ٹیلی ویژن ان کا اور ہمارا

majid siddiquiمنظر پہلا۔
یہ منظر آپ کو بیرونی دنیا کے ٹی وی چینلز پر نظر آئے گا۔خاص طور پر نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوریز پر۔جہاں پر علم اور تحقیق اور عقل اور استدلال کی باتیں ہوتی نظر آئیں گی۔ کوئی انسان قدرت کے نظام میں چرند پرند کی نقل وحرکت سے لیکر ان کی عادات اور اطوار پر روشنی ڈالتے نظر آئے گا۔کوئی آپ کو ایوی ایشن کے کارناموں میں مصروف نظر آئے گا۔ کوئی پہاڑوں کی اونچایوں پر جھنڈے گاڑتا ہوا تو کوئی سمندر کی گہرائیوں میں جھانکتا ہوا نظر آئے گا۔ کسی کو یہ پریشانی لاحق ہوگی کہ وہ کسی طرح مہلک بیماریوں کی علاج ڈھونڈ نکالے، جس سے انسان کی موجودہ اور آنے والی نسلیں محفوظ رکھیں جاسکیں۔ غرض یہ کہ انسانوں کے کئی گروہ آپ کی اس دنیا میں جیتے جاگتے اور اس سے محبت کرتے ہوئے نظر آئینگے اور اسے مزید شاندار، مضبوط،Majid 1 مربوط اورصحت مندبنانے میں مصروف نظر آئیں گے۔ اصل میں یہی وہ انسان ہیں جو اس دنیا میں جینے والے باقی انسانوں کی ترقی، ان کے محفوظ مستقبل اور ان کی آنے والی نسلوں کیلئے علم اور عقل کا مزید سامان مہیا کرنے پر مامور ہیں۔

منظر دوم
یہ منظر آپ کوآج کل تقریباً تمام پاکستانی ٹی وی چینلز پر چوبیس میں سے بارہ گھنٹے نظر آئے گا۔ جہاں کوئی جاہل ترین شخص چندعقل اور علم سے دور نام نہاد علامہ لوگوں کے ساتھ مل کر استدلال سے ماورا باتیں کرتے ہوئے پایا جائے گا۔ ساتھ ساتھ کسی کو واشنگ مشین، کسی کو جوسر بلینڈر، کسی کو موٹر سائیکل تو کسی کو گاڑی دیکر تماشہ پر تماشہ ہورہا ہوگا۔اسی پروگرام کے آغاز میں اسلام میں تزکیہ نفس کی اہمیت پر روشنی ڈالی جارہی ہوگی اور سادہ زندگی گذارنے کا درس دیا جارہا ہوگا جبکہ ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہنوں میں حرص اور لالچ کا بازاربھی گرم کیا جارہا ہوگا۔ میں نے یہ پروگرام چلتے پھرتے دیکھے ہیں۔ کیونکہ اس جاہل معاشرے میں ، جہاں علم، عقل اور استدلال کے لئے کوئی جگہ نہیں، ان پروگراموں کو بہت پسند کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے ظاہر ہے ریٹنگ دباکر آتی ہے اور ٹی وی چینلز مزید مالامال ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے۔ لوگ کسی بھی چیز کی حصول کی خاطر خاص طور موٹر سائیکل اور کار کے لئے توکوئی بھی حد تک جانے کے لئے تیا ررہتے ہیں۔جن کو مل جاتی ہیں، وہ پروگرام کے آغاز میں تزکیہ نفس اور سادگی پر ہونے والی اپنی ہی سبحان اللہ کو بھول بھال کر خوشی سے پھٹ پڑنے کے قریب ہوتے ہیں، جن کو نہیں ملتیں، وہ حرص اور حسد کی آگ میں جلتے ہوئے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ جبکہ اپنے ٹی وی سیٹس پر یہ عجب تماشہ دیکھنے والے ٹھنڈی آہیں بھرتے اور کسی دن اسی طرح کوئی موٹر سائیکل یا کار یا کچھ بھی جیت کر گھر واپس لوٹنے کی لالچ اور خواہش کو فی الحال دل میں دبالیتے ہیں اور اس جاہل معاشرے میں ایسے ہونے والے تماشوں کی تعریف کرتے تھکتے نہیں۔
Majid 2آج ہم جس دنیا میں جیتے ہیں ، وہ ان لوگوں نے بنائی ہے، جو علم اور عقل کی باتیں کرنے کے عادی ہیں۔ جنہوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں تحقیق اور ایجادات کا ایسا جہان پیدا کیا ہے، جو جدید بھی ہے اور شاندار بھی۔ فی زمانہ ہم جس دور میں زندہ ہیںیا ہماری آنے والی نسلیں جن زمانوں میں زندہ ہوں گی۔ آج اور ان تمام زمانوں پر ان عاقل اور عالم لوگوں کا راج ہوگا۔ آج کی دنیا کے سارے مظاہر اس سائنسی دنیا کی پیداوار ہیں۔ اس تحقیق اور تعلیم کی پیداوارہیں، جو اس دنیا سے پیار کرنے اور اسے مزید نکھارنے پر مامور ہوچکی ہے۔آپ سب کو یاد دلادوں کہ ہمارے گھر ہوں، ان میں رکھی اشیا ہوں۔ سمندروں پر تیرتے پانی کے جہاز ہوں، ہواؤں میں اڑتے آواز سے بھی تیز رفتار جہاز ہوں،ریل گاڑیاں، سڑکیں، ان پر دوڑتی موٹریں،ٹی وی، ریڈیو، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور نجانے کیا کیا۔ جناب والیٰ ، یہ کسی کوتاہ نظر حضرت، جناب، محترم، علامہ یا مولانا نے نہیں بلکہ تحقیق اور علم کے شائقوں نے بنائے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ہم آخر کب تک جہالت کے جہان میں زندہ جاوید رہنے کے دعوے کرتے رہیں گے اور دنیا آگے،مزید آگے نکلتی چلی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *