اتفاق فاؤنڈری پر صاحبان صحافت کا سوئے اتفاق

Untitledکل شب دوجید صحافیوں کا ایک ٹی وی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہو ا۔یہ جید صحافی رؤف کلاسرا اور جناب عامر متین تھے ۔رؤف کلاسراکی رپورٹنگ کو میں نے کبھی آزادانہ اور منصفانہ نہیں سمجھا البتہ ان کے ادبی کالم شوق سے پڑھتا آیا ہوں ۔یہ بات طے ہے کہ رؤف کلاسرا کے اند رایک فکشن رائٹر چھپا بیٹھا ہے جسے رپورٹر رؤف کلاسرا باہر نہیں آنے دے رہا ۔عامر متین کی انگریزی تحریر کا میں بہت مداح ہوں وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کو اہم خبر یا رپور تاژ میں بدلنے کا فن جانتے ہیں مثلاََمجھے فرزانہ راجہ پر ان کی ایک لکھی ہوئی تحریر The Ketchup Girl یاد رہتی ہے ۔
دونوں سینئر صحافی (آج کل صحافی کے القاب میں سینئر نہ لکھا جائے تو غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ سینئر رپورٹر ، سینئر اینکر، سینئر اینا لسٹ وغیرہ ) اتفاق فاؤنڈری کے قرضے اور اس کی واپسی پہ پروگرام کر رہے تھے اور حسب معمول لتے لے رہے تھے ۔ذراغور سے سنا تو معلوم ہوا کہ ان کو اعتراض اس بات پر ہے کہ اتفاق فاؤنڈری کے قرضے مع مارک اپ اور جرمانے وغیر ہ کیوں وصول کئے گئے جب کہ اتفاق فاؤنڈری کی رہن شدہ جائیداد تو ان اصحاب کے بقول کئی گنا قیمتی ہو چکی تھی۔ یقین کیجئے کہ اس استدلال کو سن کر سر پیٹنے کو جی چاہا۔ پھر دل میں آیا کہ liveکال کی جائے مگر پھر سوچا کہ بدتمیزانہ کال کی گنجائش آج کل کے ٹی وی چینلز میں نہیں ہوتی کیونکہ ریکارڈ درست رکھنے کے کسی کو غرض نہیں ، دشنام ریٹنگ بڑھانے کے لئے کافی ہے ۔
حضور اگر جان کی امان اور اختلاف کی اجازت پاؤں تو عرض کروں کہ ماضی میں تو ناقدین کہا کرتے تھے کہ بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر کوڑی بھر جائیداد ان کو تھما دی گئی۔ چلئے اب یہ تو ثابت ہوا اور آپ کی مقدس زبان سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد کم تر نہیں بلکہ قیمتی جائیداد تھی،دوسری بات یہ ہے کہ فرض کیجئے یہ جائیداد آج 100ارب روپے کی ہے تب بھی دنیا میں پاکستان کا کوئی قانون اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ اسے من وعن رکھ لیا جائے بینک کو ہر حال نیلامی ہی کرنا تھی اور وہ صرف اپنا قرض ، تمام برسوں کا سود ،جرمانے ،قانونی اخراجات وغیرہ (جس میں متعلقہ بینک آفیسر کا پٹرول اور چائے پانی تک شامل ہوتا ہے) اور کسی قانون کے تحت منہا کر کے اضافی رقم مالکان کو واپس کرنے کا پابند تھا ۔ بنکوں کے حوالے کرنے کا یہ مطلب کہاں سے نکال لیا گیا ہے کہ تمام تر جائیداد اور اس کی قدوروقیمت کے مالک بھی وہی ہوں گے؟ یہ واضح قانون ہے کہ اگر پانچ ارب ایک روپیہ واجب الادا ہوں تو پانچ ارب ایک روپیہ ہی وصول کیا جائے گا ، پانچ ارب دو روپے بھی نہیں۔
ہم نواز شریف کے وکیل نہیں مگر قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ دشمن سے بھی انصاف کرنا چاہیے۔ اس لئے اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ یہ فاؤنڈری کیسے دیوالیہ ہوئی اور کیسے ایک بحری جہاز سیاسی انتقام کے لئے مہینوں روکا گیا ۔ حد یہ کہ روزانہ اخبارات میں اس کے اشتہار بھی شائع ہوتے رہے مگرنظام انصاف حرکت میں نہیں آیا ۔
آج کل بہت سے بڑے بڑے کالم نگار بھی یہی الزام بول اور لکھ کر دہرا رہے ہیں ۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ قانونی معاملات پہ رائے دینے سے پہلے ازراہ مہربانی کچھ قانون کا مطالعہ فرما لیا کیجئے ۔ جو بات قانونی ہوتی ہے، وہی اخلاقی بھی ہوتی ہے ۔ہمارے ہاں یہ عجیب استدلال عام ہوا ہے کہ صاحب قانون تو ٹھیک مگر یہ غیر اخلاقی بات ہے۔ کسی بات کو اخلاقی یا غیر اخلاقی کہنا قانون وآئین کا منصب ہے ،آپ کا نہیں ۔
کالم کی دم : ویسے فاؤنڈری کی ’’لاگت ‘‘ نہیں ہوتی بلکہ اس کی ’’قیمت یا قدروقیمت ‘‘ ہوتی ہے جسے بہ زبان انگریزی worthکہتے ہیں ۔آج کل تو جس ’’ٹکر‘ ‘ کو دیکھو ایسے لگتا ہے جیسے اسے کسی میٹر ک فیل نے لکھا ہے اور کسی جعلی ڈگری والے کاپی ایڈیٹر نے ایڈٹ کیا ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول جام پور کا چھٹی جماعت کا طالب علم بھی درست اردو جانتا ہے، مگر ٹی وی چینلز سے بھاری تنخواہیں پانے والے نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *