الباکستان کی جانب ایک اور قدم

al bakistanایک سوال عام طور پر اٹھایا جاتا ہے کہ مسائل کی نشاندہی توکی جاتی ہے، مسائل کا حل کیونکر نکلے گا؟ اس سلسلے میں سب سے پہلے مسائل کا تعین کرنا بے حد ضروری ہے۔ حکمران طبقوں کی جانب سے بنائی جانے والی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ریاست کو صدیوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔ غلطیوں کی نشاندہی کے بعد ان کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ہاں صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ تو در کنار، ہمارے رہنماﺅں کو احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کا ایک غلط دستخط عوام کو صدیوں تک بھگتنا پڑے گا۔ موجودہ حکومت نے حالیہ دنوں میں ایک ایسا ہی غلط دستخط کیا ہے جو بظاہر تو معمولی نظر آئے گا اور اس پر تنقید کرنے میں عوام کی عقیدت آڑے آئے گی لیکن آنے والے وقتوں میں اس کے اثرات عوام ہی کو بھگتنا ہوں گے ۔

1977ء میں فوجی بغاوت کو ’آپریشن فیئر پلے ‘ کا نام دے کر جس قسم کی اَن فیئر گیم اس ملک کی عوام کے ساتھ کھیلی گئی ، اس کی قباحت ابھی تک دور نہیں ہو سکی۔ 5جولائی 1977ءکی رات نہ تو کوئی مارا گیا اور نہ کہیں خون کا ایک قطرہ نہ بہا لیکن.... اس کے بعد سے آج تک اس وطن کی مٹی عوام کے خون ناحق سے سینچی جا رہی ہے۔ ہمسایہ ملک افغانستان کے معاملے میں کئے گئے فیصلوں کے نتائج بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔افغان بارڈر پر پھینکی گئی چنگاریوں کو جب ہوا ملی تو آگ نے سرحد پار کر لی۔ خدا کے نام پہ بننے والا یہ ملک اب تک جل رہا ہے۔ ہماری عوام کے جو جذبات انڈیا کے معاملے ہیں اسی قسم کے جذبات افغانیوں کے ہمارے معاملے میں ہیں۔کھیل کھیلنے والوں میں جنرل ضیا اور اس کی ٹیم کے علاوہ غیر ملکیوں کاپریشرپلس خواہشات اور ان کی جانب سے ملنے والا معقول منافع بھی اس کھیل کو توانا اور رواں رکھنے میں اہم رہا۔غرض یہ کہ آج تقریبا ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ جنرل ضیا ، اس کا دور اور اس کے دور میں کئے جانے والے فیصلے، اس ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ضیا دور میںمُلائیت کے جو بیج بوئے گئے ان کی مثال شہتوت کے ان بیجوں کی سی ہے جو اسلام آباد کی پیدائش بطور دارلحکومت پر پورے اسلام آباد میں ایک جنرل کے آرڈر پر بذریعہ ہیلی کاپٹر پھینکے گئے اور جب وہ تن آور درخت بنے تو عوام کو بیمار کرنے لگے ۔نتیجتاًآج ان کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ اس قدر ڈھیٹ ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں آتے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ماضی کے ذکر میں وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور لکیر کیوں پیٹی جا رہی ہے ؟لکیر اس لئے پیٹی جا رہی ہے کہ سانپ مرا ہے نہ اس کے زہر کا اثرختم ہوا۔۔۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات کی منظوری دے دی ہے جن میں مقدس مذہبی ناموں کا ترجمہ کرنے پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی تھی۔ مثلاً گاڈیا خدا کی بجائے صرف اللہ لکھنے کی اجازت ہو گی۔اسی طرح انگریزی میں بھی prophet کی بجائے رسول ، نماز یا prayer کی بجائے صلوٰة اور mosque کی جگہ صرف مسجد لکھا جائے گا۔ موجودہ عدم رواداری کی فضا میں اس پابندی کی دانستہ یا نا دانستہ خلاف ورزی کی سزا کا تصور کیا جا سکتا ہے ۔ مطلب واضح ہے کہ تفرقہ بازی کے نئے باب کھولے جا رہے ہیں۔ فرقہ واریت کو تقویت بخشی جا رہی ہے۔ قوم کو کبھی انگریز تو کبھی عربی بنانے کی کوششیں کر کے مزید الجھیڑوں کے سپرد کیا جارہا ہے۔تعجب ہے کہ پاکستان بھر میں ایک خاص مکتب فکر نے اپنی گاڑیوں پر ’الباکستان‘ کی نمبر پلیٹ لگا رکھی ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ غرضیکہ ماضی کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے سبق سیکھنے کی بجائے مزید الجھنوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ عوام کو تعمیری کاموں کی طرف لے جایا جائے اور تعمیریقینا تعلیم ہی سے ممکن ہے ۔

(تبسم ضیاء )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *