شیطانِ بزرگ اور پیر تسمہ پا میں معاہدہ ؟

razi ud din raziشیطان بزرگ امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہونے والے ایران کے تاریخی معاہدے پر ہمیں حیرت کا اظہارنہیں کرناچاہیے۔اور نہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ ایک طویل نورا کشتی کامنطقی انجام ہے ۔ہمیں تو اس بات پر اطمینان کااظہارکرنا چاہیے کہ انسانیت کی موت کا سامان مہیاکرنے والی قوتوں میں ایران بھی اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ لوگوں کا کیا ہے وہ تو الزامات عائد کرتے ہی رہتے ہیں۔معترضین تو بہت پہلے کہہ رہے تھے کہ مرگ برامریکہ کے نعرے دل سے نہیں لگائے جا رہے۔امریکہ اور ایران کی محاذ آرائی کے چشمِ فلک نے کئی رنگ دیکھے۔انقلاب ایران کے بعد سے بارہا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایران پر بہت برا وقت آنے والا ہے لیکن یہ ایران کی کامیابی تھی کہ اس نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی بھی جاری رکھی اور درون خانہ دوستی کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے رکھا۔ عراق کے خلاف جنگ میں امریکا سے ہتھیار بھی خریدے اور اسلام کا پرچم بھی اٹھائے رکھا۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کو ایٹمی تنصیبات کامعائنہ بھی کرایا اور اپنی خودمختاری کا ڈھول بھی بجایا۔ حاسدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ایران کی شیطانِ بزرگ امریکہ کے ساتھ واقعی کوئی محاذ آرائی ہوتی تواس کاانجام بھی عراق اورلیبیا جیسا ہوتا کہ امریکہ کے ساتھ جس کی بھی حقیقی لڑائی ہوئی اسے دنیا کے لئے عبرت کی مثال بنا دیا گیا۔ ایسے ممالک کے حق میں نہ عالمی برادری کا شور و غوغا کام آیا اور نہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر کان دھرا گیا۔ خیر اس الزام پر کیا بات کریں کہ ہم بہت سی نورا کشتیوں کے عادی ہوچکے ہیں۔سو عالمی سیاست کوبھی پاکستان کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے تو نورا کشتی کی سب سے بڑی مثال الطاف حسین کے بیانات ہیں ۔سالہاسال سے ان پر غداری کے بے شمار مقدمات بنتے ہیں لیکن مجال ہے کہ جو ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی ہوئی ہو۔ ہمارے ہاں حقیقی غدار اسے ہی سمجھا جاتا ہے جو محب وطن ہو ۔ حب الوطنی کاسرٹیفکیٹ تقسیم کرنے والوں کی مرضی ہے کہ کسے تختہ دار پر لٹکائیں اور کس کے ساتھ نورا کشتی جاری رکھیں۔
ارے ۔۔۔ پیر تسمہ پا کا ذکر باقی رہ گیا۔ سند باد جہازی کی مہمات کی کہانیاں آپ نے بھی پڑھ رکھی ہوں گی۔ میں نے اسکول کی کتابوں میں پڑھی تھیں۔ ان کہانیوں میں ایک بڈھا فرتوت کردار تھا جو بظاہر انسانی ہمدردی کے نام پر مدد مانگتا تھا مگر ایک دفعہ اپنے شکار کی گردن پر سوار ہو جاتا تو اپنی ٹانگوں سے ایسی گرفت کرتا کہ اسے اپنا غلام بنا لیتا تھا۔ سنا ہے ایران کے لوگ آج کے پیر تسمہ پا کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ سوال یہ کہ اب مغربی ممالک ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں گے یا شیطان بزرگ کا ہیولہ اور پیر تسمہ پا کا سایہ ایٹمی معاہدے کی دستاویز پر ایک دوسرے سے گھل مل کر ایرانی عوام کے ڈراؤنے خواب کو مزید طویل کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *