بلوچستان میں ایک اور زلزلہ، مشکے میں تباہی

1337586982800_ORIGINALبلوچستان میں ہفتے کی دوپہر ایک اور شدید زلزلہ آیا ہے جس سے مشکے کے علاقے میں مزید تباہی ہوئی ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق زلزلہ بارہ بج کر چونتیس منٹ پر آیا اور ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت سات اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی ارضیاتی سروے نے اس کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ بتائی ہے۔
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے سینیئر اہلکار ڈاکٹر محمد حنیف کے مطابق زلزلے کا مرکز آواران کے جنوب میں خضدار کا علاقہ تھا اور یہ چھیالیس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ منگل کو آنے والے زلزلے کا آفٹر شاک نہیں بلکہ خود ایک شدید زلزلہ تھا۔
آواران ضلع کے ایڈیشنل ڈی سی او کے مطابق مشکے کے گاؤں نوک جو میں اس زلزلے سے بیشتر مکانات گر گئے ہیں اور متعدد افراد کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشکے میں حالیہ زلزلے سے مزید چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس سے قبل ضلع آواران کے ڈپٹی کمشنر رشید بلوچ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ مشکے میں پہلے سے ہی امدادی کارروائیاں جاری تھیں اور اب متاثرہ علاقوں میں مزید امداد بھیجی جا رہی ہے۔

رشید بلوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ زلزلے سے مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے متاثرہ علاقے سے معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق مشکے کے برعکس ضلعی ہیڈکوارٹر میں اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی تاہم لوگ جھٹکے شروع ہوتے ہی خوفزدہ ہو کر باہر کھلے مقامات پر نکل آئے۔

ان کا کہنا ہے کہ آواران منگل کو آنے والے زلزلے سے تقریباً پورا ہی تباہ ہو چکا ہے اور اب اس زلزلے سے مزید کسی عمارت کے گرنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *