نیاپختونخوا۔۔۔ حکمرانی اور ترقی

khadim hussainآج سے ٹھیک دو سال پہلے جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی تو نوجوانوں کی ایک خاطر خواہ اکثریت نے اس حکومت سے کئی توقعات وابستہ کرلیں۔ توقعات کی ایک بڑی وجہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان کے وہ اعلانات تھے جو انہوں نے خیبر پختونواکے طول و عرض میں بڑے بڑے جلسوں سے خطابات کے دوران کئے تھے۔ اپریل اور مئی 2013 میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بڑے بڑے جلسے منعقد کر سکتی تھیں۔ 'صاف چلی، شفاف چلی' اور "اسلامی انقلاب" کے نعروں کی گونج تحریک طالبان پاکستان کے لئے کوئی قابلِ گردن زدنی جرم نہیں تھا۔ نعروں کی اس گونج میں عمران خان نے تین مہینوں کے اندرمقامی حکومتوں کے قیام، چھ مہینوں کے اندر تمام حکومتی اداروں اور محکموں سے بد عنوانی کے خاتمے، چند ہی مہینوں میں ترقیاتی کام اور صنعتوں کے قیام اور روزگار کی فراہمی، کچھ ہی مدت میں سماجی خدمات جیسے تعلیم ،صحت ،ٹرانسپورٹ اورنکاسی آب کی فراہمی ،پولیس اورپٹوارخانے کی کچھ ہی عرصے میں انقلابی اصلاحات کے خوش کن اعلانات کئے تھے۔
حکومت کے پہلے ایک سال میں خیبر پختونخواہ اسمبلی نے چند ایسے قوانین بنانے کا اعزاز حاصل کرلیاجن کی وجہ سے ملکی سطح پر اسکی تعریف و تو صیف کی گئی۔ ان قوانین میں معلومات تک رسائی کے حق کا قانون، بلدیاتی حکومت کا قانون اور صوبائی احتساب کا قانون شامل ہے۔ سول سوسائٹی کی مسلسل کوششوں کے باوجود تعلیم کے بنیادی حق جو پاکستان کے آئین کی شق(اے ۔25) میں دیا گیا ہے کی قانون سازی نہیں کی گئی۔
کئی اعلیٰ قوانین تو پچھلے حکومت میں بھی بنائے گئے تھے۔ مگر خیبر پختونخوا کے عام لوگ تین حوالوں سے واضح فرق دیکھنا چاہتے تھے۔ پہلا فرق، وہ انتظام یا گورننس کے نظام میں دیکھنا چاہتے تھے۔ دوسرا فرق وہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دیکھنا چاہتے تھے۔ اور تیسرا فرق وہ سماجی خدمات کی دستیابی کے حوالے سے دیکھنا چاہتے تھے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کے واقعات میں یہاں کی تجارت، صنعت و حرفت ،تعلیم و صحت اور روزگار ناقابل یقین حد تک متاثر ہو چکے تھے۔ اس لئے تحریک انصاف نے انتخابی مہم میں جو نعرے لگائے تھے اْن کی وجہ سے لوگوں کے انتظام ،ترقی اور سماجی خدمات کیلئے ایسی توقعات کچھ بے جا بھی نہیں تھیں۔
انتظام کی درستگی کے لئے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ایک غیر رسمی کمیٹی عمران خان کی سرپرستی میں بنائی۔ اس کمیٹی نے مشاورت کاروں کی ایک بڑی تعداد کی خدمات حاصل کر لی۔ لیکن غیر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ جات کی صلاحیت بڑھانے اور اْن کو مربوط کرنے کی بجائے انکو مشاورت کاروں کی سفارشات مرتب کرنے کے عمل سے باہر رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے انتظامیہ اور حکومت کے درمیان ابتداہی سے عدم اعتماد کی فضا قائم رہی۔ صوبے کے باہر سے بھیجے گئے نسخوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جاتا رہا۔ صوبے کی پوری انتظامی مشینری تباہ ہو کر رہ گئی۔ تحریک انصاف کی حکومت کو جب اس صورتحال کا ادراک ہوا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔
اس صورتحال میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار نہ ہونے کی برابر تھی۔ سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹیبیلٹی کی رپورٹ کے مطابق 2014۔15میں سالانہ ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کی گئی رقم کا صرف 45 فیصد حصہ خرچ ہو سکا تھا۔ ثانوی تعلیم کے لئے مختص کئے گئے 19.9ارب روپیوں میں صرف 30فیصد خرچ ہو ئے تھے۔ سڑکوں کی تعمیر کے لئے مختص کئے گئے 17.3ارب میں صرف 7.3فیصد خرچ ہو ئے تھے۔ صحت کے لئے مختص کئے گئے 11.2ارب میں صرف 3.7ارب خرچ ہوسکے تھے۔ اس طرح کی صورتحال تقریباً تمام محکموں کی تھی۔ دو سال گزرنے کے بعد جب عوامی حلقوں کی طرف سے بہت سارے سوالات اْٹھ کھڑے ہوئے تو خیبر پختونخوا حکومت نے دوراستے اپنا لئے۔ پہلا راستہ یہ اختیارکیا کہ میڈیا کے ذریعے قانون سازی کے بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ اور یہ بات مسلسل کہی جانے لگی کہ چونکہ بیوروکریسی میں بد عنوانی بہت ہے۔ اسلئے مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد یہ فنڈز مقامی حکومتوں کو منتقل کئے جائینگے۔ دوسرا راستہ یہ اپنایا گیا کہ جلدی میں بعض ایسے منصوبے شروع کئے گئے تاکہ وہ عام لوگوں کو نظر آئیں۔ اسلئے "صحت کا انصاف"، "تعلیم کا انصاف" اور بعض توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد موٹر وے سے آتے ہوئے جی ٹی روڈ کی مرمت اور صفائی کے بڑے پیمانے پر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی۔
یہ سکیمیں ابھی جاری تھیں کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اگست 2014میں ایک طویل احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور وزراء اور مشیروں کی ایک بڑی تعداد نے اس احتجاجی دھرنے میں مبینہ طور پر صوبے کے بے دریغ وسائل استعمال کئے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت کی پوری توجہ گورننس اور ترقیاتی منصوبوں سے ہٹ کر احتجاجی دھرنے پر ہو گئی۔ صحت کے انصاف کے منصوبے میں مبینہ طور پر کافی گھپلے ہوئے۔ اسلئے یہ سکیم اْٹھ نہ سکی۔ اگرچہ اسکی تشہیر پر صوبے کے کروڑوں کے وسائل خرچ کئے گئے۔ یہی حال تعلیم کے انصاف کے پروگرام کا بھی ہوا۔ تعلیم کے انصاف کا پروگرام صرف چند اضلاع میں شروع ہوا۔ چند سسکیاں لیں اور پھر اسکی جان بھی نکل گئی۔
پن بجلی کے پیداوار کے حوالے سے پچھلی حکومت نے 24منصوبوں کی فیزیبلٹی مکمل کی تھی جس کے لئے0 27.5ارب کی رقم مختص کی گئی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس رقم سے 15ارب نکال لئے۔ جس میں3.4ارب پن بجلی کے لئے مختص کر لئے اور باقی رقم غیر متعلقہ منصوبو ں کے لئے رکھی گئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان رقوم سے ٹھیکداروں کو منصوبوں کی تکمیل سے پہلے ادائیگی کی گئی۔
سپریم کورٹ کے کہنے پر جب آخر کار خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے 30مئی کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائے تو بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ،بے قاعدگیاں اور دھاندلی منظر عام پر آئی۔ ان انتخابات کے نتائج آتے ہی ہزاروں کی تعداد میں امیدواروں نے ریٹرننگ آفیسروں کے ساتھ شکایات جمع کرائی۔ ریٹرننگ آفیسروں اور الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں ان انتخابات کو بے ضابطہ اور بے قاعدہ قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اسطرح کے پر تشدد انتخابات کبھی نہیں ہوئے تھے۔ بعض مقامات پر حکومت کے وزراء کو بیلٹ باکسز چھینتے ہوئے میڈیا نے دکھایا۔ پولیس کے کردار پر کئی سوالات کھڑے ہوئے۔ اور خیبر پختونخوا حکومت کے غیر سیاسی پولیس کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پختونخوا حکومت کے مقامی انتخابات کے حوالے سے مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
بد عنوانی کے خاتمے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اْس میں بھی کوئی جان نہیں رہی۔ اسلئے کہ خیبرپختونخوا میں پولیس بھرتیوں ،تعلیمی فنڈز اور حکومتی فنڈز کے سٹاک میں لگانے کے بڑے بڑے سکینڈل منظر عام پر آئے۔ اسکے ساتھ ساتھ معدنیات میں خرد برد کے الزام میں ایک وزیر کو زیر حراست لیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ کے تقریباً پانچ وزراء یکے بعدیگر بد عنوانی میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے۔
یہ بات اہم ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کا مسلح تنظیموں بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے لئے اگر رویہ ہمدردانہ نہیں تو نرم ضرور رہا ہے۔ اسلئے صوبے کے تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ نے کئی ایک مواقع پر تحریک طالبان کے کمانڈروں کو "بھائی" کہہ کر پکارا۔ صوبائی اسمبلی کے فلور پر افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مدح سرائی بھی خوب زور و شور سے کی گئی۔ تعلیمی نصاب میں جماعت اسلامی کی تجویز کردہ انتہا پسند اور نفرت آمیز مواد کو بھی شامل کیا گیا۔ اس سب کے باوجود بھتہ خوری کے واقعات ،ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور اغوا کاری کے مسلسل واقعات کے ساتھ ساتھ 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول پشاور پر ایک بڑا دہشتگرد حملہ ہوا جس میں درجنوں طلبا ،اساتذہ اور سٹاف کے اراکین شہید ہوئے۔

Email: [email protected]
Twitter: khadimhussain4

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *