نواز شریف کا پیس آفینسو

14 OLYMPUS DIGITAL CAMERAسال بعد وزیرِ اعظم نواز شریف ایک بار پھر عالمی برادری سے مخاطب تھے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ان کے خطاب پر برصغیر ہی نہیں، دنیا بھر کے کان اور نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان کے خطاب کیلئے یہ اشتیاق بلاوجہ نہیں تھا۔ پاکستان اور بھارت ، برصغیر کے یہ دونوں ملک اب ایٹمی طاقت ہیں۔ ان میں دو مکمل جنگیں (Full Scale wars )ہو چکی ہیں۔ 9 ہفتے جاری رہنے والی کارگل کی جنگ اس کے علاوہ ہے۔ سرحدی جھڑپوں کی تعداد تو بے شمار ہے۔ انہی دنوں کنٹرول لائن پھر خاصی گرم ہو گئی تھی۔ ہندوستانی قیادت خصوصاً انڈین میڈیا نے پاکستان دشمن جذبات بھڑکانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان دنوں وہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات زیادہ دور نہیں۔ بی جے پی نے احمدآباد کے مسلم کش فسادات (2002) والے نریندر مودی کو وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے جنہیں مہذب دنیا دہشتگردوں کے سرپرست کے طور پر جانتی ہے چنانچہ انکی راجدھانی انڈین گجرات میں 2002 کی مسلم نسل کشی کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت بعض مہذب ممالک نے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی ۔ ہندوستان میں مسلم کشی کی تاریخ، تقسیم کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی بلکہ اس سے بھی قبل، 1946 میں بہار کے مسلم کش فسادات اسکی ایک مثال ہیں جس کے بعد انگریز بھی یکسو ہو گیا کہ اب تقسیم کے سوا کوئی چارہ ٔکار نہیں۔ لیکن 2002 میں تو گجرات میں وحشت اور بربریت کے ایسے مناظر سامنے آئے جو اس سے قبل آسمان کی آنکھ نے دیکھے، نہ دنیا نے کبھی سنے تھے۔ تب فسادی تیل کے ڈبے لیکر نکلتے، انہیں نہتے مسلمانوں پر چھڑکتے اور تیلی لگا کر رقصِ بسمل سے لطف اندوز ہوتے۔ وحشت کا یہ کھیل کئی روز جاری رہا۔
فسادات تھمے تو دہلی سے ایک اعلیٰ سطحی وفد حقائق کا جائزہ لینے احمد آباد پہنچا جس میں کیفی اعظمی کی صاحبزادی، معروف شاعر جاوید اختر کی اہلیہ، بالی ووڈ کی ممتاز اداکارہ اور تب رکنِ پارلیمنٹ شبانہ اعظمی بھی شامل تھیں۔ وحشت کا سیلاب اتر گیا تھا لیکن تباہی کے آثار باقی تھے۔ وہ جن کے پیارے درندگی کا شکار ہو گئے تھے ، قیامت کی داستانیں سنا رہے تھے۔ شبانہ میں مزید دیکھنے سننے کی تاب نہ رہی تو وہ راستے ہی سے لوٹ آئیں۔ ان کے دل و دماغ میں دکھ کا طوفان موجزن تھا۔ ہوٹل پہنچتے ہی وہ استقبالیہ کے سامنے صوفے پر گر گئیں۔ ہذیانی کیفیت میں وہ چیخ رہی تھیں، انہیں محض اس لئے مار دیا گیا کہ وہ مسلمان تھے؟ یہی مودی اب ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار ہے اور صرف پاکستان ہی نہیں، خود ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھا رہا ہے۔ یوپی کا مظفر نگر، گجرات کا احمد آباد بن گیا ہے۔ ہندوستان کے مین اسٹریم میڈیا میں درندگی کی داستانیں اس لئے مناسب جگہ نہیں پاتیں کہ اس سے انڈیا کا سیکولر چہرہ بے نقاب ہوتا ہے البتہ وہاں کا مسلم پریس ان واقعات کو بساط بھر سامنے لا رہا ہے۔ اردو اخبار روزنامہ انقلاب کے حالیہ شمارے میں بدر قاسمی کی رپورٹ پڑھنے کے لئے پتھر کا دل چاہیے۔ ایک اور بھارتی صحافی محمد علیم اللہ اصلاحی کی رپورٹ پڑھنے کے لئے بھی فولاد ی اعصاب درکار ہیں۔ ہزارہا مسلمان کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے پاس لہو رلانے والی کہانی ہے۔
سیکولر کانگریس بھی اپنے ہم وطن مسلمانوں کے ساتھ ’’حسنِ سلوک ‘‘ کی کوئی اچھی تاریخ نہیں رکھتی اور اب تو اسے مودی اور اس کے رفقا کی جارحانہ انتخابی مہم کا سامنا بھی ہے۔ چنانچہ اسکا اثر صدر اوبامہ سے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی گفتگو اور جنرل اسمبلی میں ان کے خطاب میں بھی نظر آیا جس میں انہوں نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا اور الزامات کے گولے برسائے۔ بڑے میاں سو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ ہندوستانی وزیرِ خارجہ سلمان خورشید بھی پیچھے نہ رہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات سے کچھ ہی پہلے وہ شرارت سے باز نہ آئے۔ انہوں نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا اور ان پر نواز شریف کی امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگا دیا۔
نواز شریف مزاح کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ صدر اوبامہ سے ملاقات میں وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی پاکستان کے خلاف شکایات پر نواز شریف کا تبصرہ چاہا گیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے اسے ’’دیہاتی بڑھیا‘‘ (لگائی بجھائی کرنے والی) کے مماثل قرار دے دیا۔ آف دی ریکارڈ یہ ریمارکس میڈیا میں آگئے تو پاک، ہند امن کے مخالف انڈین میڈیا کے ایک حصے کو پاکستان کے خلاف ’’ہائپ‘‘ پیدا کرنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ ادھر مودی کے دل میں بھی منموہن کے لئے احترام کا جذبہ جاگ اٹھا۔ وہ اسے سوا ارب ہندوستانیوں کے وزیرِ اعظم کی توہین قرار دے رہے تھے۔ منموہن یوں تو اپنی دوسری ٹرم میں بھی عملاً ایک ڈمی پرائم منسٹر ہی ہیں کہ طاقت کا اصل منبع سونیا جی ہیں اور اب تو انتخابات سر پر ہونے کی وجہ سے ان کی حیثیت ویسے بھی Lame Duck سے زیادہ نہیں۔ رہی سہی کسر راہول گاندھی نے پوری کر دی جو وزیرِ اعظم منموہن سنگھ اور ان کی کابینہ پر برس پڑے۔
ادھر نوازشریف کی انگلیاں دنیا کی نبض پر ہیں۔ خطے میں امن کی فضا ان کی اپنی مخلصانہ خواہش بھی ہے کہ اس کے بغیر برصغیر کے عوام کی خوشحالی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
ہندوستان کے جواب میں پاکستان کے ایٹمی دھماکے قومی وقار کا تقاضہ بھی تھے اور خطے میں امن کو برقرار رکھنے کی ضمانت بھی ۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آج کی دنیا معیشت کی دنیا ہے۔اب مقابلہ معیشت کے میدانوں میں ہے۔ برصغیر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لئے بہت بڑی منڈی ہے۔ چنانچہ ایک پر امن برصغیر ان کی بھی دلی آرزو ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کی طرف سے امن کی بات دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کا باعث بنتی ہے۔ آپ اسے نواز شریف کا پیس انیشی ایٹو کہہ لیں یا پیس آفینسو۔ سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کو ہندوستان پر اخلاقی برتری دلاتا ہے۔ ہندوستانی قیادت کو بھی اس کا بخوبی احساس ہے چنانچہ وزیر اعظم منموہن سنگھ، با دلِ نخواستہ ہی سہی، وزیر اعظم پاکستان کی میزبانی پر مجبور ہوئے۔
جنرل اسمبلی سے نواز شریف کا خطاب ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کے شایانِ شان تھا۔ اسے عالمی حلقوں نے بھی ایک سیاستدان سے زیادہ ایک مدبر کا خطاب قرار دیا۔ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ اتوار کی شب ہم ’’جیو تیز‘‘ اور اے بی پی نیوز انڈیا کے اشتراک سے ہونے والا پاک بھارت ٹاکرا دیکھ رہے تھے۔ اے بی پی پر وقفے کا دورانیہ تھا لیکن جیو پر پاکستانی پینل کی گفتگو جاری تھی۔ اینکر نے نیویارک میں نواز شریف کی سرگرمیوں اور جنرل اسمبلی سے ان کے خطاب پر شیخ رشید (جی ہاں لال حویلی شیخ صاحب) کا تبصرہ چاہا تو انہیں یہ کہنے میں یہ عار نہ تھا کہ یہ بلاشبہ ایک مدبّرکا خطاب تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *