انسانی تحفظ اور ہماری سیاسی ترجیحات

khadim hussainپاکستان کے مشہور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990کی دہائی میں انسانی تحفظ کا تصور پیش کردیا۔ 16مارچ 1992کو ہیگ میں اقوام متحدہ کے انسانی ترقی کے پلیٹ فارم سے اپنی ایک تقریر کے دوران ڈاکٹر محبوب الحق نے کہا " میرا یہ پختہ یقین ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہونے والی ہے جس میں تحفظ اور دفاع کے تمام اجزاءمکمل طور پر تبدیل ہوجائیں گے۔ تحفظ اور دفاع کو عام انسان کی ضرورت بھی سمجھا جائے گا۔ محض جعرافیائی دفاع کا تصور معدوم ہوجائے گا۔ دفاع اور تحفظ کو محض فوجی قوت اور جنگ کی ٹیکنالوجی کی بنا پر نہیں جانچا جائے گا، اس کے جانچنے کے پیمانے میں انسانی پائیدار ترقی کا لازمی عنصر شامل ہوجائے گا۔ انسانوں کو انکے گھروں، محلوں، ملازمتوں اور ماحول میں بھی تحفظ حاصل کرنے کی سعی شروع ہوجائے گی۔ انسانی تحفظ کو کائناتی، عالمگیر اور غیر منقسم تصور کیا جائے گا۔"

2000ء میں جب اقوام متحدہ نے ہزار سالہ ترقیاتی اہداف کا اعلامیہ جاری کردیا تو ایک طرح سے ڈاکٹر محبوب الحق، امرتیا سین اور اس طرح کے دیگر دانشوروں کے تصورات کی توثیق تھی۔
غور سے دیکھا جائے تو انسانی تحفظ یا عدم تحفظ تین بنیادی اجزاءکا مرکب ہے۔ پہلا جزو انسانوں کی بنیادی ضروریات ہیں- یہ وہ ضروریات ہیں جن کے بغیر انسان اپنا جسمانی وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ان میں خوراک، پانی، علاج معالجے کی سہولیات اور تعلیم و ہنر کے ادارے شامل ہیں۔ انسانی تحفظ کا دوسرا جزو وہ ہے جسے ارد گرد کے ماحول اور معاشرے نے تراشنا ہے۔ اس جزو میں تمام معاشرتی اور سماجی عناصر کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ جیسے صنفی امتیاز اور عدم امتیاز، پسے ہوئے طبقات کیلئے مواقع کا حصول یا عدم حصول، معاشی وسائل کی دستیابی اور عدم دستیابی، ہر دم بڑھتی ہوئی ابادی اور اس طرح کے دیگر عناصر۔ یہ عناصر بھی انسان کی اجتماعی زندگی کی بقا کے لئے لازمی ہیں۔ انسانی تحفظ کے تیسرے جزو میں فطری ماحول اور ماحولیاتی تبدیلی کے عناصر شامل ہیں۔ یہ عناصر اس سیارے کی بقا کے لئے ضروری ہیں جس پر انسان فی الوقت آباد ہیں۔
پچھلی نصف صدی میں جن ریاستوں نے انسانی تحفظ کے اس فریم ورک کو اپنی سیاسی ترجیحات کی بنیاد قرار دیا، انہوں نے اپنے شہریوں کیلئے ناقابل یقین آسانیاں پیدا کرلیں۔ اس کے نتیجے میں ان ریاستوں کے اشرافیہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ سول سماج کو اپنے ڈھب پر لانے اور ان میں حب الوطنی پیدا کرنے کیلئے عجیب و غریب ہتھکنڈے استعمال کرے۔ ان ریاستوں میں چند مشترک رجحانات نظر آتے ہیں۔ ان میں پہلا قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے سماجی، سیاسی اور تخلیقی ازادی کے تصورات اپناکر نئے علم کی تخلیق کے راستے وا کرلئے۔ دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ ان ریاستوں نے عمومی انسانی تہذیب کے ساتھ رہتے ہوئے دیسی تہذیبوں اور ثقافتوں کی تاریخی اور اجتماعی دانش کی بنیاد پر سیاسی اور اقتصادی ادارے کھڑے کئے۔ ان ریاستوں میں تیسری قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے اجتماعی طور پر سماج کے اندر منطقی سوچ اور تجرباتی علم کو پروان چڑھایا۔
پاکستان کے اندر سیاسی ترجیحات کا طے ہونا ابھی باقی ہے۔سول سماج کے مختلف گروہوں اور اداروں نے اسکی ذمہ داری اٹھانی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا، محققین ، سول سماج کی تنظیموں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور ادبی تنظیموں نے اس میں اپنا پنا حصہ ڈالنا ہے۔ پاکستان کے حکمران اشرافیہ کو یہ حقیقت سمجھانی ہے کہ تاریخ اور فطرت کے قوانین اٹل ہوتے ہیں۔ سیاسی اختیار میں عوامی نمائندگی اور ریاستی بیانئے میں ثقافتی، مذہبی اور لسانی تنوع کی قبولیت لازمی ہے اختیاری نہیں۔
پاکستان کی حکمران اشرافیہ اپنی پسند کی اصلاحات نافذ کرنے کیلئے جو بھونڈی دلیل استعمال کرتی آ رہی ہے اس کو اجتماعی طورپر اور اجتماعی قوت ارادی کے ساتھ چیلنج کرنا ہے۔ انکی دلیل عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ صاف، شفاف اور اہل لوگوں کا ایک گروہ جسکو وہ ٹیکنوکریٹ کہتے ہیں انکے ذریعے "عوامی گند" صاف کیا جائے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ نسخہ بار بار استعمال کیا گیا اور نتیجتاً پہلے سے زیادہ "گند" ریاستی اداروں میں جمتا گیا۔ دوسرا آزمایا ہوا نسخہ ابھی تک یہ استعمال کیا گیا کہ اپنے پسندیدہ افراد اور بھانت بھانت کی بولیاں جمع کی گئیں، سیاسی اتحاد بنائے گئے اور انکے ذریعے سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ارتقا میں خلل ڈالا گیا۔
اس میں دو رائے نہیں کہ خود سیاسی جماعتوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ اس لئے کہ مسلسل آمریتوں نے جس طرح سیاسی عمل کو کو منجمد کردیا ہے اس سے سیاسی جماعتیں بھی متاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکیں مگر سیاسی جماعتوں میں اصلاحات کا یہ عمل سیاسی جماعتوں کے اندر سے پھوٹنا چاہئے۔ یہ عمل باہر سے ٹھونسا جائے گا تو یہ مصنوعی اور عارضی ہوگا۔
سیاسی جماعتوں کے اندر دو تین نکات پر مباحثوں کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مثلاً مارشل لائی دور میں آئین کے اندر رٹیکل 62اور 63کو شامل کیا گیا۔ اس پر بحث کی ضرورت ہے۔ اسمبلی کے اراکین کی وفاداریاں جیتنے کیلئے انکو ترقیاتی فنڈز دے دئے گئے اس پر معروضی بحث کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر شفاف انتخابات پر بحث و مباحثے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر اس مباحثے کے آغاز میں جتنی دیر ہوگی، ریاست کی سیاسی ترجیحات کے تعین میں اتنا ہی زیادہ وقت لگے گا۔

Email: [email protected]
Twitter: Khadimhusain4

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *