دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین: چند معروضات

        Ashraf qامن و امان کی صورت حال بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر رہنے والے پاکستانیوں نے صورت حال سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ انہیں اب امن و امان کی صورت حال معمول کی صورت حال معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس کا اتنا زیادہ اثر نہیں لیتے۔ وہ اپنے معمولات زندگی جاری رکھتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی امن و امان کی صورت حال، جرائم اور دہشت گردی کی وارداتوں کی خبریں سُن کر ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔ بطور خاص وہ پاکستانی جواب ریٹائرمنٹ کے بعد بقیہ زندگی پاکستان میں گزارنا اور وطن کی مٹی میں دفن ہونا چاہتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکہ میں پیٹریاٹ ایکٹ کے نام پر ایک قانون نافذ کیا گیا، جس میں بہت سے آئینی حقوق ختم کر دئیے گئے۔ آئین پسند حلقوں نے اس پر بہت شور مچایا، لیکن اُس وقت ایک ایسی فضا تیار کر دی گئی تھی کہ ان حلقوں کی کسی نے نہیں سُنی۔ اس غیر آئینی قانون کی سب سے بڑی زد تارکین وطن پر پڑتی ہے، اس لئے سیاسی حلقوں نے بھی اس پر کوئی زیادہ ردعمل نہیں دکھایا۔ بش دُور میں جب یہ قانون لایا گیا تو آئینی حقوق کے علم بردار ڈیموکریٹس نے اس قانون کی مذمت کی اور اس کے خاتمے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ صدر اوباما نے اپنے انتخابی وعدوں میں اس قانون کو ختم کرنے کا تو نہیں، البتہ اس میں ترامیم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ ان کے عہد حکومت میں جب اس قانون کی مدت ختم ہو رہی تھی تو کانگریس نے اس میں پھر توسیع کر دی۔ اس بات پر صدر باراک اوباما سے آئین پسند حلقے بہت ناراض ہوئے تھے۔ ری پبلیکنز اگرچہ بحیثیت جماعت اس قانون کے حق میں ہیں، کیونکہ یہ ری پبلیکن کے دور میں لایا گیا تھا، لیکن ری پبلیکن میں شامل لبرل اس کے خلاف ہیں، کیونکہ لبرل ہر قسم کے قوانین کے مخالف ہیں ۔ وہ حکومت کو عوام کی زندگی میں کم سے کم دخل دینے کے حامی ہیں اور آئین کو اس کی حقیقی صورت میں نافذ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکہ میں آئے روز ہونے والی اندھادھند فائرنگ کی وارداتوں پر ڈیموکریٹس اور دوسرے کئی حلقے اسلحہ پر کچھ پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں اسے ”گن کنٹرول“ کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن این آر اے (نیشنل رائفل ایسوسی ایشن) بہت طاقتور تنظیم ہے، جو ایسا کوئی قانون نہیں آنے دیتی۔ اس تنظیم کو اُن لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہے جن کی دلیل یہ ہے کہ امریکیوں کو ہتھیار رکھنے کا حق آئین کی دوسری ترمیم (حقوق سے متعلقہ ترامیم) کے تحت دیا گیا ہے، اس لئے ہتھیاروں پر پابندی لگانے کا مطلب ایک آئینی حق کا خاتمہ ہوگا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتیں اسی طرح کسی حق کے تحفظ کے نام پر عوام کے آئینی حقوق سلب کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ اگر آج ہتھیار رکھنے کے آئینی حقوق پر سمجھوتہ کر لیا گیا تو پھر آئینی حقوق کو حیلوں، بہانوں سے ختم کرنے کا سلسلہ چل نکلے گا۔ ہتھیاروں پر پابندی کے مخالفین یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ جس قدر لوگ آتشیں ہتھیاروں سے مرتے ہیں، کم و بیش اتنے ہی لوگ گاڑیوں سے کُچل کر مر جاتے ہیں تو کیا گاڑیوں کو بھی قاتل ہتھیار قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی جائے؟.... یہ حلقے امریکہ میں خونیں وارداتوں کا ذمہ دار ہیجان خیز فلموں، تشدد سے بھرپور پروگراموں اور بچوں کی گیمز کو قرار دیتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قانون وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن ہمیں اس سلسلے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ آئینی حقوق کو سلب کرنے کا سبب تو نہیں بن رہا۔ اس نئے قانون کی جتنی تفصیلات سامنے آئی ہیں، اُن کے مطابق گواہوں کو تحفظ دینے کا اہتمام کیا گیا ہے جو ایک اچھی بات ہے، بلکہ اسے مزید مو¿ثر بنانا چاہئے۔ گواہوں کے تحفظ کے قانون کو مو¿ثر بنانے کے سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہاں امریکہ میں ایسے گواہ کا نام مقدمے میں نہیں دیا جاتا، حتیٰ کہ ملزم کے وکیل کو جو دستاویزات مہیا کی جاتی ہیں، اُن میں گواہوں کے نام کی بجائے عدالتی گواہ نمبر ایک، نمبر دو وغیرہ سے اُن کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ ایف بی آئی تو کیس ایسا بناتی ہے کہ ملزم کو اقبال جُرم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا، اس لئے ان گواہوں کو اکثر عدالت کے سامنے پیش کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اگر ضرورت پڑ جائے تو پھر ان کی گواہی، جرح وغیرہ خفیہ طور پر لی جاتی ہے اور گواہوں کے ناموں کا انکشاف کرنے والے وکیل یا کسی اہل کار کا سزا سے بچنا محال ہے۔

بعض ایسے گواہ جنہیں بہت ہائی پروفائل مقدمات میں پیش کرنا پڑتا ہے، اُن کی شناخت تبدیل کر دی جاتی ہے اور انہیں کسی دور دراز مقام پر آباد کر دیا جاتا ہے۔ ابھی تک بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی گواہ کو ڈھونڈ کر قتل کر دیا گیا ہو۔د ہشت گردی کے نئے قوانین میں گواہوں کے اس قسم کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قانون میں تبدیلی کر کے یہ شامل کیا جائے کہ کسی ایسے مقدمے میں اگر کوئی گواہ غیر فطری موت سے دو چار ہو تو سب سے پہلے اُس پارٹی کے خلاف اس کے قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے جس کے خلاف اُس نے گواہی دی تھی اور ایسے مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر نہ چھوڑا جائے۔ گویا گواہ کی غیر فطری موت کی صورت میں اس بات کو پہلا ثبوت سمجھا جائے کہ اُس فریق کے لئے قتل کا جواز موجود تھا، جس کے خلاف گواہی دینے سے اُس فریق کو سزا ہو سکتی تھی۔

گواہی کے سلسلے میں گواہ کے منحرف ہونے کی صورت میں انحراف کی سزا بھی ہونی چاہئے۔ یہ ایک بہت موثر قانون ہے، اس سے عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں بہت مدد ملتی ہے۔ پاکستان میں ملزم اقبالِ جُرم کر کے عدالت میں اس بیان سے منحرف ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی ضروری ہے کہ تفتیشی حکام ملزم کے اقبالِ جُرم کو کسی اعلیٰ افسر کے سامنے ریکارڈ کرائیں، جس کی باقاعدہ ویڈیو بنے ۔ اس بیان سے انحراف کا کوئی امکان نہیں ہونا چاہئے ، اگر کوئی انحراف کرے تو اسے جُرم کی سزا کے ساتھ ساتھ انحراف کی سزا بھی ملنی چاہئے۔ اس ضمن میں ہمارے وکلاءکو وکالت کے ضابطہءاخلاق کا پابند بنانا ضروری ہے۔ امریکہ میں کوئی وکیل کسی مجرم کو اُس کے جرم کی سزا سے بچانے کا دعویٰ کرتا ہے، نہ مو¿کل سے وعدہ کرتا ہے۔ اگر اُس کے مو¿کل کے خلاف غلط مقدمہ بنایا گیا ہے تو وہ اس کا دفاع کرتا ہے یا بعض اوقات پولیس یا ایف بی آئی اصل جرم کے ساتھ ساتھ ڈھیروں دوسری دفعات بھی لگا دیتے ہیں تو وکیل کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زائد از جرم دفعات کو ختم کرا کے سزا کم کرا سکے۔ وہ اپنے مو¿کل کو صاف کہتا ہے کہ جو جرم اُس نے کیا ہے، اُس کا اعتراف کر لینے کے بعد ہی اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔

وکیل اپنے مو¿کل کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دینے پر لائسنس سے محروم ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں وکلاءکو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے، مَیں نے فلاں مقدمے میں دن دہاڑے قتل کرنے والے کو صاف بچا لیا اور اس وجہءشہرت سے تمام قاتل اُس کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں، تاہم یہ ایک مشکل کام ہے۔ وکلاءکو ضابطہءاخلاق کا پابند بنانے کی کوشش بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے....کچھ اقدامات ایسے ہیں جو فوری طور پر ممکن نہیں، لیکن انہیں رفتہ رفتہ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو پولیس کی بھرتیوں کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں سفارشی بھرتیوں کا سلسلہ بند ہو جائے ۔ تھانوں میں پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔ پولیس کی گارڈز ڈیوٹیوں کا سلسلہ ختم کیاجائے۔ اس کے لئے کوئی دوسری فورس بنائی جائے۔ تھانوں میں تفتیشی عملہ بالکل الگ سے ہو، جس کا کام صرف تفتیش کرنا ہو۔ پولیس کو اپنے مخبروں سے کام لینے کے لئے باقاعدہ فنڈز دئیے جائیں۔ یہ مخبر بعض اوقات جرم کا کھوج لگانے میں بہت مو¿ثر ثابت ہوتے ہیں۔ ان مخبروں کو خفیہ رکھا جائے۔

پولیس حکام اور عوام کو موقعہءواردات کی حساسیت سے آگاہ کیا جائے۔ اکثر مواقع پر پولیس حکام، واردات کے شکار کے لواحقین یا اردگرد کے لوگ موقعہءواردات کو بُری طرح مسخ کر دیتے ہیں، جس سے واردات کے نہایت ضروری ثبوت مٹ جاتے ہیں۔ موقعہءواردات سے یا کسی بھی طرح واردات کے سلسلے میں ثبوتوں کو ضائع کرنے یا مٹانے کی صورت میں سخت سزا ہونی چاہئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی جگہ کو دھو ڈالنے والوں نے سنگین جُرم کا ارتکاب کیا تھا، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ جس تفتیشی افسر کا کیس عدالت سے مجرم کو سزا دلانے میں ناکام رہے، اس کی اے سی آر میں اس کا اندراج ہونا چاہئے۔ جب ایسے تین اندراجات ہو جائیں تو ایسے افسر کی تنزلی ضروری ہو جانی چاہئے۔ تین سے زائد ناکامیوں کی صورت میں ملازمت کا خاتمہ بھی ضروری ہو۔ امریکہ میں مقدمے کی ناکامی کی صورت میں تفتیش کرنے والے افسر کے مستقبل پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور بعض مقدمات کی ناکامی پر ڈسٹرکٹ اٹارنی (ہمارے ہاں پراسیکیوٹر یا سرکاری وکیل) کو مستعفی ہونا پڑتا ہے۔

پولیس یا رینجرز کو گولی مارنے کے اختیارات دینا سراسر غیر آئینی ہوگا ، اس سے پولیس اور رینجرز وغیرہ کو لوگوں کو قتل کرنے کا لائسنس مل جائے گا۔ وہ جسے چاہیں گے قتل کر ڈالیں گے یا قتل کر ڈالنے کے اختیار کا خوف دلا کر بھاری رشوت وصول کریں گے۔ حفاظت خود اختیاری میں گولی چلانا کسی کے لئے بھی منع نہیں ہے، لیکن اس کا استعمال بھی صرف اسی حد تک ہونا چاہئے، جس سے خطرے کو ٹالا جا سکے۔ اگر کسی کی ٹانگ یا ہاتھ پر گولی مار کر اپنی جان بچائی جا سکتی ہے تو اُس کے سر میں یا سینے میں گولی مارنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حفاظت خود اختیاری میں گولی چلانے کے بارے میں بھی عدالتیں فیصلہ کریں کہ ضرورت سے زیادہ فورس تو استعمال نہیں کی گئی۔ اس اختیار نے امریکہ میں بھیانک صورت اختیار کر لی ہے۔ اس اختیار کے باعث گورے اور متعصب پولیس افسروں کے ہاتھوں کالے اور تارکین وطن عوام اکثر موت کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور اکثر پولیس والے عدالتوں سے بَری ہو جاتے ہیں۔

 پولیس کو ملزم کو نوے دن تک اپنی تحویل میں رکھنے کا اختیار بھی محل نظر ہے، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ موجودہ اہلیت اور قابلیت کی پولیس جو تفتیش تیس دن میں نہیں کر سکتی، وہ نوے دن کیا، سال بھر میں بھی نہیں کر سکتی۔ نوے دن کی وجہ سے پولیس مزید تساہل کا شکار ہو جائے گی اور نوے دن تک تفتیش کرنے سے اس کے رشوت کا بھاو¿ بہت بڑھ جائے گا۔ جب تک مندرجہ بالا اصلاحات نہیں ہوتیں، جن سے تفتیشی افسر کو ناکامی کی صورت میں محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے، تب تک تفتیش کی مدت کو طول دینا فائدہ مند نہیں ہوگا۔ البتہ ججوں کو تیس دن کی بجائے پینتالیس دن فیصلے کے لئے دئیے جائیں اور ابتدائی سماعت کی عدالتوں میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ عدالتوں میں مقدمات کے انبار دیکھ کر یہ کہنا کہ جج مقدمے کا فیصلہ تیس روز میں کر لے گا، ایک اچھی خواہش تو ہو سکتی ہے، عملی طور پر بے حد مشکل امر ہوگا .... اگر ججوں پر مقدمات کی تعداد اور محدود مدت میں فیصلوں کا دباو¿ آئے گا تو غلط فیصلے ہوں گے۔ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لئے بار بار تاریخ لینے کے قانون کو تبدیل کر نا ہوگا، کسی فریق مقدمہ کو بار بار مہلت طلب کرنے کے تمام بہانوںکا خاتمہ کرنا ضروری ہوگا۔ اس سلسلے میں جج حضرات بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے نئے قانون میں ججوں کی تجاویز کو شامل کرنے کا ضرور اہتمام ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثبوت کے خاتمے کے لئے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ تفتیش کی کمزوری سے بھی زیادہ بیشتر مقدمات کو طاقتور رشوت کمزور دیتی ہے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *