غیر تحویل شدہ بچوں کا مقدمہ

roshan laalعید جیسا کوئی تہوار قریب ہو تو غیر آسودہ ماں باپ اپنی ذاتی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر اور خوشحال والدین قیمتی وقت کی قربانی دے کر اپنے بچوں کی خواہشیں پوری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جن بچوں کے والدین زندہ نہیں ہوتے ، ان کی محرومیوں کا اندازہ کرنا مشکل کام نہیں۔ یتیموں کے برعکس کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کے حیات ہونے کے باوجود عید جیسے موقعوں پر خود کو پہلے سے بھی زیادہ محروم محسوس کرتے ہیں ۔ایسے بچوں کی محرومیوں کا احساس یہاں بہت کم لوگوں کو ہے۔ اس طرح کے بچوں کو اگر کوئی ان کی محرومیوں سمیت دیکھنا چاہے تو وہ کسی گارڈین جج کی عدالت کی راہداریوں میں جاکر ایسا کر سکتا ہے۔ گارڈین عدالتوں میں کہیں کسی بچے کا دل ہاتھوں میں نئے کپڑے ،جوتے اور کھلونے لیے کھڑے اپنے ماں یا باپ سے لپٹنے کے لیے مچل رہا ہوتا ہے مگر مخالف فریق کی تحویل میں ہونے اور اس کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اپنی خواہش پوری کرنے کی بجائے وہ کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا نظر آتا ہے۔کہیں کوئی بچہ ضبط کے بندھن توڑ کر اور اس خوف کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ اس کو تحویل میں رکھنے والا ماں یا باپ گھر واپس لے جاکر اس کا کیا حال کرے گا ، روتا، مچلتا اور تڑپتا ہوا دکھائی دیتا ہے تا کہ چند قدم دور کھڑے والد یا والدہ کے گلے لگ سکے۔ جن بچوں کو عدالتی حکم ماننے کی حجت پورا کرنے کے لیے احاطہ عدالت میں محدود وقت کے لیے والدین میں سے کسی ایک سے ملنے دیا جاتا ہے ،وہ بچے ملاقات کا وقت ختم ہونے پر ایک فریق کی طرف سے دیئے گئے تحفے ہاتھوں میں لیے ہوئے اپنے ماں یا باپ کو بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے عدالتی حدود سے باہر جا رہے ہوتے ہیں کہ عدالت کی حد ختم ہوتے ہی مخالف فریق یا اس کے متعلقین بیدردی سے بچوں کے ہاتھوں سے کپڑے ، جوتے اور کھلونے چھین کر دوسرے فریق کو حقارت سے دیکھتے ہوئے سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ ان تحفوں کو دوبارہ پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بچوں کو کوئی گاڑی اپنے اندر سمیٹتی ہوئی آنا فاناً نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھر بیٹھے اپنے ماں یا باپ سے آئندہ ملنے کی تاریخ کا اس وجہ سے انتظار کرتے رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں بتائے بغیران کے والدین میں سے کسی ایک کا وکیل کسی جھوٹے بہانے کی بنیاد پر عدالت کو اپنے مؤکل کے حاضر نہ ہونے کی اطلاع دے دیتا ہے۔ کسی گارڈین جج کی عدالت کا سب سے دردناک منظر یہ ہو تا ہے کہ جب کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں سے اس وجہ سے بات نہیں کرتا اور اسے نفرت بھر نظروں سے دیکھتا ہے کیونکہ ایک فریق نے دوسرے کے خلاف اس کے کانوں میں ناقابل ٰیقین حد تک زہر بھر دیا ہوتا ہے۔
مذکورہ اور اس سے ملتے جلتے مناظر صرف تہواروں پر ہی نہیں عام دنوں میں بھی گارڈین ججوں کی عدالتوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسے مناظر کا لازمی حصہ بننے والے بچوں کے بارے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بیان کردہ ماحول اور حالات کی وجہ سے ان کی شخصیت پر کس قدر مضر اور منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جن بچوں کے ماں باپ کے درمیان طلاق ہو جاتی ہے ان کا نفسیاتی مسائل کا شکار ہونااور ان کی شخصیت کا تباہ ہونا لازمی امرہوتا ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔ طلاق کے واقعہ کو اگر دو انسان اور ان کے خاندان مسلسل دشمنی کی بنیاد نہ بنائیں تو بچوں کو طلاق کے منفی اثرات سے بہت حد تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں اکثر طلاق کی وجوہات ایک انسان کا دوسرے انسان کی ذات اور شخصیت کو زیر تسلط رکھنے کی کوشش کرنایا ایسی کوششوں کی ناکامی ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات جب میاں اور بیوی کی ایک دوسرے پر قبضہ کرنے کی کوششیں ناکامیوں کے بعد طلاق پر منتج ہو تی ہیں تو پھر ان کے قبضہ کرنے کی مشق کا شکار ان کے اپنے بچے بن جاتے ہیں۔ والدین کی اس طرح کی کوششوں کی وجہ سے ان کے بچے شدید ذہنی دباؤ کا شکارہو جاتے ہیں۔ طلاق کے بعد بھی باہم متحارب رہنے والے والدین کا اپنے بچوں سے تعلق کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ طلاق کے بعد بچہ ماں یا باپ میں سے جس کے ساتھ بھی رہے یہ بات طے ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک ساتھ اس کاتعلق کمزور اور دوسرے کے ساتھ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ طلاق کے بعد والدین کی دعویداری کی وجہ سے بچے ذہنی کشمکش کا شکار تو ہوتے ہی ہیں مگر طلاق سے پہلے لڑائی جھگڑوں پر مبنی عبوری دور کے دوران ہی ان پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
مذکورہ باتوں کا مقصد طلاق کے حق پر کسی قدغن کا نفاذ ہرگز نہیں ۔ طلاق صرف معاشرے کے لیے ہی ناپسندیدہ عمل نہیں بلکہ کشیدہ حالات میں زندگی گذارنے والے میاں بیوی کی بھی پہلی خواہش ہر گز نہیں ہوتی۔ نامساعد حالات میں طلاق کا حق استعمال کرنے میں نہ معاشرہ ، نہ مذہب اور نہ ہی قانون رکاوٹ ڈالتا ہے۔ البتہ اپنے ذہنی سکون اور شخصی آزادی کے لیے یہ حق استعمال کرنے والوں سے ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی تہذیب یہ تقاضا ضرور کرتی ہے کہ کوئی پسندیدہ یا ناپسندیدہ حق استعمال کرتے ہوئے اس بات کا خیال ضرور رکھا جائے کہ ان کے بچوں کے حقوق ان کے کسی عمل سے ہر گز نہ متاثر ہوں۔ اگر کسی بچے کے والدین زندہ ہیں تو ان کے طلاق یافتہ ہونے کے باوجود یہ اس کا حق ہے کہ اسے دونوں کی توجہ ، نگہداشت اور قرب حاصل ہو۔ ترقی یافتہ معاشروں میں تو یہ احساس بہت پہلے سے اجاگر ہو چکا ہے کہ طلاق یافتہ ہونے کے باوجود ماں اور باپ کو بچوں کی طرف واجب اپنے فرائض ہر صورت ادا کرنے چاہئیں اور علیحدہ علیحدہ زندگی گذارنے کے باوجوداس سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون بھی کرنا چاہیے۔بدقسمتی سے پاکستانی سماج میں ابھی تک طلاق یافتہ والدین کی اکثریت اپنے بچوں کی بہبود کے لیے اس طرح کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی ۔ اس سلسلے میں اچھی خبر یہ ہے کہ طلاق حاصل کر چکے کچھ باشعور والدین نے جب اپنے بچوں کو گارڈین جج کی عدالتوں کی راہداریوں میں خوار ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے محسوس کیا کہ بچوں کو صرف اور صرف اپنی تحویل میں لینے کے لیے عدالتی لڑائیاں لڑنے کی جگہ ایسا بہتر راستہ بھی اپنایا جاسکتا ہے جس پر چلتے ہوئے علیحدہ علیحدہ رہ کر بھی دونوں ،ماں اور باپ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتے ہیں۔ محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن پاکستان میں یہ کام شروع ہو چکا ہے ۔ اس کام کو شروع کرنے والے طلاق یافتہ والدین نے اپنے مثبت طرز عمل کو روایت کے طور پر آگے بڑھانے کے لیے مائی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی ہوئی ہے۔ اس تنظیم کے کام اور پیغام کے فروغ کے لیے میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *