انتشار سے اتحاد تک !!

azharانتشار کمزوری ہے ۔۔۔اتحاد اور اتفاق ‘طاقت!! نااتفاقی ہماری کمزوری ہے۔ ایک دوسرے کی غلطیاں اور عظمتیں برداشت نہ کرنا ‘ ہماری کمزوری ہے۔۔۔ یہ کمزوری من حیث القوم بھی ہے، من حیث الامت بھی!! کمزوری پہلے فکر میں رونما ہوتی ہے پھر عمل میں۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں’’حال کی اصلاح کیلئے خیال کی اصلاح ضروری ہے‘‘۔ فکر میں کمزوری کی وجہ تضادِ فکر ہے۔ فکر میں تضاد فکر کو یکسو نہیں ہونے دیتا۔۔۔ اور جب تک فکریکسو نہ ہو‘ عمل میں یکسوئی پیدا نہیں ہوتی۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم فکری انتشار کا شکار ہیں۔ جانا کہیں اور چاہتے ہیں ‘ پہنچ کہیں اور جاتے ہیں۔ہمارے اجتماع ‘ اجتماع بین الضدین ہوتے ہیں۔ جب تک اندر اور باہر ضد ختم نہیں ہوتی ۔اتحاد کے نام پر بڑے بڑے اجتماع درحقیقت ہجوم اکٹھا کرنے کی مہم کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ اجتماعِ وحدت کے نام پریہ مظاہرے اپنی گروہی شان و شوکت، دعوت اور دعووں کا ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے۔ مسابقت بالآخرمنافرت کو جنم دیتی ہے۔۔۔ جبکہ مدعائے سفر حصولِ وحدت تھا۔ فکر ی انتشار اوّل توہمیں آمادۂ عمل نہیں ہوتا‘ اور اگر عمل کا رخ اختیار کر بھی لیں تو عمل میں استقامت میسر نہیں آتی۔ درحقیقت جب تک فکر میں استقامت نہ ہو ‘ عمل میں مداومت پیدا نہیں ہوتی۔ زمان و مکاں کے ناقابلِ تسخٰیر قلعے میں نقب لگا نے کیلئے خیال کی یکسوئی اور عمل کی استقامت دونوں بہت ضروری ہیں ۔ ایک ڈرل مشین اپنی محوری گردش میں یکسو ہونے کے باعث سخت دھاتوں، چٹانوں میں سوراخ کر دیتی ہے۔ پانی کا ایک معمولی قطرہ پتھر پر لگاتار گرتا رہے تو اپنے ہونے کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔محدب عدسے سے گزرنے والی بظاہر کمزور اور ٹھنڈی شعائیں جب ایک نقطے پر مرکوز کردی جاتی ہیں تواپنی حدت اور قوت میں حیرت انگیز بھی ہو جاتی اورحرارت انگیز بھی ۔اسی طرح فکر و عمل کو جِلا بخشنے کیلئے فکری صلاحیتوں کا ایک نقطے کے گرد محوِطواف ہونا ضروری ہے۔۔۔ اور یہ نقطہ نکتۂ وحدت ہوتا ہے۔ منتشر خیالی لفظوں سے ربط اور رویوں سے ضبط چھین لیتی ہے۔جب لفظ ہی کوئی صورت اختیار نہ کریں‘ تو عمل کیسے صورت پذیر ہو ۔ یکسو عمل یکسو خیال طلب کرتا ہے۔خیال کا سوفٹ وئیر ہی ٹھوس عمل پیداکرنے کا باعث ہوتا ہے۔ متضاد سوچیں اور رویے اجتماعی عمل کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتے ۔ ہم قوموں کی برادری میں عروج چاہتے ہیں ۔۔۔ لیکن مروجہ علوم کے حصول کی تگ و دَو میں بے نیازی برتنا اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ درحقیقت علم حاصل کرنے کیلئے میدانِ عمل میں اترنا ہوتا ہے۔ عمل سے گریزاں افراد سے علم بھی گریز کر جاتا ہے۔ ہم روحانی مقام چاہتے ہیں لیکن دنیاوی مال ،مفاد اور مرتبہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔۔۔ ایں خیال است و محال است و جنوں!!
آمدم برسرِ مطلب ۔۔۔انتشار کو اتحاد میں بدلنے کیلئے لائحۂ عمل چاہیے۔۔۔ محض جلسے جلوس اور مذاکرے نہیں۔ کمزوریاں یک جا ہوجائیں توطاقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ہماری علیحدہ علیحدہ طاقتیں دراصل جز وقتی طاقتیں ہیں اور کل وقتی کمزوریاں! تا دمِ تحریرمسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب اور مسلمان ملکوں کی تعدادپچاس کے قریب ہے ۔۔۔ لیکن افسوس پچاس میں سے پانچ مسلم ممالک بھی ایسے نہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہوں۔ ہم فکری طور پر ایک دوسرے سے سے کس قدر دُور ہیں ‘ اِس کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی مسلمان کسی برادر اسلامی ملک کی سیاحت کاقصد کرتا ہے۔ اجنبی رویوں کی ابتدا تو ویزہ کونسلیٹ کی’’ زیارت‘‘ کے ساتھ ہی ہوجاتی ہے۔ کسی اسلامی ملک کا سفارتخانہ آپ کیساتھ وہی سلوک کرتا ہے ‘جوکوئی بھی غیر اسلامی یورپی ملک کرنے کا عادی ہے ۔ایک دوسرے پر عد م اعتماد اور دوسروں پر اندھااعتماد کرنے کا عالم یہ ہے کہ ہمارا ہی مسلمان بھائی اگریورپی پاسپورٹ پر سفر کر رہا ہو تو اس کیلئے دل کے دروازوں سے لے کر سفارت خانوں کے دروازوں تک سب کشادہ ہوجاتے ہیں۔
انتشار‘ اتحاد میں بدلے ۔۔۔تو اتحاد وحدت میں ڈھلتا ہے۔جب تک ہم ایک دوسرے سے جد ا ہیں ‘ کمزوریوں کی داستانِ بے کسی ہیں۔۔۔ اکٹھے ہوجائیں تو قوتِ بے مثال بن جائیں۔ کمزوریاں قوت میں بدل سکتی ہیں ۔۔۔اگرایک کی کمزوری دوسرے کی قوت نہ بنے ۔۔۔ اورکسی ایک کی قوت دوسرے کی کمزوری نہ بنے!! پہلی صورت استحصال کی ہے‘ دوسری حسد کی!! ہمیں ایک دوسرے کے قریب ہونے کیلئے کچھ بھی نہیں کرنا ہوگا۔۔۔ سوائے اپنے نسلی ،لسانی اور فقہی تعصبات کو دُور کرنے کے!! ایک دوسرے کے قریب ہونے کیلئے جھکنا پڑتا ہے‘ دُور جانے کیلئے صرف اکڑنا کافی ہے۔ بدقسمتی سے ہم افغانی ، ایرانی ، ترکی ، شامی، عراقی پہلے ہیں اور مسلمان بعد میں۔۔۔ کلمۂ وحدت کی بے ادبی اس سے بڑھ کراور کیا ہوگی؟ الحمدللہ ! پاکستان دنیا کے نقشے پر واحد ایسا ملک ہے جس کے شہری خود کو سب سے پہلے مسلمان اور پھر پاکستان کہتے ہیں۔ لاکھ خرابیوں کے باوجود ابھی تک کلمۂ وحدت ہی پاکستان کی پہچان ہے۔ پاکستان میں مختلف قومیتوں ، زبانوں اور تہذیبوں کا موجود ہونا اس کی کمزوری نہیں ‘ بلکہ طاقت اور پہچان ہے۔ ہماری علاقائی عصبیت ‘ ہماری دینی شناخت پرغالب نہیںآتی ۔وحدت کی آواز، تمنااور تڑپ ابھی تک یہیں سے اٹھتی ہے ، یہیں دکھائی اورسنائی دیتی ہے ۔ وحدتِ ملتِ اسلامیہ کا موضوع سب سے زیادہ اسی ملک میں زیرِبحث رہتا ہے۔ اختلاف کو اتفاق تک اور اتحاد کو وحدت تک لے کر آنا مسلم مفکرین کی اوّل فکری ترجیح ہونی چاہے۔ اختلاف ہمیں چھوٹا کر دیتا ہے ‘ اتفاق بڑا کردے گا۔۔۔خود اپنی نظر میں بھی اور غیر کی نگاہ میں بھی!! اگر ہم دل بڑا کر لیں تو اختلاف چھوٹے رہ جائیں گے۔ دل تنگ پڑجائیں تو ملک، مکان اور مسجدیں ایک دوسرے کیلئے چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔اگر ہم دل بڑا کرکے ایک دوسرے کیلئے اپنے بارڈرز کو ویزا فری کر دیں تو وحدتِ ملتِ اسلامیہ کی طرف یہ ایک پہلا عملی قدم ہوگا۔ تمام مسلم ممالک ایک دوسرے کیلئے ویزا فری انٹری کردیں تو افرادی قوت مالی قوت سے یک جان ہوکر ایسی معاشی اور دفاعی قوت کی صورت اختیار کرلے کہ ناقابلِ تسخیر ٹھہرے ۔ ذرا تصور کریں‘تین براعظموں تک پھیلی ہوئی ایک ایسی گرینڈ مسلم یونین کا‘ جس کا رقبہ ایک کروڑ پچاس لاکھ مربع میل ہے ، جس کے پاس تیل کے چشمے ،سونے کی کانیں،قیمتی دھاتیں،بے شمار قدرتی وسائل سے بھرپور پہاڑ ‘ جنگل، صحرا اور وسیع سمندر ہیں ۔۔۔ اوراس کے ساتھ ساتھ وہ پیشہ ور فوج، ایٹمی قوت، عظیم سائنسدانوں، صوفیوں اوردانش ور وں کی قوتِ خیال سے بھی مالا مال ہے۔ تعصبات کے بادل چھٹ جائیں تو سلطنتِ اسلامیہ پربھی سورج غروب نہ ہوگا۔ فی الوقت مسلمان ملکوں کی یونین ایک دیوانے کاخواب نظر آتا ہے لیکن اِس خواب اور خیال کاسرا کبھی تو کسی صاحبِ اَسرار فرزانے کے ہاتھ آئے گا ۔۔۔اور صدیوں سے اُلجھی ہوئی ڈور برسوں میں سلجھ جائے گی۔ مشکل ضرور ہے ‘ناممکن نہیں۔ بس یہ قدم اٹھانے کی دیر ہے کہ مسلم دنیا میں سیاحت سے لیکر تجارت تک سب مندرجات کے بھاگ جاگ اٹھیں گے اور استحصال کرنے والی استعماری طاقتیں ایک ایک کر کے بھاگ کھڑی ہوں گی۔ اگر یورپی ممالک صدیوں کی خون ریزیوں اور جنگوں کے بعدمعاشی فوائد کیلئے اپنی سرحدوں کو ایک دوسرے کیلئے کھول سکتے ہیں ، ایک کرنسی میں کاروبار کر سکتے ہیں تو اسلامی ممالک کیلئے بھلا یہ ناممکن کیوں ہے۔۔۔ ہمارے فوائد میں تودینی اور دفاعی فوائد بھی شامل ہیں۔ ہر کام کے آغاز میں انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن رفتہ رفتہ اُن پرقابو پانے کا سلیقہ بھی پیداہوجاتا ہے۔ بھلے ہر شہری اپنے ملک کے پاسپورٹ کو بطور شناخت ساتھ رکھے، بھلے ہر ملک اپنا ملکی قانون اور نظامِ حکومت برقرار رکھے ۔۔۔ لیکن آمد ورفت کیلئے مسلمان ممالک آپس میں ویزے کی بندش ختم کر دیں۔ طرز فکر ایک ہو جائے توجغرافیائی فاصلے آج کے ہوائی سفر اور خلائی مستقر کے دَور میں بے معنی ہوجاتے ہیں۔ وحدتِ فکر پیدا ہوجائے تو اتحاد سے وحدت کا سفر دُور نہیں۔ جس دن مسلم ممالک ایک دوسرے کیلئے اپنے بارڈرز کوویزا فری کر دیں گے‘ اگلے ہی دن قدرتی طور پر ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ جب معیشت مشترک ہوجاتی ہے تومشترکہ دفاع بھی سب کی مجبوری بن جاتی ہے۔ دہشت گردی کے ناسور سے مکمل نجات بھی ایسی ہی صورت میں ممکن ہے۔مشترکہ دفاعی اعلانیہ اور معاشی بیانیہ فلسطین،کشمیر، بوسنیا اورروہنگیا مسلمانوں کی کسمپرسی کو ختم کر دے گا ۔سب مسلمان ممالک ایک ہی قلعے کے اندر قائم گویا پچاس گھر نہیں‘ بلکہ پچاس چوکیاں بن جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کے گھر جانے کیلئے کلمے کا ویزا کافی ہے۔ جب جنت میں جانے کیلئے کلمہ ایک ویزہ قرار پایا ہے توایک مسلمان کو کسی اسلامی ملک میں جانے کیلئے کسی اور ویزے کی کیا ضرورت ہے؟ کلمے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا یہ ایک عملی قدم ہوگا۔ کاش! توحید کا یہ سبق بھی ہمیں کوئی پڑھائے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *