آزاد میڈیا ۔۔۔ یا بی جمالو؟

ASIF MEHMOODایان علی کی رہائی کا وقت تھا، وہ ابھی جیل میں تھیں اور جیل کے باہر آزاد میڈیا جملہ اعضائے ریئسہ کی ساری قوت لگا کر چیخ رہا تھا’’ ہے جمالو‘‘۔چینل تبدیل کیا وہاں بھی یہی منظر تھا، ایک بی جمالو مائیک پکڑے عالم وجد میں تھی’’ ہے جمالو‘‘۔اگلا چینل لگایا ، وہاں بھی وہی شور تھا’’ ہے جمالو‘‘۔چینل پر چینل بدلتا گیا، ڈھیروں بی جمالو دھمال ڈالے ہوئے تھیں اور ایک ہی صدا تھی’’ ہے جمالو‘‘۔
جی میں اس وقت اڈیالہ جیل کے گیٹ کے سامنے کھڑا ہوں ابھی ایان علی یہاں سے نکلیں گی۔۔۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
جی یہ میرے پیچھے ایان علی باہر آتی دکھاتی رہی ہیں انہوں نے فلاں رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں،غور سے دیکھیے وہ تین دفعہ مسکرائی بھی ہیں۔۔۔۔ہے جمالو۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایان علی کا قافلہ جیل سے روانہ ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
جی ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ ایان علی نے گاڑی میں تین جماہیاں لی ہیں۔۔۔۔ہے جمالو۔
ایان علی کی گاڑی اس وقت فیض آباد چکی ہے۔میں آپ کو بتاتا چلوں ایان کی گاڑی اس وقت سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
ڈھیروں بی جمالو ایک ساتھ، دھمال اور شور۔۔۔ ہے جمالو، میں نے سوچا اس انسپکٹر کے گھر کا عالم کیا ہو گا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ایان علی کے لیے تو لطیف کھوسہ صاحب خصوصی شاپنگ کی نوید دے رہے تھے، عید پر مر حوم انسپکٹر کے بچوں سے بھی کوئی پوچھے گا۔ ’’ تمہیں کسی نے عیدی دی؟ تمہیں نئے کپڑے پہننے کو ملے کہ نہیں ۔۔۔ ‘‘ ذہن میں آندھی چل رہی تھی۔آ زاد میڈیا باجماعت دھمال ڈالے ہوئے تھا ’ہے جمالو‘۔
کیا وجاہت مسعود بتائیں گے، یہ کس کا شعر ہے؟
دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف
قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *