حدود، طاقت اورپانی سے متعلق تنازعات کے حل کے عہد کا اظہار کرنے میں بھی ناکام رہے۔ یہاں تک کہ وہ خیبرپختونخواکے انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز میں گلگت بلتستان کے طلباء کی نشستوں کی تعداد میں اضافے کی پیشکش بھی نہ کر سکے۔ دوسری جانب،شہباز شریف نے گزشتہ انتخابات ہارنے کے باوجود، پنجاب کے تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے طلباء کی نشستوں کی تعداد دوگنا کر دی تھی۔ہو سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ سادہ ہوں لیکن وہ عملی سوچ کے مالک ہیں۔وہ ناتجربہ کار یا بے وقوف قطعی نہیں ہیں۔وہ خالی خول تحریر و تقریرپر ٹھوس اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔
ن لیگ کے لئے بھی یہ کوئی آسان سفر نہ تھا۔ انتخابات کی بساط مذہبی جماعتوں کی ڈھیرکردہ طرح طرح کی گولیوں اور لگائی ہوئی آگ سے شدید متاثر تھی۔کچھ کالعدم فرقہ وارانہ گروہ بھی نئے ناموں کے ساتھ انتخابی بازی جیتنے کی جان لیوا کوششیں کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ گروہوں کو آزادانہ گھومتے پھرتے اور گلگت بلتستان جیسے حساس علاقے میں فرقہ وارانہ نعرے لگاتے دیکھناذہن کو ماؤف کر دینے کے مترادف تھا ۔میں ہندوستان کے متعلق تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ہمارے سدابہاراور قریب ترین دوست چین نے بھی اس منظر کو ذرہ برابر بھی پسند نہ کیا ہو گا۔
ان نیم سیاسی و نیم مذہبی گروہوں نے سرعام اپنے امیدوار کھڑے کئے اوراپنی مہنگی انتخابی مہموں پر نوٹوں کی گڈیاں صرف کیں۔ ان گروہوں کی تیزرفتار اور ماہرانہ چالوں نے کئی اہم حلقوں میں مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے نہایت جامع حکمتِ عملیوں کے تحت اپنے امیدوار کھڑے بھی کئے ،بٹھائے بھی اور اتحاد بھی بنائے اور اکثر مخصوص جماعتوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایسا عین آخری لمحوں میں کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گروہوں کی ان ساری حکمت عملیوں نے بنیادی طور پر ن لیگ کے امیدواروں کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچایا۔
2015ء کے گلگت بلتستان انتخابات کا سب سے بڑا یادگار تماشا گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے حلقہ نمبر7، اسکردو 1میں ہوا جہاں ن لیگ کے اکبر خان کے سینگ پی پی پی کے سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ اور پی ٹی آئی کے جلال حسین خان کے ساتھ لڑگئے۔ جب پی پی پی کے رخصت ہونے والے وزیر اعلیٰ ایک بڑے مارجن سے ہار گئے تو ن لیگ کے اکبر خان اور پی ٹی آئی کے راجا جلال کے درمیان نہایت باریک مقابلہ ہوااور بالآخراکبر خان علاقائی فوجی قیادت اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں، دوبارہ گنتی پر ایک ووٹ سے جیت گئے۔
یہاں بھی 2مذہبی جماعتوں نے اکبر خان کے ووٹوں کا ایک بڑا حصہ ہتھیا لیا تھا۔تاہم اکبرخان ،جو گلگت بلتستان کی تینوں بڑی زبانیں بول لیتے ہیں، نے ایک وسیع البنیاد حمایت برقرار رکھی۔وزیراعظم نواز شریف کے پرانے ساتھی اکبر خان، پی پی پی کے رخصت ہونے والے وزیر اعلیٰ مہدی شاہ کو 2بار شکست دینے والے حزب مخالف کے پہلے امیدوار بن گئے ہیں، ایک بار اب اور ایک بار 3 دہائیاں قبل اسکردو کی کالج یونین کے انتخابات میں!
گلگت بلتستان کا یہ انتخابی میلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ثقافتی اختلافات کے حامل اور نسلی، مذہبی اور لسانی طور پر تقسیم شدہ اس مقام پر حکومت چلانا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اورامکان ہے کہ یہ ایک نئی آگ کو ہوا دینے کا باعث بنے گا۔ممکن ہے کہ ن لیگ کے اکبر خان کو بلتستان کے علاقے سے تعلق رکھنے والا پہلا گورنر گلگت بلتستان بنا دیا جائے۔ہنزہ کے میر غضنفر، بلتستان کے فدا ناشاداور دیا میر کے جانباز خان سمیت دیگر بھاری بھر کم اراکین بھی نمایاں عہدوں کی جانب بڑھنا چاہ رہے ہیں۔
لیکن نئی حکومت کی حقیقی آزمائش ان بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہو گا جن کا وزیر اعظم نواز شریف نے وعدہ کیا ہے۔۔۔اور انہیں ان منصوبوں پر تیزرفتاری سے عملدرآمد کرنا ہو گا۔ہر چند کہ وزیراعظم کے وعدوں میں سے زیادہ تر کی تکمیل کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے تاہم اس کے باوجود آنے والے مہینوں میں گلگت بلتستان حکومت کی کارکردگی کو حسب ذیل منصوبوں پر کام کی رفتار سے جانچا جائے گا:
1۔ بونجی کے بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا 7100میگاواٹ کا منصوبہ۔
2۔ 175کلومیٹر طویل، گلگت اسکردو سڑک کی تعمیر کا منصوبہ۔یہ واحد سڑک ہے جو سیاچن اور کارگل کی سرحدوں سے ملاتی ہے اور یوں یہ منصوبہ فوج کیلئے بھی مساوی اہمیت کا حامل ہے۔
3۔ گلگت میں20میگاواٹ کا ہنزہ ہائیڈروپاور کامنصوبہ۔
4۔ گلگت اور اسکردو ایئرپورٹس کی ترقی۔ انتخابات کے ایک ہفتے بعد،ایئربس 320کی ٹیسٹ فلائٹ کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اب امکان ہے کہ باقاعدہ اس ایئربس کی باقاعدہ فلائٹ جلد شروع ہو جائے گی اور یوں سیاحت کو فروغ ملے گا۔
5۔ ہنزہ، نگر، شِگر اور کھرمنگ کے نئے اضلاع بنائے جائیں گے۔
6۔ اسکردو شہر میں بلتستان یونیورسٹی کا قیام۔
اور آخری، لیکن بڑی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کو اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ملک کے تجربہ کارخارجہ حکمت عملی کے مشیر ، وزیراعظم کی آئینی اصلاحات کمیٹی کے سربراہ، سرتاج عزیز،اسلام آباد میں ن لیگ کی حکومت کے باقی ماندہ عرصے کے دوران گلگت بلتستان سے متعلق سفارشات کے وقت سو نہ جائیں۔ گلگت بلتستان کے غیر متعین شدہ سٹیٹس سے متعلق ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تیز بیانات اور پاکستان اور چین کے معاشی راہداری میں ہمالیہ سے بلند تر رشتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرتاج عزیز کو اس معاملے پر اندیشوں کا شکار نہیں رہنے دینا چاہئے۔
حکومت کے اندر اور باہر کے لوگوں کو اس سٹریٹجک بنیادوں پر ناگزیر ’علامتی صوبے‘ کی تشکیل کے منصوبے کو واضح کرنے کیلئے کمیٹی پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہئے، کم از کم اسے کشمیر کے تنازعے کے حتمی فیصلے تک ایک ’عارضی آئینی صوبہ‘ تو بنا ہی دینا چاہئے۔ہاں، صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کے حمایتی کچھ ہندوستانی، امریکی اور کشمیری سیاستدان احتجاج کریں گے، لیکن بالآخر وہ بھی سمجھ جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *