خبر سے بریکنگ نیوز تک

khadim hussainچشم تصور سے خود کو روزنامہ زمیندار ، روزنامہ انقلاب اور ہفت روزہ چٹان پڑھتے ہوئے دیکھئے ۔ آنکھیں بند کر کے آل انڈیا ریڈیو، ریڈیو پاکستان اور بی بی سننے کی کوشش کیجئے۔ اور پھر آپ وقت کے شانے پر سوار برق رفتاری سے آٹھ دہائیوں کا سفر طے کرکے پاکستان کے کسی شہر کے ایک آراستہ ڈرائنگ روم میں اپنے آپ کو براجمان پاتے ہیں۔ آرام دہ صوفے پر بیٹھے بیٹھے آپ سامنے دیوار پر لگے ایل سی ڈی اور اپنے ہاتھ میں پکڑے ریموٹ کنٹرول کو دیکھتے ہیں۔ اچانک جنگی موسیقی بجتی ہے۔ بریکنگ نیوز۔ آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور تمام خیالات کو مجتمع کرکے سامنے دیوار پر لگے ایل سی ڈی سے فٹ کئے گئے ٹی وی سکرین کی طرف دیکھتے ہیں۔ دل کی حرکت تیز ہوجاتی ہے۔ ہلکا ہلکا پسینہ آنے لگتا ہے اور بریکنگ نیوز کے بڑے گول دائرے کی طرف آنکھ جھپکے بغیر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ چند سیکینڈ کے لئے آپکی سانس بند ہوجاتی ہے۔ پھر نیوز کاسٹر نمودار ہوجاتی ہے۔ ’’شیخوپورہ میں بجلی کے پول کے ساتھ گدھا ٹکراکر بے ہوش۔ ناظرین بریکنگ نیوز یہ ہے کہ شیخوپورہ میں بے خبر گدھا جب بجلی کے پول سے ٹکرایا تو گدھا بے ہوش ہوگیا۔‘‘
یادش بخیر ایک زمانہ تھا جب الیکٹرانک میڈیا کی یلغار اور بریکنگ نیوز نے ڈرائنگ رومز میں تلاطم برپا نہیں کیا تھا تو معروضیت کی بنیاد پر ادارت کے معیار کو پرکھا جاتا تھا۔ جب خبر، خبر پر تبصرہ اور تجزیہ نگار کی رائے کو الگ الگ سمجھا جاتا تھا۔ جب کسی خبر کو مقابلتاً اتنی ہی جگہ اور وقت ملتا تھا جتنی خبر کی اہمیت ہوتی تھی۔ پچھلی ایک دہائی میں خبر سے بریکنگ نیوز تک کے سفر نے اجتماعی نفسیات کو خبر، معلومات اور تجزیہ اور تحلیل کی بجائے بے وقعتی (Trivialization) کا مریض بنادیا۔
پاکستان کی پوری تاریخ میں بالعموم اور پچھلی ایک دہائی میں بالخصوص استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اور صحافت نے تین طرح کے رجحانات کو پروان چڑھایاہے۔ پہلا رجحان یہ ہے کہ عوامی امنگوں، پسے ہوئے طبقات اور پیچھے رہ جانی والی قومیتوں کو اختیار اور ترقی سے باہر رکھنے کے اشرافی بیانئے کے تراشنے میں مدد کی ہے۔ خبروں میں مناسبت وقت کے حوالے سے ، شبیہ تراشنے کے حوالے سے اور انکے مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے پاکستان کے درماندہ درگاء عوام کی نمائندگی ذرائع ابلاغ میں یا تو منفی طور پر نظر آتی ہے یا پھر قطعی طور نظر نہیں آتی۔ گویا کہ پاکستانی صحافت عمومی طور پر اشرافیت پسند واقع ہوئی ہے۔
سطحی مذہبیت کا وہ دوسرا رجحان ہے جسے پاکستان کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ نے پروان چڑھایا ہے۔ اس رجحان کے ذریعے شاید ثقافتی تنوع اور مقامیت کو یکسانیت میں تبدیل کرنا تھا جو کہ ایک غیر فطری عمل ہے۔ اس غیر فطری عمل سے ’’وحدت فکر‘‘ کی بجائے مرکز گریز قوتیں پروان چڑھیں۔ دوسری طرف پاکستانی سماج پاپائیت کے نرغے میں آکر تکثیریت کی تمام اقدار رفتہ رفتہ کھورہا ہے۔
تیسرا رجحان جو پاکستانی میڈیا کے توسط سے پروان چڑھا وہ ایک مضبوط اور طاقتور حکمران کا تصور ہے جو چشم زدن میں سب کچھ ٹھیک کرکے واپس چلا جائے گا۔ کسی نجات دہندہ ہستی کا یہ تصور ایک طرف اجتماعی ذمہ داریاں قبول نہ کرنے کی نفسیات اور قوت ارادی کی نفی کی طرف لے گیا اور دوسری طرف آمریت کی قدریں راسخ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے متعارف ہونے کے بعد ایک اور رجحان نے بھی ذرائع ابلاغ کی صنعت کو معیار سے گرادیاہے۔ وہ ہے بے لگام منافع پسندی اور تجارتی مفادات جنہوں نے الیکٹرانک میڈیا کو باخبر رکھنے کی بجائے بے خبر رکھنے پر مجبور کردیاہے۔اگرچہ پیمرا کی شکل میں ایک ادارے کو یہ فرض بھی سونپ دیا گیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں نظم و ضبط لانے کا کردار اداکرے۔کئی برسوں سے صحافت سے وابستہ تنظیموں کی طرف سے بھی گاہے بگاہے ضابطہ اخلاق تیار کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں 2013ء میں ایک میڈیا کمیشن بھی بنا جس کی رپورٹ بھی چھپ چکی ہے مگر ابھی تک ضابطہ اخلاق پر اتفاق تک نہیں ہوا، اس پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔
پچھلے ہفتے پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان ضابطہ اخلاق بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ اقدام خوش آئند بھی ہے اور ضروری بھی۔ آئین کے آرٹیکل 19 کے عطا کردہ حق اظہار کی حدود میں رہ کر الیکٹرانک میڈیا کیلئے ایسے ضابطہ اخلاق کی شدید ضرورت ہے جس کے ذریعے میڈیا کو بے لگام منافع پسندی، بے وقعتی، موضوعیت، اشرافیت پسندی، آمریت پسندی اور پاپائیت کے استحصال سے نجات دلائی جاسکے۔ تب ہی پاکستانی صحافت صحیح معنوں میں اعلیٰ معیار کی طرف سفر شروع کرے گی۔

Email: [email protected]
Twitter: Khadimhussain4

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *